info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

تجہیز وتکفین کے لئے کمیٹی بناکر جبراً چندہ لینے کا حکم

سوال

عرض یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں ایک دستور اور تنظیمی رواج قائم ہے کہ خاندان کے ہر گھر افراد خواہ بالغ ہوں یا نابالغ ان سب پر ماہانہ ایک مقررہ رقم ( مثلا سوروپے یا سو روٹیاں) لازمی طور پر مقرر کیا جاتا ہے ،پھر یہ رقم ماہانہ بنیاد پر ایک ذمہ دار شخص کے پاس جمع کی جاتی ہے ،جب خاندان میں کوئی شخص وفات پا جائے تو اس ماہانہ جمع شدہ تنظیمی رقم سے اس میت کے کفن ،دفن اور دیگر ضروری اخراجات پورے کئے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے یہ فنڈ رکھا جاتا ہے ۔اب آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:

1۔کیا خاندان یا قوم کا اس طرح کسی بھی فرد –بالغ یا نابالغ –پر ماہانہ رقم لازمی کرنا شرعا درست ہے؟

2۔اور کیا میت کے اخراجات کے لئے اس طرح کا تنظیمی فنڈ بنانا جائز ہے؟

3۔اگر جائز نہیں ہے تو اس کے جواز کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو لواحقین کے ساتھ ہمددری کرنا،ان کے کھانے وغیرہ کا انتظام کرنا ،میت کی تجہیز وتکفین کے امور میں تعاون کرنا مستحب اور مستحسن عمل ہے لیکن اس کے لئے باقاعدہ ایک کمیٹی بنانا اور پھر خاندان کے ہر بالغ و نابالغ فرد سے چاہے ہو راضی ہو یا راضی نہ ہو لازمی طور پر ماہانہ رقم لینا  شرعاً ناجائز اور غلط ہے۔اور اس میں شرعاً کئ قباحتیں ہیں اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے ،البتہ اگرمخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فردکوچندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہےکہ یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی  مصیبت اور موت کے وقت ان کی ضروریات کی کفالت کرے۔

حدیث شریف  میں ہے:

وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ ‌مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى

(مشکوۃ المصابیح ،کتاب البیوع ،باب الغصب والعاریۃ الفصل الثانی2/889 رقم2946 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ:آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی پر   ظلم مت  کرو،خبردار کسی شخص کا مال استعمال کرنا  اس کی دلی رضامندی کے بغیر جائز  نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(قَوْلُهُ وَبِاِتِّخَاذِ طَعَامٍ لَهُمْ) قَالَ فِي الْفَتْحِ وَيُسْتَحَبُّ لِجِيرَانِ أَهْلِ الْمَيِّتِ وَالْأَقْرِبَاءِ الْأَبَاعِدِ تَهْيِئَةُ طَعَامٍ لَهُمْ يُشْبِعُهُمْ يَوْمَهُمْ وَلَيْلَتَهُمْ، لِقَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم «اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ» حَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ وَلِأَنَّهُ بِرٌّ وَمَعْرُوفٌ، وَيُلِحُّ عَلَيْهِمْ فِي الْأَكْلِ لِأَنَّ الْحُزْنَ يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ فَيَضْعُفُونَ. اهـ.

(کتاب الصلوۃ،باب صلوۃ الجنازۃ،مطلب فی الثواب علی المصیبۃ2/240 ط سعید )

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کے فتاوی میں ہے:

میت کی اہلِ خانہ اور مہمانوں کے لئے کھانے کا بندوبست کرنے کے لئے کے لیے قائم کمیٹیوں کی شرعی حیثیت کی تفصیل درج ذیل ہے:

آج کل مختلف مقامات پر خاندان اور برادری میں میت کمیٹیاں بنانے کا رواج چل پڑا ہے، اس کمیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کمیٹی کے کسی ممبر کے گھر میں اگر خدانخواستہ موت کا سانحہ پیش آجائے تو اس میت کے گھر والوں اور تعزیت کے لیے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرنا  اسی کمیٹی کی ذمہ داری شمار ہوتی ہے، اس کمیٹی کا ممبر صرف ایک  خاندان یا برادری یا محلے کے لوگوں کو بنایا جاتا ہے، ممبر بننے کے لیے شرائط ہوتی ہیں، مثلاً یہ کہ ہر ماہ یا ہر سال ایک مخصوص مقدار میں رقم جمع کرانا لازم ہے، اگر یہ رقم جمع نہ کرائی جائے تو ممبر شپ ختم کردی جاتی ہے، جس کے بعد وہ شخص کمیٹی کی سہولیات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا، اس طرح کی کمیٹی کا میت کے اہلِ خانہ اور مہمانوں کے کھانے کا خرچہ برداشت کرنے کا  شرعی نکتہ نگاہ سے حسبِ ذیل تفصیل ہے:

میت کے اہلِ خانہ اور مہمانوں کے کھانے کا خرچہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا انتظام میت کے رشتہ داروں اور ہم سایوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے ایک دن اور رات کے کھانے کا انتظام کریں، کیوں کہ میت کے اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہونے اور تجہیز و تکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کا انتظام نہیں کرپاتے۔

غزوۂ موتہ میں جب نبی کریم ﷺ  کے چچا زاد بھائی حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور ان کی وفات کی خبر آپ ﷺ  تک پہنچی تو آپ ﷺ  نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرو، کیوں کہ ان پرایسا شدید صدمہ آن پڑا ہے جس نے انہیں (دیگر اُمور سے) مشغول کردیا ہے۔

میت کے اہلِ خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں تو ان کا شریک ہونا  بھی درست ہے، تاہم تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے لوگوں کے لیے میت کے ہاں باقاعدہ کھانے کا انتظام کرناخلافِ سنت عمل ہے۔

مروجہ انجمنوں اور کمیٹیوں کے بظاہر نیک اور ہم دردانہ مقاصد سے ہٹ کر کئی شرعی قباحتیں ہیں:

1: کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب، ہر ماہ ایک مخصوص رقم کمیٹی میں جمع کرے،اگر وہ یہ رقم جمع نہیں کراتا تو اُسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی جو ماہانہ چندہ دینے والے ممبران کو مہیا کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی بنیاد ’’امدادِ باہمی‘‘ پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات  فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا)کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

2:کمیٹی کے ممبران میں سے بعض اوقات غریب و نادارلوگ بھی ہوتے ہیں، جو اتنی وسعت واستطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو روپے بھی ادا کرسکیں، لیکن خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں، یوں وہ رقم تو جمع کرادیتے ہیں، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔

3: بسااوقات اس طریقہ کار میں ضرورت مند اور تنگ دست سے ہم دردی اور احسان کی بجائے اس کی دل شکنی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ برتا جاتا ہے، کیوں کہ خاندان کے جو غریب افراد کمیٹی کی ماہانہ یا سالانہ فیس نہیں بھر پاتے انہیں کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، اس طرح ان کی حاجت اور ضرورت کے باوجود اُنہیں اس نظم کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور پھر موت کے غمگین موقع پر اُسے طرح طرح کی باتوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

4: اس طریقہ کار میں کھانا کھلانا ایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حال آں کہ مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کسی کے ہاں میت ہوجائے تو مستحب یہ ہے کہ میت کے عزیز و اقارب اور پڑوسی مل کر میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا انتظام کریں، نیزاس طرح کی مروجہ کمیٹیوں کے قیام میں شرعاً کئی قباحتیں ہیں، اس سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فردکوچندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار، غریب و نادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگریہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز و تکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے تو یہ درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

(اجتماعی کمیٹی کے فنڈ سے میت کے گھر تین دن کھانا بھیجنا اور مہمانوں کو کھانا کھلانے کا حکم، فتویٰ نمبر : 144106200772)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                 8 رجب المرجب 1447ھ/29 دسمبر 2025 ء

                                               فتویٰ نمبر:511