فتوے
بیوہ،بیٹا،بیٹی تقسیم ترکہ
سوال
آپ کے زیر علاقہ سوہنی ویو میں رہائش پذیر ہے،مختصر معاملات عرض یہ ہے کہ ہم کل دو یعنی ایک بھائی اور ایک بہن ہیں،میری والدہ کا سال 2017 میں بیماری کی حالت میں انتقال ہوگیا تھا،اس کے بعد میرے والد صاحب نذیر اسلام صدیقی نے 2018 میں رضیہ سلطانہ خلع یافتہ سے دوسری شادی کی جن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی،14 فروری 2025 میں میرے والد صاحب انتقال کرگئے اور ترکے میں میرے والد صاحب کا ایک 5 کمروں کا فلیٹ ہے اور پنشن کی اور باقی سرکاری فنڈ ( گریجویٹی،لیوانکیشمنٹ،جی پی فنڈ،ویلفیئر فنڈ)کی مالیت 35لاکھ روپے ہے اور میری بہن کی شادی 10 اپریل 2027 کو مقرر کی گئی ہے،میری سوتیلی والدہ اچانک گھر چھوڑ کر چلی گئ ہیں ،مشکل سے رابطہ ہونے پر انہوں نے کہا کہ میں نہیں آوں گی اور مجھے فلیٹ میں حصہ دیا جائے ۔آپ قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
جواب
صورت مسؤلہ میں مرحوم کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے،اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ(سونا،چاندی، نقدی وغیرہ)و غیر منقولہ (مکان،فلیٹ ،پلاٹ) کو 24 حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ رضیہ سلطانہ کو 3 حصے، بیٹا کو 14 اور بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یوں ہوگی:

یعنی مرحوم کی کل جائیداد میں سے ان کی بیوہ رضیہ سلطانہ کو 12.5 فیصد حصہ ،مرحوم کے بیٹے کو 58.33 فیصد حصہ اور مرحوم کی بیٹی کو 29.16فیصد حصہ ملے گا۔
مرحوم کی بیوہ اپنے حصہ کا مطالبہ کررہی ہیں تو دیگر ورثاء پر لازم ہے کہ ترکہ تقسیم کرکے ہرایک وارث کو اس کا شرعی حصہ دے دیا جائے ۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:553 |
تاریخ :13ربیع الثانی1448ھ/26 ستمبر 2026ء |
