فتوے
مالک اور مزدور کا کام میں شراکت(شرکت اعمال)
سوال
گذارش یہ ہے کہ میں ایک دوکان کا مالک ہوں ،میں نے ایک کاریگر رکھا ہے جو میری دوکان میں UPS کاکام کرتا ہے جو اس کے کام کے پیسے لیتا ہے اب ہم اس کے ساتھ پارٹنر شپ کرنا چاہتے ہیں UPS کے سلسلے میں:
1۔UPS بنانا۔
2۔UPS اگر بنتا نہیں ہے تو مالک اس کو بیچ دیتا ہے وہ خرید لینا۔
3۔اس کو کباڑ میں بیچ دیتے ہیں اس میں جو پرافٹ ہوتا ہے ۔
4۔بعض سامان نکال کر بیچ دیتے ہیں اور بعض دفعہ پورا بک جاتا ہے۔
5۔UPS جب ٹھیک ہوتا ہے تو لگانے کے بھی پیسے لگتے ہیں جو مالک دیتا ہے۔
6۔بعض دفعہ UPS کی پوری فٹنگ بھی کرنی پڑتی ہے جس میں سامان دوکان کا ہوتا ہے اور اس کو لگانے کی مزدوری بھی ملتی ہے ۔ان سب کاموں میں دونوں کا برابر کا حصہ ہوگا ۔اس کا حکم قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کردیں ۔
تنقیح:دوکان کا مالک بھی کاریگر کے ساتھ کام کرتا ہے،کچھ کام مالک کو نہیں آتا تو کاریگر کرتا ہےاور بسا اوقات کوئی ایسا کام آجاتا ہے جو کاریگر کو بھی نہیں آتا تو پھر تیسرے شخص سے وہ کام کروایا جاتا ہے پیسے دیکر۔نیز دوکان کا مالک کاریگر کے ساتھ صرف UPS کے کام میں پارٹنر شپ کرنا چاہ رہا ہے باقی دیگر کام وہ جو دوکان میں کرتا ہے اس میں کاریگر کا کوئی عمل دخل نہ ہوگا،اور کاریگر بھی دوکان میں چند گھنٹوں کے لئے آتا ہے باقی وہ سارا دوسری جگہ بھی ملازمت کرتا ہے۔
جواب
دو یا زائد اشخاص اگر کسی مخصوص کام میں اس طرح شرکت کرلیں کہ وہ سب افراد کام کریں گے اورکام کرنے کی اجرت تمام لوگوں میں باہمی رضامندی سے فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوگی تو یہ جائز ہے،اس کو فقہ کی اصطلاح میں "شرکت اعمال "کہا جاتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں سائل اگر کاریگر کے ساتھ UPS کے کام میں اس طرح شرکت کرتا ہے کہ جو بھی کام UPS سے متعلق دوکان میں آئے گا ،اس کی مرمت چاہئےمالک دوکان کرے یا کاریگراس کا نفع دونوں کے درمیان طے شدہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوگا ۔ایسی شرکت کرنا شرعا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
وَ) إمَّا (تَقَبُّلٌ) وَتُسَمَّى شَرِكَةَ صَنَائِعَ وَأَعْمَالٍ وَأَبْدَانٍ (إنْ اتَّفَقَ) صَانِعَانِ (خَيَّاطَانِ أَوْ خَيَّاطٌ وَصَبَّاغٌ) فَلَا يَلْزَمُ اتِّحَادُ صَنْعَةٍ وَمَكَانٍ (عَلَى أَنْ يَتَقَبَّلَا الْأَعْمَالَ) الَّتِي يُمْكِنُ اسْتِحْقَاقُهَا
وَمِنْهُ تَعْلِيمُ كِتَابَةٍ وَقُرْآنٍ وَفِقْهٍ عَلَى الْمُفْتَى بِهِ، بِخِلَافِ شَرِكَةِ دَلَّالِينَ وَمُغَنِّينَ وَشُهُودِ مَحَاكِمَ وَقُرَّاءِ مَجَالِسَ وَتَعَازٍ وَوُعَّاظٍ، وَسُؤَّالٍ لِأَنَّ التَّوْكِيلَ بِالسُّؤَالِ لَا يَصِحُّ قُنْيَةٌ وَأَشْبَاهٌ (وَيَكُونُ الْكَسْبُ بَيْنَهُمَا) عَلَى مَا شَرَطَا مُطْلَقًا فِي الْأَصَحِّ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِرِبْحٍ بَلْ بَدَلُ عَمَلٍ فَصَحَّ تَقْوِيمُهُ (وَكُلُّ مَا تَقَبَّلَهُ أَحَدُهُمَا يَلْزَمُهُمَا) وَعَلَى هَذَا الْأَصْلِ (فَيُطَالَبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْعَمَلِ وَيُطَالِبُ) كُلٌّ مِنْهُمَا (بِالْأَجْرِ وَيَبْرَأُ) دَافِعُهَا (بِالدَّفْعِ إلَيْهِ) أَيْ إلَى أَحَدِهِمَا (وَالْحَاصِلُ مِنْ) أَجْرِ (عَمَلِ أَحَدِهِمَا بَيْنَهُمَا عَلَى الشَّرْطِ) وَلَوْ الْآخَرُ مَرِيضًا أَوْ مُسَافِرًا أَوْ امْتَنَعَ عَمْدًا بِلَا عُذْرٍ لِأَنَّ الشَّرْطَ مُطْلَقُ الْعَمَلِ لَا عَمَلُ الْقَابِلِ: أَلَا تَرَى أَنَّ الْقَصَّارَ لَوْ اسْتَعَانَ بِغَيْرِهِ أَوْ اسْتَأْجَرَهُ اسْتَحَقَّ الْأَجْرَ بَزَّازِيَّةٌ
(کتاب الشرکۃ 4/321،322،323 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
30ربیع الاول 1447ھ/24 ستمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:482
