info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

قرآن وسنت سے ثابت دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن وسنت سے ثابت شدہ دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی کرنا مذکر ومونث کے اعتبار سے  واحد جمع کے اعتبار سے تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے کمی بیشی کے اعتبار سے  کس حد تک جائز اور گنجائش ہے واضح فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

جواب

قرآن وحدیث میں منقول وماثور دعائیں جن الفاظ،صیغوں اور ترتیب کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں ،افضل اور بہتر یہی ہے کہ انہی الفاظ،صیغوں اور ترتیب کو باقی رکھا جائے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ کی جائے ،محققین علماء کے نزدیک ادعیہ ماثورہ کے الفاظ اور ترتیب توقیفی ہیں ،اور اجابت دعا میں مذکورہ ترتیب اور صیغوں کا خاص اثر ہے،لہذا اسی ترتیب کی رعایت اولیٰ ہےاور ادعیہ ماثورہ میں واحد کے صیغہ اگر استعمال ہوا ہے تو دوسرے لوگ امین کہ کر اس دعا میں شریک ہوسکتے ہیں اور مونث ،مذکر کے صیغے میں تغلیباً شامل ہوتی ہے۔

تاہم اگر کوئی  شخص ادعیہ ماثورہ کے الفاظ میں اس طرح تبدیلی کرتا ہے کہ  مذکر  کو مؤنث  یا مفرد کو جمع یا جمع کو مفرد کے صیغے کے ساتھ تبدیل کرتا ہے تو اس کی  گنجائش ہے لیکن ایسی صورت میں ان دعاؤں کو ماثورہ دعائیں نہیں کہا جائے گا۔لیکن تقدیم وتاخیر کے اعتبار سے تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔

عمدۃ القاری میں ہے:

لَا وَنَبِيك الَّذِي أرْسلت) وَقيل: هَذَا ذكر وَدُعَاء فَيقْتَصر فِيهِ على اللَّفْظ الْوَارِد بِحُرُوفِهِ لاحْتِمَال أَن لَهَا

خاصية لَيست لغَيْرهَا.

(كتاب الدعوات، باب إذا بات طاهرا، ٢٢/ ٢٨٣، ط: دار الفكر)

وَذكروا فِي هَذَا أوجها مِنْهَا: أَنه أمره أَن يجمع بَين صفتيه وهما: الرَّسُول وَالنَّبِيّ، صَرِيحًا وَإِن كَانَ وصف الرسَالَة يسْتَلْزم وصف النُّبُوَّة. وَمِنْهَا: أَن أَلْفَاظ الْأَذْكَار توقيفية فِي تعْيين اللَّفْظ وَتَقْدِير الثَّوَاب، فَرُبمَا كَانَ فِي اللَّفْظ زِيَادَة تَبْيِين لَيْسَ فِي

الآخر، أَن كَانَ يرادفه فِي الظَّاهِر

(کتاب الوضو باب فضل من بات علی الوضوء 3/279 ط رشیدیہ)

فتح الباری میں ہے:

وأولى ما قيل في الحكمة في رده صلى الله عليه وسلم على من قال الرسول بدل النبي أن ألفاظ الأذكار توقيفية ولها خصائص وأسرار لا يدخلها القياس، فتجب المحافظة على اللفظ الذي وردت به، وهذا اختيار المازري، قال: فيقتصر فيه على اللفظ الوارد بحروفه وقد يتعلق الجزاء بتلك الحروف، ولعله أوحى إليه بهذه الكلمات فيتعين أداؤها بحروفها.

(كتاب الدعوات، باب إذا بات طاهرا 11/112 مکتبہ سلفیہ)

حاشیہ سہارنپوری میں ہے:

"فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "قل كما قلت: وبنبيك". وفيه دليل على أن رعاية الألفاظ المروية أمر مهم فيه حكمة بالغة."

(صحيح البخاري بحاشية السهارنفوري، كتاب الدعوات ،باب اذا بات طاہرا وفضلہ 4/2801 ط بشریٰ )

تحفۃ الالمعی میں ہے:

”فائده :  ماثورہ اذکار میں تبدیلی کرنے کی تو گنجائش نہیں مگر اضافہ کی گنجائش ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کو کوئی دعا سکھلائی تھی، انہوں نے وہ دعا یاد کرکے سنائی، اور ”بنبيك الذي أرسلت“ کی جگہ ” برسولك الذي أرسلت“ پڑھ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوکا، معلوم ہوا کہ منقولہ دعاؤں میں تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں ، اور کتاب الحج میں  یہ حدیث آئے گی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے  بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ  یہ تھا، پھر انہوں نے ماثورہ تلبیہ  کے آخر میں اضافہ کیا، معلوم ہوا کہ شروع میں یا درمیان میں  یا آخر میں  اضافہ کی گنجائش ہے۔“

(کتاب الصلاۃ،٢/ ٩٤،  ط: زمزم پبلشر)

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"سوال :  قرآن اور حدیث میں جو دعائیں آئی ہیں، کیا موقع کی مناسبت سے ان دعاؤں میں واحد متکلم کی جگہ  جمع متکلم اور جمع متکلم کی جگہ واحد متکلم کے ساتھ ردو بدل کیا جا سکتا ہے؟ کیا قرآنی دعاؤں میں اس تبدیلی سے تحریف قرآن تو لازم نہیں آتی ؟

جواب  : مناسب تو یہ ہے کہ جود عا جن الفاظ میں منقول ہے ، ان کو اسی طرح رکھا جاۓ ، تا ہم اگر واحد ، جمع کے صیغے بدل لے تب بھی کوئی حرج نہیں ۔ قرآن کریم دعا کی نیت سے پڑھا جائے تو اس سے مقصود قر آن کریم کے الفاظ کی حکایت نہیں ہوتی،  یہی وجہ ہے کہ جنبی اور حائضہ کو قرآنی دعائیں ، دعا کی نیت سے پڑھنے کی اجازت ہے ۔ اس لیے  دعا میں قرآنی الفاظ تبدیل  کرنے سے تحریف تو لازم نہیں آئے گی،  لیکن قرآن کریم کے مبارک الفاظ زیادہ بہتر ہیں ، اس لیے ان کو تبد یل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔"

(آپ کے مسائل اور ان کا حل ،قرآن کریم کی عظمت اور اس کی تلاوت،دعا میں قرآنی الفاظ کو تبدیل کرنا 4/439 ط لدھیانوی جدید)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاویٰ میں ہے:

قرآن وسنت سے منقول دعاؤں میں الفاظ کی تبدیلی (بایں طور کہ ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ پڑھا جائے) اور تقدیم و تاخیر  (یعنی جو لفظ بعد میں ہے اُسے پہلے، اور جو لفظ پہلے ہے اُسے بعد میں پڑھنا) جائز نہیں ہے، البتہ دعا سے پہلے، درمیان  یا بعد میں کوئی ایسا اضافہ کرنا جس سے معنیٰ تبدیل نہ ہو، یا صیغے کی تبدیلی (یعنی صیغہ واحد کو جمع اور جمع کو واحد سے تبدیل) کرنے کی گنجائش ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ اس میں بھی تبدیلی نہ کی جائے؛ کیوں کہ  قرآن وحدیث میں جو دعائیں جن الفاظ اور جس صیغہ کے ساتھ منقول ہیں، ان کی اپنی تاثیر اور خصوصیات ہیں،  ان  میں تبدیلی کرنے سے وہ دعاء لفظا ً ماثور اور منقول نہیں رہتی، محققین علمائے  کرام کے نزدیک مسنون دعاؤں اور اذکار کے الفاظ توقیفی ہوتے ہیں،  اس لیے   اُن کو اس کی   اتباع  میں اسی طرح پڑھنا چاہیے،  اور اُن  میں  صیغے کی تبدیلی  یا الفاظ کا اضافہ کرنے سے اگرچہ وہ دعا، دعا ہونے کی حیثیت سے تو درست ہوسکتی ہے،   لیکن اس کو  ماثور نہیں کہا جائے گا۔

(ادعیۂ ماثورہ میں الفاظ یا صیغے کی تبدیلی کا حکم / کیا اس تبدیلی سے قرآن وسنت میں تحریف لازم آتی ہے؟ فتویٰ نمبر : 144504101921)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:550

تاریخ :یکم ربیع الثانی1448ھ/14 ستمبر 2026ء