info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

ایک وارث اپنا حصہ کسی کو ہدیہ کرسکتا ہے نہ کہ دوسرے کے حصے کو

سوال

سؤال: میرا نام عظمٰی اقبال ہے۔ میرے شوہر کی وفات 2022 میں ہوئی۔ ان کے والدین حیات ہیں۔ ان کی والدہ ٹھیک ہیں، جبکہ میرے سسر بستر پر ہیں، ان کی یادداشت ختم ہو چکی ہے اور وہ کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔

میرے شوہر کی گریجویٹی کے پیسے سب میں تقسیم کر دیے گئے ہیں۔ ان کی والدہ نے اپنا حصہ لے لیا، جبکہ میرے سسر کا حصہ ابھی میرے پاس ہے۔ میرا دیور اپنے والد کی تنخواہ وصول کرتا ہے اور والدہ کو دیتا ہے۔ یعنی میرے سسر کے بینک اکاؤنٹ کی دیکھ بھال اور لین دین وہی کرتا ہے۔ میں اس سال پاکستان گئی تو اپنی ساس کو قطر کے گھر کے سامان وغیرہ کے پیسے دیے۔ میری نیت یہ تھی کہ پہلے والدہ کو دوں، پھر کچھ پیسے جمع کرکے والد کو دوں گی۔ لیکن والدہ نے کہا کہ گھر کا سامان، ساری چیزیں، گاڑی اور زیور ہم نے تمہارے بچوں کو دے دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ابا کی طرف کے پیسے بھی بچوں کو دیتی ہیں اور یہ سب وارثوں کی طرف سے دیتی ہیں۔ میرے دیور کا کہنا ہے کہ چونکہ ابا حیات ہیں، اس لیے ان کے بچے بھی اس میں شامل ہونے چاہئیں۔

اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے، اور اس صورتِ حال میں شرعی طور پر کیا طریقہ ہونا چاہیے؟

جواب

صورت مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور مرحوم شوہر کے ورثاء میں ان کے والدین بھی شامل ہیں۔سائلہ نے اپنے شوہر کے ترکہ میں سے ان کی والدہ کا حصہ ان کے قبضہ میں دیا تو انہوں نے سائلہ کے بچوں کے لئے اپنا حصہ واپس کردیا تو ان کا واپس کرنا درست ہے اس لئے کہ وہ اپنے حصے کی خود مالکہ ہیں ،اور وارث کا حصہ جب اس کے قبضہ میں دے دیا جائے تو اس کو شرعاً اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے حصہ کا کسی کو بھی مالک بنادے۔البتہ ان کی والدہ کا یہ کہنا کہ وہ اپنے شوہر کے حصہ کے پیسے بھی بچوں کو دیتی ہیں یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ وہ اپنے حصے میں  شرعاً تصرف کرسکتی ہیں لیکن وہ اپنے مرض الموت میں مبتلا شوہر کے حصے میں تصرف نہیں کرسکتیں،لہذا سائلہ اپنے مرحوم شوہر کے والد کا حصہ ادا کرنے کی پابند ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى

(مشکوۃ المصابیح ،کتاب البیوع باب الغصب والعاریۃ،الفصل الثانی 2/889 رقم 2946 ط المکتب الاسلامی)

جامع الفصولين میں ہے :

لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك والحق يبطل به

(الفصل الثامن والعشرون فی مسائل الترکۃ والورثۃ والدین2/40 ط اسلامی کتب خانہ)

در الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

الْمَادَّةُ (1192) - (كُلٌّ يَتَصَرَّفُ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ).

(الکتاب الاول ،الباب الثالث ،الفصل الاول 3/201 ط دار جیل )

فتاوی شامی  میں ہے:

(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ (وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا،

(کتاب الھبۃ 5/690 ط سعید)

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:654

تاریخ :12 ربیع الاول1448ھ/26اگست 2026ء