info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

زوجہ مفقود کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک بھائی تھے جو تقریبا ً 10 سے 11 سال ہونے کو ہیں غائب ہیں،ان کا کچھ بھی پتہ نہیں  اور اب تک ان کا کچھ بھی پتہ نہیں لگا ،مختلف ذرائع

 سے بھی معلوم کرلیا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کی بیوی سے میں محمد فیضان اللہ شادی کرنا چاہتا ہوں اور میری بھابھی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے،شادی کی وجہ نمازی ،پرہیز گار اور سلجھی ہوئی عورت ہے۔

قرآن وحدیث کے مطابق اس کا حل بتادیں۔

جواب

اگر کوئی شخص مفقود (غائب) ہوجائے اور تلاش وبسیار کے باوجود اس کا کوئی پتہ معلوم نہ ہوسکےکہ وہ زندہ ہے یا مردہ تو اس کی بیوی کے لئے اصل حکم تو یہ ہے کہ عصمت و عفت کے ساتھ اپنی زندگی

 

 گذار دے اور شوہر کے نوے برس ہونے تک صبر کرے ،اور اگر اس طرح زندگی گذارنا دشوار ہو تو مذہب مالکی کے مطابق  اپنے شوہر کے نکاح سے چھٹکارا حاصل کرنے کی صورت یہ ہے کہ  عورت

 

 عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرے اور گواہوں سے یہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا (شادی کے وقت موجود گواہوں کا ہونا ضروری نہیں  ہےکوئی دوسرے لوگ بھی جن کو نکاح کا

 

علم ہو گواہی دے سکتے ہیں)پھر گواہوں سے  اپنے شوہر کے مفقود اور لاپتہ ہونا ثابت کرے،عورت کے اس  دعویٰ اور ثبوت کے بعد قاضی/حاکم خو د اس مفقود کی تلاش کرے ،صرف مفقود کے گھر

 

والوں کی تلاش پر اعتماد نہ کرے  اور جہاں مفقود کے ملنے کے امکان ہو وہاں اپنا آدمی بھیجے  ،سرکاری ذرائع کو استعمال کرے ،اخبارات و میڈیا کے ذریعہ اگر اس کی تلاش ممکن ہو تو وہ کرے، الغرض اس کی

 

تلاش وجستجو میں ہر ممکن کوشش کرے ،اور جب قاضی اس کی تلاش سے مایوس ہوجائےتو عورت کو مزید چار سال تک انتظار کرنے کا حکم دے ،اگر ان چار سالوں میں بھی مفقود کا کچھ علم نہ ہوسکے تو

 

عورت عدالت میں قاضی کے پاس حاضر ہوکر دوبارہ درخواست کرے جس پر قاضی اس کے شوہر کے مردہ ہونے کا حکم جاری کردے ،فیصلہ سنانے کے بعد عورت چار مہینے دس دن  عدت وفات گذار کر

 

دوسرے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

 

اور اگر  عورت کو  مزید چار سال گذارنے میں زنا میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ہو یا  نان ونفقہ کا انتظام عورت کے لئے مشکل ہو تو ایسی صورت میں مزید چار سال کی مدت گذارنا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر

 

قاضی مناسب سمجھے تو تحقیق و تفتیش کے بعد اسی وقت بھی فسخ نکاح کا حکم جاری کرسکتالیکن شرط یہ ہے   شوہر کے غائب ہوئے  ایک سال سے زائد عرصہ گذر چکا ہو اور عورت اس بات پر قسم کھائے کہ

 

میں بغیر شوہر کے مزید زندگی عفت وعصمت کے ساتھ قائم نہیں رکھ سکتی ۔قاضی کے پاس جب یہ ثبوت مکمل ہوجائے تو قاضی اس کو کہہ دے کہ میں نے تمہارا نکاح فسخ کردیا یا شوہر کی طرف سے

 

تمہیں طلاق دے دی ،اس کے بعد عورت کو تین ماہواری عدت طلاق گذار کر دوسرے شوہر سے نکاح کرنے میں شرعا اجازت ہوگی۔

 

اور اگر دوسری جگہ شادی کرنے کےبعد  پہلا شوہر واپس آگیا تو اس عورت کا شوہر ثانی سے نکاح خود بخو د باطل ہوجائے گا اور عورت اپنے  پہلےشوہر کو ملے گی۔اگر دوسرے نکاح کی رخصتی /خلوت صحیحہ

 

ہوچکی ہو تو شوہر ثانی کل مہر عورت کو دے گا ،اور عورت پر عدت طلاق لازم ہوگی ،اور عدت شوہر اول کے گھر گذارے گی لیکن عدت گذرنے تک شوہر اول کے لئے اس کے ساتھ صحبت کرنا جائز نہ

 

ہوگا۔اور اگر رخصتی /خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو تو نہ مہر واجب ہوگا اور نہ عدت واجب ہوگی۔

 

احسن الفتاویٰ میں ہے:

 

مفقود کی بیوی کے لئے بہتر ہے کہ شوہر کی عمر نوے برس ہونے تک صبر کرے ،اگر صبر نہ کرسکےتو ایسی مجبوری میں مذہب مالکی کے مطابق یہ عورت کسی حاکم مسلم کے ہاں دعویٰ پیش کرے اور گواہوں

 

سے مفقود کے ساتھ تا حال قیام نکاح حاکم کے پاس ثابت کرے ،نکاح کے اصل شاہد ضروری نہیں  بلکہ شہادت بالتسامع کافی ہے یعنی نکاح کی عام شہرت سن کر نکاح پر شہادت دی جاسکتی ہے ،اس کے بعد

 

شوہر کے مفقود ہونے کی شہادت شرعیہ  پیش کرے ،پھر حاکم اس شخص کی بقدر ممکن تلاش کرے  جہاں اس کے جانے کا ظن غالب ہو وہاں آدمی بھیجے ،اور جہاں صرف احتمال ہو خط وغیرہ سے تحقیق

 

کرے ،اخبار میں اشتہار دینا مفید  معلوم ہو تو یہ بھی کرے ،بہر کیف ہر ممکن صورت سے اس کی تلاش میں پوری کوشش کرے،دوسروں کے کہنے پر ہر گز اعتبار نہ کرے ،جب حاکم شوہر کے ملنے سے

 

بالکل ناامید ہوجائے تو عورت کو چار سال کی مہلت دے ،اگر ان چار سالوں میں بھی اس کی کوئی خبر نہ آئی تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست پیش کرکے نکاح فسخ کروالے ،اور شوہر کو مردہ تصور

 

کرکے عدت موت چار ماہ دس دن گذار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ،اگر کہیں حاکم مسلم موجود نہ ہو یا وہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرتا ہو تو جماعۃ المسلمین بطریق مذکورہ فسخ نکاح کا فیصلہ کرسکتی ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر دوسری جگہ نکاح کرنے کے بعد پہلا شوہر واپس آگیا تو اس کے احکام یہ ہیں۔(ا)یہ عورت اسی پہلے شوہر کو ملے گی ،جدید نکاح کی بھی ضرورت نہیں ،پہلا نکاح ہی کافی ہے۔(2)اگر

 

دوسرے شوہر نے خلوت صحیحہ کی ہو تو کل مہر دے گا ،اور عورت پر عدت طلاق واجب ہوگی ۔(3)عدت پہلے شوہر کے پاس گذارے گی مگر عدت گذارنے تک پہلے شوہر کے جماع کرنا جائز نہیں۔

 

(4)اگر دوسرے شوہر سے حالت نکاح میں یافسخ نکاح کے بعد عدت گذارنے سے قبل اولاد پیدا ہوگی تو یہ دوسرے شوہر کی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم دستخط کنندگان ذیل کے نزدیک مناسب یہ ہے کہ

 

حیلہ ناجز ہ ص 61 میں بعنوان "فائدہ" جو الفاظ لکھے گئے ہیں ان کو مندرجہ ذیل الفاظ میں تبدیل کردیا جائے۔

 

فائدہ:زوجہ مفقود کے لئے قاضی کی عدالت میں فسخ نکاح کی درخواست کے بعد جو مزید چار سال کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ عورت کے لئے نفقہ اور گذارہ کا بھی کچھ انتظام ہو

 

اور عصمت و عفت کے ساتھ یہ مدت گذرانے پر قدرت بھی ہو،اور اگر اس کے نفقہ اور گذارہ کا کوئی انتظام نہ ہو ،نہ شوہر کے مال سے نہ کسی عزیز واقارب یا حکومت کے تکفل سے اور خود بھی محنت و

 

مزدوری پردہ و عفت کے ساتھ کرکے اپنا گذارہ نہیں کرسکتی تو جب تک صبر کرسکے شوہر کا انتظار کرے جس کی مدت ایک ماہ سے کم نہ ہو اس کے بعد قاضی یا کسی مسلمان حاکم مجاز کی عدالت میں فسخ نکاح

 

کا دعویٰ دائر کرے ،اور اگر نفقہ اور گذارہ کا تو انتظام ہے مگر شوہر کے رہنے میں اپنی عفت و عصمت کا اندیشہ قوی ہے تو سال بھر صبر کرنے کے بعد قاضی کی طرف مرافعہ کرے اور دونوں صورتوں میں

 

گواہوں کے ذریعہ یہ ثابت کرے کہ اس کا شوہر فلاں اتنی مدت سے غائب ہے اور اس نے اس کے لئے کوئی نان ونفقہ نہیں چھوڑا اور نہ کسی کو اس کا ضامن بنایا اور اس نے اپنا نفقہ اس کو معاف بھی نہیں

 

کیا اور اس پر عورت حلف بھی کرے اور دوسرے صورت یعنی عفت کے خطرہ کی حالت میں قسم کھائے کہ میں بغیر شوہر کے اپنی عفت قائم نہیں رکھ سکتی ،قاضی کے پاس جب یہ ثبوت مکمل ہوجائے تو

 

قاضی اس کو کہ دے کہ میں نے تمہارا نکاح فسخ کردیا یقا شوہر کی طرف سے طلاق دیدی یا خود عورت کو اختیار دیدے کہ وہ اپنے نفس پر طلاق واقع کرے اور جب عورت طلاق اپنے نفس پر واقع کرے تو

 

قاضی اس طلاق کا نافذ کردے ۔

 

(کتاب الطلاق ،باب خیار الفسخ ،حکم زوجہ مفقود5/420،421،422 ط سعید)

 

 

                                                                                                                   واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     17 ربیع الثانی 1447ھ/11 اکتوبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:487