فتوے
متروکہ سامان کی باہمی رضامندی سے تقسیم
سوال
مفتی صاحب ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ ایک صاحب کا انتقال ہوا ہے ان کے کل 9 وارثین ہیں (جس میں ان کی اہلیہ،بیٹے،اور بیٹیاں وغیرہ شامل ہیں)۔تمام وارثین ماشاء اللہ عاقل ،بالغ اور شادی شدہ ہیں۔ ان کا مکان و غیرہ بیچ کر وراثت کے شرعی قانون کے مطابق جس کا جتنا حصہ بنتا ہے ،رقم تو تقسیم کی جارہی ہے ،مگر گھر کا جو سامان ہے،جس میں فرنیچر،بیڈ ،الماریاں،برتن ،صوفے،اے سی،ڈائنگ ٹیبل،جرنیٹر اور چھوٹا بڑا دیگر سامان شامل ہے ،اس کی تقسیم کرنی ہے۔تمام وارثین کی موجودگی میں کچھ واثین نے تو یہ کہ دیا ہےکہ ہمیں اس سامان میں سے کچھ نہیں چاہئے،جبکہ کچھ وارثین اس میں سے سامان لے رہے ہیں ۔آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ:
1۔اس کی شرعی ترتیب کیا ہوگی؟
2۔کیا اس طرح سامان لیا جاسکتا ہے یا پہلے تمام سامان (فرنیچر ،بیڈ،الماریاں،برتن وغیرہ )کی قیمت (ویلیو)لگانا ضروری ہے؟
3۔جو وارث سامان نہیں لے رہے وہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف سے اختیار ہے جسے جو لینا ہے لے لے اور باقی اللہ واسطے صدقہ میں دے دیں،تو کیا دیگر وارثین کے لئے اس طرح سامان لینا جائز ہے؟
جواب
صورت مسؤلہ میں اگر میت کے تمام ورثاء باہمی رضامندی سے متروکہ سامان (فرنیچر،بیڈ،برتن ،الماریاں ،اے سی وغیرہ) تقسیم کرنا چاہتے ہیں توشرعاً اس کی گنجائش ہے اور ایسی صورت میں سامان کی قیمت(ویلیو) لگوانی کی ضرورت نہیں ہے،اور اگر باہمی رضامندی سے تقسیم ناممکن ہو تو پھر ان اشیاء کی قیمت لگواکر تمام ورثاء کو ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کردیا جائے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
«(أَخْرَجَتْ الْوَرَثَةُ أَحَدَهُمْ عَنْ) التَّرِكَةِ وَهِيَ (عَرَضٌ أَوْ) هِيَ (عَقَارٌ بِمَالٍ) أَعْطَاهُ لَهُ (أَوْ) أَخْرَجُوهُ (عَنْ) تَرِكَةٍ هِيَ (ذَهَبٌ بِفِضَّةٍ) دَفَعُوهَا لَهُ (أَوْ) عَلَى الْعَكْسِ أَوْ عَنْ نَقْدَيْنِ بِهِمَا (صَحَّ) فِي الْكُلِّ صَرْفًا لِلْجِنْسِ بِخِلَافِ جِنْسِهِ (قَلَّ) مَا أَعْطَوْهُ (أَوْ كَثُرَ) لَكِنْ بِشَرْطِ التَّقَابُضِ فِيمَا هُوَ صَرْفٌ (وَفِي) إخْرَاجِهِ عَنْ (نَقْدَيْنِ) وَغَيْرِهَا بِأَحَدِ النَّقْدَيْنِ لَا يَصِحُّ (إلَّا أَنْ يَكُونَ مَا أُعْطِيَ لَهُ أَكْثَرَ مِنْ حِصَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ الْجِنْسِ) تَحَرُّزًا عَنْ الرِّبَا، وَلَا بُدَّ مِنْ حُضُورِ النَّقْدَيْنِ عِنْدَ الصُّلْحِ وَعِلْمِهِ بِقَدْرِ نَصِيبِهِ شُرُنْبُلَالِيَّةٌ وَجَلَالِيَّةٌ وَلَوْ بِعَرَضٍ جَازَ مُطْلَقًا لِعَدَمِ الرِّبَا، وَكَذَا لَوْ أَنْكَرُوا إرْثَهُ لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ لَيْسَ بِبَدَلٍ بَلْ لِقَطْعِ الْمُنَازَعَةِ.»
(کتاب الصلح،فصل فی التخارج 5/642 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:551 |
تاریخ :8 ربیع الثانی1448ھ/21 ستمبر 2026ء |
