info@bismillah.com +(00) 123-345-11

مدرسہ عارف العلوم

نئے سوالات

Banner

والد کے ساتھ بدسلوکی کرنا

سوال

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد از سلام عرض یہ ہے کہ میری حیدری مارکیٹ بلاک G میں پانچ عدد دوکانیں اور ایک عدد فلیٹ ہے ۔ ایک دوکان میں کپڑے اور ٹریلرنگ کا کاروبار ہے اور چار دوکانوں میں فرنیچر کا کاروبار ہے اور فلیٹ میں گودام بنا ہوا ہے ۔ یہ تمام پراپرٹی پگڑی سسٹم پر ہے اور کرایہ کورٹ میں جمع ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ میرے دو عدد فلیٹ گلزار ہجری اسکیم نمبر 33 میں بھی ہیں یہ دونوں فلیٹ اونر شپ پر ہیں ۔ میری عمر 65 سال ہے اور میرے پیر قبر میں لٹک رہے ہیں میں نے کچھ لوگوں کا قرضہ دینا ہے جو کہ تقریبا 70 سے 80 لاکھ روپے ہیں میں نے جن لوگوں کا قرضہ دینا ہے ان لوگوں نے میرے خلاف مقدمات کئے ہوئے ہیں ۔ میں اپنی پراپرٹی بیچ کر ان لوگوں کا قرضہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن میری اولاد اور میری بیوی اور میرا چچا زاد بھائی اور میری سالی یہ لوگ مجھے قرض ادا کرنے نہیں دے رہے میرے دو بیٹوں ( وقاص اور معاذ ) نے گودام کی ڈوپلیکیٹ چابیاں بنواکر 4 فروری 2022ء کی رات کو گودام میں رکھے ہوئے ڈھائی لاکھ روپے کیش اور تمام پراپرٹی کی فائلیں چرالیں اور میرے ساتھ جھگڑا کرنےلگے کہ اب یہ ساری پراپرٹی اور اس میں رکھا ہوا سارا مال اب ہمارا ہے تم جیل جاؤ ہم تمہیں اس میں سے کوئی چیز بھی نہیں لینے دیں گے ساری رات مجھ سے جھگڑا کرتے رہے مجھے مارا اور گالیاں بھی دیں ۔ 5 فروری 2022ء کو صبح تقریبا 11 سے 12 بجے کا وقت تھا مجھے زبر دستی ڈنڈا ڈولی کر کے کراچی نفسیاتی ہسپتال کے مینٹل وارڈ میں لے گئے ہسپتال کے دو عدد ملازم بھی ان کے ساتھ ان کی مدد کر رہے تھے اور مجھے کراچی نفسیاتی ہسپتال کے مینٹل وارڈ واقع نارتھ ناظم آباد بلاک B ضیاء الدین ہسپتال کے سامنے والی گلی میں جمع کرادیا ۔ تقریبا ایک ماہ بعد مجھے وہاں سے نکالا اور بولے اب ہمارا کام ہوگیا ہم نے مینٹل سر ٹیفکیٹ بنوالیا ہے اب تاہسری کہیں سنوائی نہیں ہوگی اب اگر تم ہمارا کہنا نہیں مانوگے تو تمہیں چوتھی منزل کی چھت سے نیچے پھینک دیں گے اور کہ دیں گے کہ پاگل تھا خود اوپر سے چھلانگ لگائی ہے پولیس بھی ہمارا کچھ نہیں کر سکے گی ۔ مجھے گھر میں میرے کمرے میں قید کر دیا ہے اور کمرے کے دروازے پر لاک والا آہنی والا لاک لگادیا ہے جب مجھے گھر میں قید کیا ہوا تھا کہ میری بیوی کو دو ماہ قبل ہارٹ اٹیک ہوا تھا کارڈیووارڈ لیاقت نیشنل ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 16 فروی 2023 کو میری بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ بیوی کے انتقال کے بعد میرے ساتھ کچھ نرمی کی گئی ہے اب دروازے پر تالا نہیں لگایا جاتا ورنہ بیوی تالا لگا کر چابی اپنے پاس رکھتی تھی اب میں فلیٹ کے باہر چھوٹا موٹا سودا سلف لینے جا سکتا ہوں لیکن زیادہ دور نہیں جا سکتا اور نہ میں اکیلا جا سکتا کوئی نہ کوئی میرا بیٹا میرے ساتھ ہوتا ہے ابھی موقع ملا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میں کیا کروں جس کی وجہ سے میرے لئے قبر اور حشر میں آسانی ہو ۔ قید میں زندگی گزار رہا ہوں واپس گھر جاؤں گا نہ جانے میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا قبر اور حشر کی فکر میں ہوں برائے مہر بانی میری راہنمائی فرمائے کیونکہ ہر چیز پر اب اولاد نے قبضہ کیا ہوا ہے اور انہیں خالہ اور چچا کی سپورٹ حاصل ہے ۔ نوٹ : قرآن و حدیث کا حوالہ بھی دیجئے اور جو لوگ میرے اولاد کو گمراہ کر رہے ہیں ان کے متعلق بھی آگاہ کیجئے ۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ والد کی زندگی میں اس کی جائیداد میں اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہے،بلکہ والد اپنے کمائی ،جائیداد میں خود مختار ہے،شرعا اپنے مال میں اس کو تصرف کا کلی اختیار حاصل ہے،اوردوسرا اصول یہ ہے کہ اگر والد کے ذمہ قرضہ ہ...

تفصیلات دیکھیں