info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

آزاد کردیا ،آزاد کردیا ،آزاد کردیا

سوال

شوہر نے لڑائی جھگڑے میں غصہ میں اپنی بیوی کے ماموں کو یہ کہدے کہ تیری بھانجی کو میں نے آزاد کردیا،آزادکردیا،آزاد کردیا (تین دفعہ) یہ الفاظ ادا کئے اور چوتھی دفعہ یہ کہا کہ وہ مجھ پر حرام ہے۔

تو اس صورت میں کونسی طلاق واقع ہوگی؟اب یہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے پاس کس صورت میں واپس جاسکتی ہے؟حلالہ کی صورت میں یا تجدید نکاح کی صورت میں؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق بائن کے بعد مزید طلاق بائن واقع نہیں ہوتی ،نیز لفظ "میں نے اپنی بیوی کو آزاد کردیا اور میری بیوی مجھ پر حرام ہے" ان الفاظ سے طلاق صریح بائن واقع ہوتی ہے ۔

صورت مسؤلہ میں شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران غصہ میں اپنی بیوی کے ماموں کو یہ کہا کہ "تیری بھانجی کو میں نے آزاد کردیا" یہ الفاظ اس نے تین مرتبہ کہے اور پھر چوتھی مرتبہ اس نے یہ کہا کہ "وہ مجھ پر حرام ہے"تو ان الفاظ سے مذکورہ عورت  پرایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے اور طلاق بائن کے بعد مزید طلاق بائن واقع نہیں ہوتی اس لئے  بقیہ الفاظ لغو ہوجائیں گے اور ان سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اور اب اس کا حکم یہ ہے کہ تجدید نکاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ۔اور اگر عورت تجدید نکاح پر راضی نہ ہو تو اس پر زبردستی نہیں ہوسکتی ،تجدید نکاح کی صورت میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول اور نیا مہر مقرر کرنا ضروری ہے،اور تجدید نکاح کے بعد شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

 

 

فتاوی شامی میں ہے:

الْكِنَايَاتُ (لَا تَطْلُقُ بِهَا) قَضَاءً (إلَّا بِنِيَّةٍ أَوْ دَلَالَةِ الْحَالِ) وَهِيَ حَالَةُ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ أَوْ الْغَضَبِ

(کتاب الطلاق ،باب الکنایات 3/298 ط سعید )

(الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ وَ) يَلْحَقُ (الْبَائِنُ) بِشَرْطِ الْعِدَّةِ (وَالْبَائِنُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ) الصَّرِيحُ مَا لَا يَحْتَاجُ إلَى نِيَّةٍ بَائِنًا كَانَ الْوَاقِعُ بِهِ أَوْ رَجْعِيًّا فَتْحٌ، ۔۔۔۔۔۔۔(لَا) يَلْحَقُ الْبَائِنُ (الْبَائِنُ)

"(قوله: لايلحق البائن البائن ) المراد بالبائن الذي لايلحق هو ما كان بلفظ الكناية؛ لأنه هو الذي ليس ظاهراً في إنشاء الطلاق، كذا في الفتح.  وقيد بقوله: الذي لايلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولاً أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال وحينئذٍ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم: والبائن يلحق الصريح لا البائن هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن ...  ومنها ما في الكافي للحاكم الشهيد الذي هو جمع كلام محمد في كتبه ظاهر الرواية حيث قال: وإذا طلقها تطليقةً بائنةً ثم قال لها في عدتها: أنت علي حرام أو خلية أو برية أو بائن أو بتة أو شبه ذلك وهو يريد به الطلاق لم يقع عليها شيء؛ لأنه صادق في قوله: هي علي حرام وهي مني بائن اهـ أي لأنه يمكن جعل الثاني خبراً عن الأول، وظاهر قوله: طلقها تطليقةً بائنةً أن المراد به الصريح البائن بقرينة مقابلته له بألفاظ الكناية، تأمل". ( كتاب الطلاق، باب الكنايات ۳/ ۳٠۷ و ۳٠۸ ط:سعيد)

(کتاب الطلاق ،باب الکنایات 3/،306،308 ط سعید)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاویٰ میں ہے:

اگر واقعۃً مذکورہ شخص  نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ کہا ہے ’’میں نے تم کو آزاد کیا‘‘ ، اور پھرکہا کہ:’’ماں باپ کے گھر چلی جاؤ ‘‘  تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، نکاح ختم ہوچکا ہے، اب اگر فریقین باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہے، البتہ آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کاحق باقی رہے گا۔

(بیوی کو لفظ آزاد تین مرتبہ کہنا فتویٰ نمبر : 144012201393)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:552

تاریخ :10ربیع الثانی1448ھ/23 ستمبر 2026ء