فتوے
شرط پائے جانے پر وقوع طلاق کی دھمکی دینا
سوال
سؤال: مفتی صاحب مجھے ایک مسلے کے بارے آپ کی مدد چاہیے
مفتی صاحب میرا اور میری بڑی بہن کا آپس میں کچھ بیوی کے لیکر مسئلہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میری بہن ناراض ہو گئی تھی اس کو منانے کی بھی کوشش کی پر وہ مانی نہیں جس کی وجہ سے وہ میرا گھر آنا چھوڑ دیا تھا، میرے بہت بولنے پر وہ میرے گھر نہیں آتی تھی۔ پھر ایک دن میں نے دوبار فون کیا بہت کوشش کی پر بات نہیں بنی اور فون اپنی بڑی بیٹی کو دے دیا
جب بڑی بیٹی نے مجھ سے بات کی تو کہا ماموں امی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے تو مجھے اس بات پر بہت غصہ آیا اور میں نے اپنی بھانجی کو بولا تم اپنی ماں کو بھی بول دو آج کے بعد تمھارا میری بیوی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا اگر تم میرے گھر آؤ گی تو میری بیوی تمھاری کوئی خدمت نہیں کرے گی اور نہ تمھارے گھر کو جائے گئی اگر اس نےکچھ بھی کیا تو میں اس کو طلاق دوں گا
بس اتنی بات بول کر میں نے کال کاٹ دی۔
اس علاوہ میں نے کوئی بات نہیں بولی
اب مجھے پورا یاد ہے میں نے یہ الفاظ بولیں ہیں
میں نے اپنی بھانجی سے پوچھا تو وہ بول رہی ہے کہ ماموں مجھے ابھی صحیح سے یاد نہیں ہے
اس بات کو بھی 2 سال گزر گئے ہیں اور میرے پاس کوئی بھی نہیں تھا صرف اللہ پاک کے علاوہ ۔اب اس کے بارے شرعی حکم عنایت فرمادیں۔
جواب
صورت مسؤلہ میں سائل نے اپنی بھانجی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ جملہ کہا کہ"تم اپنی ماں کو بھی بول دو آج کے بعد تمھارا میری بیوی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا اگر تم میرے گھر آؤ گی تو میری بیوی تمھاری کوئی خدمت نہیں کرے گی اور نہ تمھارے گھر کو جائے گئی اگر اس نےکچھ بھی کیا تو میں اس کو طلاق دوں گا"۔اس جملہ میں سائل نے شرط پائے جانے کی صورت میں یہ طلاق واقع کرنے کی دھمکی دی ہے اور یہ کہا کہ "طلاق دوں گا "یہ نہیں کہا کہ" طلاق ہوجائے گئ" ،اور مستقبل میں طلاق کی دھمکی سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا اس جملہ کی رُو سے سائل کی بیوی اگر اپنی مذکورہ نند کے گھر چلی گی یا اس کی خدمت و اکرام کیا تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک سائل خود طلاق نہ دے دے۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام"
(کتاب الطلاق ،ج:1،ص:38،ط:رشیدیہ )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَإِذَا أَضَافَهُ إلَى الشَّرْطِ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ اتِّفَاقًا مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ: إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ وَلَا تَصِحُّ إضَافَةُ الطَّلَاقِ إلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَالِفُ مَالِكًا أَوْ يُضِيفَهُ إلَى مِلْكٍ وَالْإِضَافَةُ إلَى سَبَبِ الْمِلْكِ كَالتَّزَوُّجِ كَالْإِضَافَةِ إلَى الْمِلْكِ
(کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط 1/420 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
29جمادی الثانیہ 1447ھ/21 دسمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:509
