info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

زندگی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا

سوال

میں اقبال علی خان ولد عثمان علی خان (مرحوم) آپ کی خدمت میں کچھ گذارش کرنا چاہتا ہوں ،میں اپنی زندگی میں اور بیوی کی موجودگی میں اپنی اولادوں میں اپنی جائیداد اور رقم ترکہ کرنا چاہتا ہوں ،میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے ۔میری اولادوں میں 6 بچے ہیں ،تین لڑکے اور تین بیٹیاں ہیں اور سب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حیات ہیں ۔

سب رقوم ملا کر اس وقت 59 لاکھ روپے بنتی ہے میں اس وقت پینشنرز ہوں اور اس رقم کے کے ترکہ کرنے کے بعد جو رقم پینشن ملتی ہے ،کیا اس میں ان کا حق ہوگا؟اس کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ والد کی زندگی میں اس کے مال اور جائیداد میں اس کی اولاد کا شرعاً نہ تو کوئی حق ہوتا ہے اور نہ ہی اولاد اس کا مطالبہ کرسکتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کی زندگی میں اس کے مال اور پینشن میں اس کی اولاد کا کوئی حق نہیں ہے،البتہ اگر سائل اپنی خوشی سے اپنی جائیداد اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے تو کرسکتا ہے اور اس کو شرعاً ھدیہ(گفٹ) کہا جاتا ہے ، یہ وراثت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس پر وراثت کے احکام لاگو ہوتے ہیں ۔

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سائل اپنی جائیداد میں سے اپنے لئے اور اپنی اہلیہ  کے لئے جتنا چاہے حصہ رکھ لے تاکہ ضرور ت کے وقت  کام آسکے،بقیہ تمام اولاد (لڑکے اور لڑکیوں )میں برابر کی بنیاد میں تقسیم کردے،کسی کو کم یا زیادہ نہ دے،البتہ اگر کوئی اولاد زیادہ محتاج اور غریب ہو،یا زیادہ خدمت گار ہو یا دوسروں کی بنسبت زیادہ دین دار ہو تو اس کو دوسروں کی بنسبت زیادہ دیا جاسکتا ہے لیکن اس میں دوسری اولاد کو نقصان پہچانے کی نیت شامل نہ ہو۔

 

حدیث شریف میں ہے

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟» فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَارْجِعْهُ»

(صحیح المسلم ،کتاب الہبات ،باب کراھۃ تفضیل بعض الأولاد فی الھبۃ 3/1241 رقم الحدیث 1623 ط داراحیاء التراث العربی بیروت )

ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ میرے والد مجھے حضور ﷺ کے پاس لے گئے اور میرے والد نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام ہدیہ  میں دیا ہے تو آپ ﷺ نے سوال فرمایا کہ آپ نے اپنی سب اولاد کو اس طرح ہدیہ دیا ہے میرے والد نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ پھر اپنے اس بیٹے سے یہ ہدیہ واپس لے لو ۔

شرح النووی میں ہے :

وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يُسَوِّيَ بَيْنَ أَوْلَادِهِ فِي الْهِبَةِ وَيَهَبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ الْآخَرِ وَلَا يُفَضِّلَ وَيُسَوِّيَ بَيْنَ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا يَكُونُ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَالصَّحِيحُ الْمَشْهُورُ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُمَا لِظَاهِرِ الْحَدِيثِ فَلَوْ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ أَوْ وَهَبَ لِبَعْضِهِمْ دُونَ بَعْضٍ فَمَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ وَأَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ وَالْهِبَةُ صَحِيحَةٌ

( کتاب الہبات ،باب کراھۃ تفضیل بعض الأولاد فی الھبۃ11/66 ط داراحیاء التراث العربی بیروت )

در الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

الْمَادَّةُ (1192) - (كُلٌّ يَتَصَرَّفُ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ).

(الکتاب الاول ،الباب الثالث ،الفصل الاول 3/201 ط دار جیل )

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

 ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.

(کتاب الھبۃ ،الباب السادس الھبۃ للصغیر 4/391 ط رشیدیہ )

 

 

فتاوی محمودیہ میں ہے :

اپنی زندگی میں آپ پوری طرح مالک ہیں ،آپ کو حق ہے کہ جس لڑکے لڑکی کو یا کسی غیر کو اپنی جائیداد  وغیرہ کل یا جز جس طرح چاہیں دے دیں،               مگر اس کا خیال رہے کہ کسی ہونے وراث کو نقصان پہوچانے کا ارادہ نہ ہو یہ ظلم اور گناہ ہے ،ا س کا خطرہ ہو تو سب لڑکے لڑکیوں کو برابر دیا جائے،کیونکہ وہ أولاد ہونے  میں سب برابر ہیں ،قصد ضرر نہ ہو نے کی صورت میں کسی کے ضرورت مند ہونے یا  کمانے سے عاجز ہونے یا زیادہ دین دار ہونے کی وجہ سے اس کو زیادہ دیا جائے تو یہ ممنوع نہیں ۔

(کتاب الھبۃ 16/497 ط فاروقیہ )

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:549

تاریخ :17 ربیع الاول1448ھ/31اگست 2026ء