info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

ایک بیٹا،آٹھ بیٹیاں ،تقسیم وراثت

سوال

جناب مفتی دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم 

 

محترم میری والدہ کا مؤرخہ 3 اکتوبر بروز جمعہ 2025 کو انتقال ہوگیا ،والدہ مرحومہ کافی عرصہ سے بیمار تھیں ،والدہ مرحومہ کے ترکہ میں حسب ذیل چیزیں شامل ہیں:

 

(1)نقدی،(2)زیور دو عدد چوڑیاں ،ایک چین ،ایک عدد نتھ(3)کپڑے استعمال شدہ،واکر،وہیل چئیر ،اسلامی کتب(4)چند نئے سوٹ(5) کچھ الیکڑیکل سامان جیسے استری ،جوسر

 

مشین،کراکری،برتن،وغیرہ

 

والدہ مرحومہ نے وصیت کی تھی ایک مہینے کی پنشن کی رقم اپنی ایک بیٹی کو دینے کا کہا تھا یا مستقبل میں ان کا رجحان  یاادارہ تھا دینے کا،اسکا کیا حکم ہوگا؟والدہ مرحومہ نے جو چیزیں انہوں نے دی جس کو

 

بھی ۔یعنی اپنے بیٹے کو اپنی بیٹی /بیٹیوں کو اس کی بھی وضاحت فرمادیں۔والدہ مرحومہ کے نام پر کوئی جائیداد نہیں ہے،ورثاء میں ایک بیٹا اور آٹھ بیٹیاں ہیں (تمام شادی شدہ ) ہیں۔

 

قبر ،تدفین، ایدھی ایمبولینس ،میت گاڑی،کھانا اور دیگر یہ ورثاء نے مل جل کر کردئیے ہیں باہمی رضامندی سے۔اب برائے مہربانی راہنمائی فرمادیں کہ ان کے انتقال کے بعد معاملات ترکہ کی تقسیم کی

 

وضاحت فرمادیجئے (نیز یہ بھی وضاحت کردیجئے کہ سب ورثاء کی باہمی رضامندی سے معاملات مزید آسانی سے کس طرح حل کرسکتے ہیں ،تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے)

جواب

وارث کے لئے شرعا وصیت نافذ نہیں ہوتی اس لئے صورت مسؤلہ میں مرحومہ نے اپنی جس بیٹی کو پنشن دینے کی وصیت کی تھی وہ شرعا غیر  معتبر ہے البتہ اگر دوسرے ورثاء خوشی سے اس وصیت پر

 

راضی ہوں  تو مذکورہ وصیت نافذ کی جاسکتی ہے۔البتہ والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں سے جس کو جو چیز ھدیہ (گفٹ) کے طور پر دی تھی اور اس بیٹا/بیٹی نے اس پر قبضہ وتصرف بھی

 

حاصل کرلیا تھا تو وہ چیز اس کی ملکیت ہوگی اور اس میں اب وراثت جاری نہ ہوگی۔

 

ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے ،اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک

 

تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل ترکہ(سونا،چاندی ،نقدی ،سامان ،کپڑے وغیرہ)10 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔بیٹے کو دو حصے اور ہرایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

 

صورت ِ تقسیم یہ ہوگی:

 

 

 

10

بیٹا

2

بیٹی

1

بیٹی

1

بیٹی

1

بیٹی

1

بیٹی

1

بیٹی

1

بیٹی

1

بیٹی

1

میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

 

 

 

یعنی کل ترکہ میں  سے 20 فیصد حصہ بیٹے کو اور دس فیصد حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

لَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ

(کتاب الوصایا ، الباب الاول6/90 ط رشیدیہ)

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     19 ربیع الثانی 1447ھ/13 اکتوبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:489