فتوے
بیٹا،بیٹی،بہو،پوتا،پوتی (مناسخہ)
سوال
: ہماری والدہ مرحومہ شمیمہ بانو کا انتقال 2022ء میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں دو بیٹے (طارق،خالد)اور تین بیٹیاں(سلمیٰ زرین،روشن ناز،زیبا محمود ) حیات تھیں:
پھر روشن ناز کا انتقال ہوا 2022 میں (یہ غیر شادی شدہ تھیں)
پھر سلمیٰ زرین کا انتقال ہوا 2025 میں (یہ بھی غیر شادی شدہ تھیں)
پھر خالد احمد کا انتقال ہوا 2025 میں (خالد کے ورثاء میں ان کی بیوہ زرقا،بیٹا محمداور بیٹی جویریہ شامل ہے)
اب آپ سے سوال یہ ہے کہ مرحومہ شمیمہ بانو کی جائیداد کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اب ان کے موجودہ ورثاء میں ان کا بیٹا(طارق)بیٹی (زیبا محمود) مرحوم خالد کی بیوہ (زرقا) اور مرحوم خالد کا بیٹا(محمد) اور اس کی بیٹی (جویریہ) ہیں ،ان سب ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل:محمد طارق
جواب
صورت مسؤلہ میں مرحومہ شمیمہ بانوکے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کے دو بیٹے (طارق،خالد)اور تین بیٹیاں(سلمیٰ زرین،روشن ناز،زیبا محمود ) حیات تھیں،پھر اس کے بعد روشن ناز کا انتقال ہوا(اور یہ غیر شادی شدہ تھیں)پھر اس کے بعد سلمیٰ زرین (یہ بھی غیر شادی شدہ تھیں)کا انتقال ہوا،پھر اس کے بعد خالد کا انتقال ہوا ،اور اب مرحومہ شمیمہ بانوکے موجودہ ورثاءمیں ان کا بیٹا (طارق) ،بیٹی (زیبا محمود)،بہو(زرقا)،پوتا(محمد)اور پوتی (جویریہ) حیات ہیں،اور مرحومہ کا ترکہ شرعاً ان ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
مرحومہ شمیمہ بانو کے ترکہ کو تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے ،اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 60 حصوں میں تقسیم کیا جائے،مرحومہ کے بیٹے (طارق)کو 24 حصے،مرحومہ کی بیٹی (زیبا محمود)کو 12 حصے،مرحومہ کی بہو(زرقا)کو 3حصے،مرحومہ کے پوتے(محمد بن خالد)کو 14 حصے اور پوتی (جویریہ بنت خالد )کو 7حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگی:

یعنی مرحومہ شمیمہ بانو کی جائیدادمیں سے ان کے بیٹے(طارق)کو 40 فیصد حصہ،ان کی بیٹی (زیبا محمود) کو 20 فیصد حصہ،ان کی بہو (زرقا) کو 5 فیصد حصہ،ان کےپوتے(محمد) کو 23.33فیصد حصہ اور ان کی پوتی(جویریہ)کو 11.66 فیصد حصہ ملے گا۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:565 |
تاریخ :25ربیع الثانی1448ھ/8اکتوبر 2026ء |
