info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت

سوال

محترم مفتی صاحب !

میری بڑی بہن (انجم حمزہ)  2021ء میں کینسر  کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد وفات پاگئیں ،وہ غیر شادی شدہ تھیں۔میری ایک اور بڑی بہن(نیلوفر حمزہ) بھی غیر شادی شدہ ہیں ،چونکہ ہم مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہیں اس لئے وہ اور میں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی 2000ء میں گردوں کی بیماری کے باعث وفات پاگئے تھے،ان کے پسماندگان میں دو بیٹے اور ایک بیوہ ہیں لیکن وہ اپنے الگ گھر میں رہتے ہیں ۔

میری مرحومہ بہن(انجم حمزہ) کی شدید بیماری کے دوران انہوں نے زبانی طور پر میری دوسری غیر شادی شدہ بہن (نیلوفر حمزہ)کو ہدایت کی تھی کہ ان کا تقریباً 155 گرام ذاتی سونا میرے بیٹے اور بیٹیوں کو دے دیا جائے۔اس ہدایت کے مطابق سونا تقریباً درج ذیل مقدار میں تقسیم کیا گیا:

میرے بیٹے کو 46 گرام ،ایک بیٹی کو 69 گرام ،دوسری بیٹی کو 22 گرام ۔میری ایک بیٹی میری بہن کی وفات کے وقت پہلے ہی شادی شدہ تھیں جبکہ دوسری دو بیٹیاں غیر شادی شدہ اور میرے ساتھ رہتی تھیں ۔

میں اس معاملے میں اسلامی شریعت کے مطابق صحیح شرعی حیثیت سمجھنا چاہتا ہوں ،بالخصوص میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا میرے بیٹے اور بیٹیاں میری مرحومہ بہن کی وصیت کے صحیح حقدار تھے؟اور کیا اسلامی شریعت میں ایسی صورت میں کوئی مختلف اصول موجود ہیں جہاں ایک غیر شادی شدہ خاتون وفات پائی ہو اور اپنے ذاتی سامان اور مال و اسباب چھوڑ جائے جو عام طور پر اس کے قریبی زندہ بھائی اور بہنوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،میں اس بارے میں قابل اطلاق شرعی احکام کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

وضاحت:

·       سائل کی مرحومہ بہن نے مذکورہ سونا  اپنی زندگی میں  سائل کے بچوں کو نہیں دیا تھا  بلکہ انہوں نے اپنی بہن کو وصیت کی تھی۔

·       مرحومہ کے ترکہ میں سونے کے علاوہ کچھ نقدی تھی جو انہوں نے اپنے انتقال سے قبل سائل کی اہلیہ کو ہدیۃً دے دی تھی،مذکورہ سونے کے علاوہ ان کی ملکیت میں کچھ اور نہیں تھا۔

·       ہمارے والد،والدہ کا انتقال مرحومہ بہن سے بہت پہلے ہوچکا تھا اور بڑے بھائی کا انتقال بھی مرحومہ بہن (انجم حمزہ) سے پہلے 2000ء میں ہوگیا تھا ،مرحومہ انجم حمزہ کے انتقال کے وقت  ان کے ورثاء میں ایک بھائی (محمد عامر) ،ایک بہن (نیلوفر حمزہ)اورایک شادی شدہ بہن (پروین حمزہ)  حیات ہیں۔

·       مرحومہ انجم حمزہ نے اپنی وصیت میں میرے غیر شادی شدہ بچوں کو سونا دینے کی وصیت کی تھی اس لئے میری شادی شدہ بیٹی کو وصیت کے مطابق سونا نہیں دیا گیا ۔اور جس طرح انہوں نے جس گرام کا سونا جس کو دینے کا کہا تھا اسی طرح تقسیم کردیا گیا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں ایک شخص اپنے مال میں ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے،ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا ورثاء کی اجازت کے بغیر درست نہیں۔

صورت مسؤلہ میں سائل کی مرحومہ بہن(انجم حمزہ) نے اپنے سونا کی وصیت سائل کے بیٹے اور بیٹیوں کے لئے کی تھی تو یہ وصیت صرف ایک تہائی مال کے اندرشرعاً نافذ ہوگی  یعنی 155 گرام سونا میں سے 51.66 گرام سونا  سائل کے بیٹے اور دو غیر شادی شدہ بیٹیوں میں تقسیم کردیا جائے۔سوال میں ذکرکردہ ترتیب کے مطابق سونے کی تقسیم شرعاً غلط اور ناقابل اعتبار ہے۔

مرحومہ انجم حمزہ کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں سائل(محمد عامر) اور اس کی  دو بہنیں  (نیلو فرحمزہ،پروین حمزہ) حیات تھیں، اس لئے بقیہ دو تہائی  سونا کے حقدار سائل اور اس کی دو بہنیں  (نیلوفر حمزہ،اور پروین حمزہ ) ہیں ۔ اور مرحومہ کے جس بھائی کا انتقال ان سے پہلے ہوچکا ہے وہ اور ان کی اولاد مرحومہ کے ترکہ میں حقدار نہیں ہیں۔

مرحومہ انجم حمزہ کے ترکہ کو تقسیم کرنے کا شرعا ً طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو  تو اسے ادا کرکے ،اور مرحومہ کی وصیت کو ایک تہائی مال میں نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 4حصوں میں تقسیم کردیا جائے،دو حصے مرحومہ کے بھائی(محمد عامر) ، ایک حصہ مرحومہ کی بہن (نیلوفر حمزہ) اور ایک حصہ مرحومہ کی بہن (پروین حمزہ) کو ملے گا ۔البتہ اگر  مرحومہ انجم حمزہ کے تمام ورثاء (یعنی سائل اور اس کی دو بہنیں) اپنی خوشی اور رضامندی سے مرحومہ کا تمام سونا سائل کے بیٹے اور بیٹیوں کو دینا چاہتی ہیں تو شرعا جائز ہے۔

صورت تقسیم یہ ہوگی:

یعنی انجم حمزہ کے ترکہ میں سے 50 فیصد حصہ ان کے بھائی (محمد عامر)کو ،25 فیصد حصہ ان کی بہن(نیلوفر حمزہ)اور 25 فیصد حصہ ان کی بہن(پروین حمزہ) کو ملے گا۔

فتاوی شامی  میں ہے:

(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه

(کتاب الوصایا 6/650 ط سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.

(کتاب الوصایا الباب الأول 6/90 ط رشیدیہ)

                                                           واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:555

تاریخ :23ربیع الثانی1448ھ/6اکتوبر 2026ء