info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

پلاٹ کی قیمت تاخیر سے ادا کرنے پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا

سوال

محترم مفتی صاحب / دارالافتاء، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں ایک معاملے کے متعلق فقہِ حنفی کی روشنی میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ براہِ کرم مکمل صورتِ حال پڑھ کر واضح فرمائیں کہ میرے لیے درج ذیل رقم بطور نقصان کا ازالہ (Loss Compensation) لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔

معاملے کی تفصیل

میں نے اپنا گھر 2 کروڑ 78 لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خریدار کے ساتھ طے ہوا تھا کہ گھر کی مکمل رقم 6 ماہ کے اندر اندر ادا کر دی جائے گی۔

معاہدے کے وقت کوئی Late Payment Penalty یا اضافی رقم کی شرط نہیں رکھی گئی تھی، کیونکہ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ خریدار مقررہ مدت کے بعد بھی ادائیگی میں اتنی تاخیر کرے گا۔

خریدار نے 6 ماہ کے اندر مکمل ادائیگی نہیں کی بلکہ تقریباً ایک سال میں مکمل رقم ادا کی۔ اس دوران باقی واجب الادا رقم تقریباً 90 لاکھ روپے تھی۔

میں نے مقررہ 6 ماہ کی مدت گزرنے کے بعد خریدار کو واضح طور پر بتایا کہ آپ کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے مجھے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ میری صورتحال یہ تھی کہ میں اس گھر کی رقم سے اپنا دوسرا گھر تعمیر کر رہا تھا۔ اگر مجھے رقم طے شدہ 6 ماہ کے اندر مل جاتی تو میں اسی وقت تعمیراتی سامان خرید کر اپنا گھر تعمیر کر لیتا۔

 

لیکن چونکہ خریدار نے رقم مقررہ وقت پر ادا نہیں کی، اس لیے میں بروقت تعمیراتی سامان نہیں خرید سکا۔ بعد میں جب رقم موصول ہوئی تو تعمیراتی سامان، مزدوری اور دیگر تعمیراتی کاموں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے مجھے اپنے گھر کی تعمیر میں اضافی رقم خرچ کرنا پڑی۔

میں نے خریدار کو اسی دوران اس نقصان کے بارے میں بتایا تھا۔ خریدار نے واضح طور پر کہا تھا کہ “آپ کا Loss Compensation کر دیں گے”۔ یعنی اس نے میری طرف سے بتائے گئے نقصان کی تلافی کرنے کی بات واضح طور پر تسلیم کی تھی۔ اس بات کا میرے پاس ثبوت بھی موجود ہے اور وہ آج بھی اس بات سے انکار نہیں کر رہا کہ اس نے Loss Compensation دینے کا کہا تھا۔

نقصان کا حساب

اب چونکہ اصل رقم مکمل طور پر ادا ہو چکی ہے، میں نے اپنے اور خریدار کے ایک باہمی جاننے والے شخص، جو تعمیراتی کام کے شعبے سے وابستہ ہے، سے اس نقصان کا حساب لگوایا ہے۔

اس حساب میں یہ دیکھا گیا کہ مقررہ 6 ماہ کے بعد جس عرصے میں ادائیگی مؤخر ہوئی، اس دوران تعمیراتی سامان اور مزدوری کے نرخوں میں کتنا اضافہ ہوا۔

مثلاً:

- سیمنٹ کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ

- ریت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ

- ماربل میں تقریباً 23.5 فیصد اضافہ

- پینٹ میں تقریباً 15 فیصد اضافہ

- کیبلز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ

- سینیٹری فٹنگز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ

- دروازوں میں تقریباً 37.5 فیصد اضافہ

- کھڑکیوں میں تقریباً 55 فیصد اضافہ

- کچن کے کام میں تقریباً 15 فیصد اضافہ

- مجموعی مزدوری میں تقریباً 25 فیصد اضافہ

ان تمام اشیاء کو تعمیر میں ان کے استعمال اور اہمیت کے اعتبار سے مختلف Weightage دی گئی، جس کے بعد تعمیراتی کام کی مجموعی لاگت میں تقریباً 23.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

باقی واجب الادا رقم تقریباً 90 لاکھ روپے تھی۔ اگر اس پر 23.5 فیصد کے حساب سے دیکھا جائے تو تقریباً 21 لاکھ روپے بنتے ہیں، یعنی تقریباً 20 سے 21 لاکھ روپے کا اضافی مالی نقصان۔

میرا مقصد یہ نہیں کہ خریدار نے میری رقم ایک سال استعمال کی، اس کے بدلے مجھے سود یا منافع دیا جائے۔ بلکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہ مقررہ 6 ماہ میں رقم ادا کر دیتا تو میں اسی وقت تعمیراتی سامان خرید لیتا اور اپنے گھر کی تعمیر مکمل کر لیتا۔ اس کی طرف سے تقریباً ایک سال تک ادائیگی مؤخر کرنے کی وجہ سے جب مجھے رقم ملی تو وہی تعمیراتی کام زیادہ مہنگا ہو چکا تھا، جس سے مجھے حقیقی مالی نقصان ہوا۔

مزید یہ کہ اس دوران مجھے گھر کی حفاظت وغیرہ کے لیے چوکیدار کی تنخواہ بھی ادا کرنا پڑتی رہی، اور میں نے خریدار کو اس اضافی خرچ اور نقصان کے بارے میں بھی بتایا تھا۔

خریدار کی طرف سے تاخیر

خریدار نے اپنی ادائیگی اس وجہ سے مؤخر کی کہ اس کے اپنے تین فلیٹس فروخت نہیں ہو رہے تھے۔ یعنی اس کی اپنی مالی منصوبہ بندی کی وجہ سے میری رقم تقریباً ایک سال تک رکی رہی۔

دوسری طرف میری اپنی مجبوری یہ تھی کہ میں نے اپنا گھر اس لیے فروخت کیا تھا کہ مجھے اپنے قرض کی ادائیگی کرنی تھی اور اسی رقم سے اپنا دوسرا گھر تعمیر کرنا تھا۔

خریدار کی طرف سے مقررہ وقت پر رقم ادا نہ کرنے میں میری کوئی کوتاہی یا قصور نہیں تھا۔ میں نے اپنی طرف سے معاہدے کے مطابق گھر فروخت کر دیا تھا اور باقی رقم مقررہ وقت پر ملنی تھی۔

میرے سوالات

براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں درج ذیل سوالات کا واضح جواب عنایت فرمائیں:

1۔ چونکہ خریدار نے مقررہ 6 ماہ کے بجائے تقریباً ایک سال میں ادائیگی مکمل کی اور اس تاخیر سے مجھے واقعی تعمیراتی لاگت میں نقصان ہوا، کیا میں اس حقیقی مالی نقصان کی تلافی بطور Loss Compensation لے سکتا ہوں؟

 

2۔ خریدار نے ادائیگی میں تاخیر کے دوران خود واضح طور پر کہا تھا کہ وہ میرے نقصان کی تلافی کرے گا، اور اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ کیا اس وعدے کی شرعی حیثیت ہے؟

3۔ اگر 90 لاکھ روپے کی باقی رقم پر تعمیراتی لاگت میں ہونے والے حقیقی اضافے، یعنی تقریباً 23.5 فیصد، کے حساب سے تقریباً 20 سے 21 لاکھ روپے کا نقصان بنتا ہے، تو کیا یہ رقم لینا شرعاً جائز ہوگی؟

4۔ اگر پورے 20 سے 21 لاکھ روپے لینا جائز نہ ہو تو براہِ کرم یہ بھی واضح فرمائیں کہ میرے حقیقی نقصان کا کون سا حصہ شرعاً وصول کیا جا سکتا ہے، مثلاً چوکیدار کی اضافی تنخواہ، اضافی تعمیراتی اخراجات وغیرہ؟اورجو نقصان ہوا ہے اس کا وعدے کے مطابق اخلاقی دائرے کے اندر کتنا وصول کیا جاسکتا ہے؟

5۔ کیا اس معاملے کو صرف “تاخیر سے رقم دینے پر اضافی رقم” سمجھا جائے گا، یا چونکہ خریدار نے دورانِ تاخیر خود Loss Compensation کا وعدہ کیا تھا اور مجھے واقعی تعمیراتی لاگت میں نقصان ہوا، اس لیے اس کی شرعی حیثیت مختلف ہوگی؟

براہِ کرم اس معاملے کا واضح اور دو ٹوک حنفی فتویٰ عنایت فرمائیں تاکہ میں حلال و حرام کے معاملے میں اطمینان کے ساتھ فیصلہ کر سکوں۔

جزاکم اللہ خیراً کثیراً

جواب

صورت مسؤلہ میں  سائل نے اپنا گھر فروخت کیا اور خریدار کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا کہ وہ چھ ماہ کے اندر مکمل رقم کی ادائیگی کرے گا لیکن کسی مجبوری کی بنا پر وہ مقررہ وقت پر ادائیگی نہ کرسکا تو سائل کے لئے خریدار سےتاخیر سے ادائیگی کرنے پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔البتہ اگر خریدار اپنی خوشی سے سائل کے مطالبہ اور شرط  کے بغیر کچھ  اضافی رقم دے دے تو یہ جائز ہے ،لیکن سائل اضافی رقم کے لئے خریدار پر کسی قسم کا دباؤ یا مطالبہ نہیں کرسکتا۔    

فتاوی شامی میں ہے:

لِأَنَّ الدُّيُونَ تُقْضَى بِأَمْثَالِهَا

(کتاب الایمان،باب الیمین فی الضرب القتل  3/840 ط سعید)

 

وَكَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ مَا قَبَضَ) فَإِنْ قَضَاهُ أَجْوَدَ بِلَا شَرْطٍ جَازَ وَيُجْبَرُ الدَّائِنُ عَلَى قَبُولِ الْأَجْوَدِ وَقِيلَ لَا بَحْرٌ

(کتاب البیوع،باب المرابحہ والتولیۃ، فصل فی القرض 5/ 165ط سعید)

وَفِي الْأَشْبَاهِ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ

(کتاب البیوع،باب المرابحہ والتولیۃ، فصل فی القرض 5/166 ط سعید)

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:754

تاریخ :12 ربیع الاول1448ھ/26اگست 2026ء