فتوے
سات زمینیں اور ہر زمین میں انبیاء کا سلسلہ ہے(حدیث کی تشریح)
سوال
میرا سوال اثر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق ہے قول ابن عباس رضی اللہ عنہما سورہ الطلاق کی آیت (ومن الارض مثلھن) کے تحت مفہوم ہے :ہر سات زمین میں نبوت ہے ،آدم ،ابراھیم،نوح اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وعلی جمیع الانبیاء ہیں ،تمہاری نبوت کی طرح،اس حدیث کا اکثر محدثین نے انکار کیا ہے اور غیر ثابت کہا ہے جبکہ حضرت مولانا نانوتویؒ نے کہا ہے کہ :اگر ہمارے محمدﷺ کو سات زمینوں کا خاتم کہا جائے تو اس میں ان کی شان زیادہ ہے۔لیکن ایک مولانا صاحب نے اس کے متعلق کہا ہے کہ :بعض علماء یہ بھی کہتے ہیں ہرہر زمین کا الگ الگ خاتم ہے اور ان کی نبوت سے ہمیں فرق نہیں"۔اب ذہن میں اشکال یہ ہے کہ اگر وہاں الگ خاتم مانے جائیں تو ہمارے نبی ﷺ آخری پیغمبر تو نہ رہے ۔ختم نبوت کا مکمل معنیٰ کیا ہے ؟اگر کوئی شخص اس قسم کا اعتقاد کرے کہ ہر زمین کا الگ خاتم ہے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیرا؟
جواب
اللہ تعالیٰ نے سورہ طلاق کی آخری آیت میں زمین اور آسمان کی تخلیق کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا ہے کہ سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ(سورۃالطلاق 12)
ترجمہ:اللہ وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی(تفسیر عثمانی)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں محدثین کرام نےحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اثر نقل کیا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ "سات زمینیں ہیں اور ہر زمین میں نبی ہیں تمہارے نبی ﷺکی طرح ،اور آدم ہیں تمہارےآدم ؑکی طرح اور نوح ہیں تمہارے نوحؑ کی طرح اور ابرھیم ہیں تمہارے ابرھیمؑ کی طرح اور عیسیٰ ہیں تمہارےعیسیٰؑ کی طرح۔ محدثین کرام نے اس اثر کو نقل کرکے اس کے روایوں کے معتبر ہونے کے باعث اس کو صحیح تو کہا ہے لیکن اس کے ساتھ اس اثر میں کچھ کلام بھی کیا ہے اس وجہ سے اس کو شاذ بھی کہا ہے۔
وعن ابن عباس أنهم إما ملائكة أو جن،وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم والحاكم وصححه والبيهقي- في شعب الإيمان. وفي الأسماء والصفات- من طريق أبي الضحى عنه أنه قال في الآية: سبع أرضين في كل أرض نبي كنبيكم وآدم كآدم ونوح كنوح وإبراهيم كإبراهيم وعيسى كعيسى، قال الذهبي: إسناده صحيح ولكنه شاذ بمرة لا أعلم لأبي الضحى عليه متابعا
(روح المعانی،سورۃ الطلاق آیت 12،جلد 14 صفحہ 338 ط دارالکتب العلمیۃ)
فتح الباری میں ہے:
ویدل للقول الظاہر مارواہ ابن جریر من طریق شعبۃ عن عمرو بن مرۃ عن ابی الضحیٰ عن ابن عباس فی ھذہ الایۃ ومن الارض مثلھن قال:فی کل ارض مثل ابراھیم ونحوما علیٰ الارض من الخلق ھکذا اخرجہ مختصرا واسنادہ صحیح واخرجہ الحاکم والبیہقی من طریق عطاء ابن السائب عن ابی الضحیٰ مطولا ً واولہ ائ سبع ارضین فی کل ارض آدم کادمکم ونوح کنوحکم وابراھیم کابراھیمکم وعیسیٰ کعیسیٰ ونبی کنبیکم قال البیہقی :اسنادہ صحیح الاانہ شاذ بمرۃ۔
(کتاب بدء الخلق،باب ماجاء فی سبع ارضین 6/360 ط قدیمی کتب خانہ)
عمدۃ القاری میں ہے:
وروی البیہقی عن ابی الضحیٰ عن مسلم عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما انہ قال:اللہ الذی خلق سبع سموات ومن الارض مثلہن (الطلاق 12)قال:سبع ارضین فی کل ارض نبی کنبیکم وآدم کآدمکم ونوح کنوحکم وابراھیم کابراھیمکم وعیسیٰ کعیسیٰ ثم قال اسناد ھذا الحدیث عن ابن عباس صحیح وھو شاذ بمرۃ لااعلم لابی الضحیٰ علیہ متابعاً
(کتاب بدء الخلق ،باب ماجاء فی سبع ارضین 15/153 ط رشیدیہ)
حجۃ الاسلام الامام الکبیر حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ "تحذیر الناس" میں لکھتے ہیں:
"البتہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے ایک اثر منقول ہے جو درجہ تواتر تک نہیں پہنچا ،نہ اس کے مضمون پر اجماع منعقد ہوا،اس لئے تکلیف اعتقاد اور تکفیر منکراں تو مناسب نہیں، پر ایسے آثار کا انکار خصوصا جب کہ اشارۃً کلام ربانی بھی اس طرف ہو،خالی ابتداع سے نہیں ،ایسی باتوں کا منکر پورا اہل سنت وجماعت تو نہیں کیونکہ ائمہ حدیث نے اس کی تصحیح کی ہے اور جس نے اس کو شاذ کہا ہے جیسے امام بیہقی تو انہوں نے صحیح کہہ کر شاذ کہا ہے اور اس طرح سے شاذ کہنا مطاعن حدیث میں سے نہیں سمجھا جاتا ۔
(تحذیر الناس ،مندرجہ مقالات حجۃ الاسلام 2/161 ط تالیفات اشرفیہ)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ اثر مجمل،متشابہ اور محتاج تفسیر ہے اس لئے علماء کرام نے اس کی چند تاویلیں کی ہیں،جن میں ایک تاویل ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس زمین میں جس میں ہم لوگ بستے ہیں نبوت کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح سات زمینوں میں سے ہر زمین میں نبوت کا سلسلہ جاری ہے ،اور پھر جس طرح اس زمین میں نبوت کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور اس سلسلہ مبارکہ کی انتہاء حضور اقدس ﷺ سے ہوئی بالکل اسی طرح ہر زمین میں بھی نبوت کی ابتدا وانتہاء ہے ،اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری زمینوں میں تشریف لانے والے انبیاء کرام کےنام بھی ہماری زمین میں تشریف لانے والے انبیاء کرام کے جیسے ہوں یا پھر ان کے نام الگ ہوں اورتشبیہ صرف مرتبہ میں ہو جیسے کہاجاتا ہے لکل فرعون موسیٰ (یعنی ہر باطل کا مقابل کرنے والا کوئی اہل حق ہوتا ہے)۔یعنی ہر زمین میں اول نبی بھی ہے اور خاتم النبیین بھی ہے لیکن دوسری زمینوں میں جو نبی خاتم النبیین ہیں وہ صرف اور صرف اس زمین کے خاتم ہیں ان کی خاتمیت عام نہیں ہے اور زمین کے بقیہ طبقات میں جاری نہیں ہے ،جبکہ ہماری زمین کے خاتم النبیین ،سید الاولین والاخرین ،حضوراقدس حضرت محمد ﷺ کی خاتمیت تمام زمین کے طبقات کے لئے ہے ،یعنی آپ ﷺ کی نبوت ،رسالت اور خاتمیت عام ،تام، اور دائم ہےاور قیامت تک تمام جن وانس اور زمین کے ہر طبقہ ،اورہر مخلوق پر ہے۔
حضور اقدس ،سرور کائنات ،سید الاولین والاخرین کی دنیا میں تشریف آوری کے بعد ہماری زمین میں اور زمین کے نچلے طبقات میں بھی جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ دجال،اور کذاب ہوگا اور جو اس کا اعتقاد رکھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔زمین کے نچلے طبقات میں بھی جو اس زمین کے خاتم ہیں ان کا زمانہ حضور ﷺ سے پہلے کا ہے ۔ آپ ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد زمین کے کسی بھی طبقہ میں نیا نبی جدید شریعت کے ساتھ مبعوث نہیں ہوسکتا۔
حجۃ الاسلام الامام الکبیر حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ "تحذیر الناس" میں لکھتے ہیں:
بعد اس تفصیل کے بطور خلاصہ تقریر وفذلکہ دلائل یہ عرض ہے کہ ہر زمین میں اس زمین کے انبیاء کا خاتم ہے پر ہمارے رسول مقبول عالم ﷺ ان سب کے خاتم ۔آپ کو ان کے ساتھ وہ نسبت ہے جو بادشاہ ہفت اقلیم کو بادشاہان اقالیم خاصہ کے ساتھ نسبت ہوتی ہے جیسے ہر اقلیم کی حکومت اس اقلیم کے بادشاہ پر اختتام پاتی ہے چناچہ اسی وجہ سے اس کو بادشاہ کہا ،آخر بادشاہ وہی ہوتا ہے جو سب کا حاکم ہوتا ہے ۔ایسے ہر زمین کی حکومت نبوت اس زمین کے خاتم پر ختم ہوجاتی ہے، پر جیسے ہر اقلیم کا بادشاہ باوجود یہ کہ بادشاہ ہے ،پر بادشاہ ہفت اقلیم کا محکوم ہے ۔ایسے ہی ہر زمین کا خاتم اگر چہ خاتم ہے پر ہمارے خاتم النبیین کا تابع ،جیسے بادشاہ ہفت اقلیم کی عزت اور عظمت اپنی اس اقلیم کی رعیت پر حاکم ہونے سے جس میں خود مقیم ہے اتنی نہیں سمجھی جاتی جتنی کہ بادشاہان اقالیم باقیہ پر حاکم ہونے سے سمجھی جاتی ہے ایسی ہی رسول اللہ ﷺ کی عزت وعظمت اپنی اس اقلیم کی رعیت پر حاکم ہونے سے جس میں خود مقیم ہے اتنی نہیں سمجھی جاتی جتنی کہ بادشاہان اقالیم باقیہ پر حاکم ہونے سے سمجھی جاتی ہے ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کی عزت وعظمت فقط اس زمین کے انبیاء کے خاتم ہونے سے نہیں سمجھی جاسکتی جتنے خاتمیین اراضی سافلہ کے خاتم ہونے سے سمجھی جاتی ہے۔
مگر تعجب آتا ہے آج کل کے مسلمانوں سے کہ کس تشدد سے اور خاتموں بلکہ خود زمینوں سے انکار کرتے ہیں تو اس پر ماننے والوں پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں یاسنی نہ ہونے کا اتہام کرتے ہیں یہ وہی مثل ہوئی کہ نکٹوں نے ناک والے کو "ناکو"کہا تھا۔خلاصہ مکنون خاطر منکرین اس صورت میں یہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کو اتنا عظیم الشان مت سمجھو ،کافر ہوجاؤ گے ۔رسول اللہ ﷺ سے اتنی محبت نہ کرو ،دیکھو سنی نہ رہو گے سو اگر یہی کفر واسلام اور یہی بدعت و سنت ہے تواس اسلام سے کفر بہتر ہے ،اور سنت سے بدعت افضل ۔امام شافعیؒ نے ان لوگوں کے مقابلہ میں جو محبت اہل بیت بوجہ غلو رفض سمجھتے تھے ،یوں فرمایا تھا۔ ان کان رفضاً حب ال محمد فلیشہد الثقلان انی رافض۔
(تحذیر الناس ،مندرجہ مقالات حجۃ الاسلام 2/173،174 ط تالیفات اشرفیہ)
تفسیر معارف القرآن میں حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ سے اس اثر کے تین مطالب ذکر کئے گیے ہیں:
اسلام کی دعوت اس زمین کےسوا دیگر طبقات ارض میں کتاب وسنت سے کہیں ثابت نہیں ،اگر ہوتی تو ضرور اس بارہ میں کوئی نص وارد ہوتی اور آنحضرت ﷺ ضرور اس کو بیان فرماتے ،اس بنا پر علماء نے اس اثر کو باوجود صحیح الاسناد ہونے کے شاذ بتلایا ہے اور اگر صحیح مانا بھی جائے تو اس کی مختلف تاویلیں کی جاسکتی ہیں :
تاویل اول: ممکن ہے مراد یہ ہو کہ زمین کے ہر طبقہ میں ایک ہادی ہے جو اس طبقہ کے نبی کے ہم نام ہو پس ان طبقات تحتانیہ میں آدم ؑ اور نوح ؑ اور موسیٰؑ ،اور عیسیٰؑ اور محمد رسول ﷺ کے ہم نام ہادی ہوتے ہیں جو حقیقت میں انبیاء نہ تھے بلکہ محض ہادی تھےاور اس طبقہ کے انبیاء کے ہم نام تھے اور کسی اعتبار سے اس طبقہ کے انبیاء ورسل کے مشابہ تھے جیسے کہ حدیث میں ہے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اور مشابہت سےمماثلت اور مساوات لازم نہیں آتی اس لئے کہ کلام عرب میں کاف تشبیہ کے لئے آتا ہے اور تشبیہ کے لئے یہ لازم نہیں کہ مشبہ مشبہ بہ کے مماثل اور برابر ہو لہذا اس سے یہ بات ثابت کرنا کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کا بھی کوئی نظیر اور ہمسر ہے کسی طرح صحیح نہیں نیز حق تعالیٰ شانہ کے اس قول ان اللہ اصطفیٰ آدم ونوحا واٰل ابراھیم واٰل عمراٰن علی العالمین سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت اولاد آدم کے ساتھ مخصوص ہے اور جمہور علماء کا بھی یہی قول ہے کہ جنات میں سے رسول نہیں آئے،تحتانی طبقات کے باشندے اسی طبقہ زمین کے پیغمبروں کے تابع رہے ہیں۔(دیکھو کشاف اصطلاحات الفنون ص 261/ج 1)
تاویل دوم: یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد یہ ہو کہ جس طرح اس طبقہ زمین میں نبوت کا سلسلہ جاری رہا اسی طرح زمین کے تحتانی طبقات میں بھی ہدایت کے لئے نبوت و بعثت کا سلسلہ جاری رہا اور چونکہ بدلائل عقلیہ ونقلیہ سلسلہ کا غیر متناہی ہونا باطل ہے اس لئے ضروری ہوا کہ ہر طبقہ میں ایک مبدا سلسلہ ہوگا جو ہمارے آدم علیہ السلام کے مشابہ ہوگا اور ایک آخر سلسلہ ہو جو ہمارے خاتم النبیین کے مشابہ ہوگا ،پس بناءً علیہ طبقات تحتانیہ کے اواخر انبیاء پر خواتم کا اطلاق درست ہوگا مگر اس کی خاتمیت اس طبقہ کے ساتھ مخصو ص ہوگی عام نہ ہوگی،بلکہ اضافی ہوگی اور ہمارے خاتم الانبیاء کی خاتمیت عام اور تام اور مطلق اور دائم ہوگی کیونکہ آپ کی دعوت اور بعثت عام ہے کوئی فرد بشر اس سے مستثنیٰ نہیں لہذا مطابق عقائد اہل سنت یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کی نبوت ورسالت عام ہے اور قیامت تک تمام جن وانس پر آپ ﷺ کی شریعت کی پیروی فرض اور لازم ہے پس اگر بالفرض والتقدیر آپ کے زمانہ میں کسی طبقہ زمین میں کوئی نبی ہوا بھی تو آپ ﷺ ہی کی شریعت کا متبع ہوگا اور وہ صرف اپنے ہی طبقہ کا خاتم ہوگا اور اسکی خاتمیت اضافی ہوگی اور حضور ﷺ کی خاتمیت عام،تام اور دائم ہے ،حضور پر نور ﷺ جس طبقہ زمین پر مبعوث ہوئے اس طبقہ زمین پر جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ مسیلمہ کذاب کی طرح بلا شبہ دجال اور کذاب ہوگا مسیلمہ کذاب خواہ یمن کا ہو یا پنجاب کا سب کا ایک ہی حکم ہے ۔اور طبقات تحتانیہ کے خواتم میں عقلاً تین احتمال ہیں اور یہ کہ وہ خواتم آنحضرت ﷺ کے زمانہ نبوت کے بعد ہوں یہ احتمال قطعاً باطل ہے ،اس لئے کہ حدیث لانبی بعدی اس بارہ میں نص صریح ہے ،دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ دوسرے خواتم آپ ﷺ سے مقدم ہوں اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ہم عصر ہوں اس صورت میں ضروری ہے کہ وہ ضرور بالضرور شریعت محمدیہ کے متبع ہوں گے اور ان کی خاتمیت اضافی ہوگی اور ہمارے خاتم الانبیاء ﷺ کی خاتمیت اور دعوت عام اور تام ہوگی بہر حال خاتمیت حقیقی ہو یا اضافی ظہور خاتم کے بعد ہر طبقہ زمین نبوت کا دعویٰ کفر اور دجل ہوگا اور ہر طبقہ کا مدعی نبوت کذاب اور دجال اور مسیلمہ اور اسود عنسی کی طرح واجب القتل ہوگا اور علیٰ ہذا جو شخص آنحضرت ﷺ کی نبوت اور دعوت کو اسی طبقہ زمین کے ساتھ مخصوص سمجھتا ہو اور ہر طبقہ کے خاتم کو صاحب شرع جدید سمجھتا ہو وہ بلا شبہ کافر اور دجال ہے ۔
تاویل سوم: یہ بھی کہا جاسکتا ہے جیساکہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول عالم مثال پر محمول ہے کہ ہر طبقہ زمین میں اس طبقہ زمین کے صور مثالیہ اور اشباہ اور امثال موجود ہیں جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت اس معنیٰ کی تائید کرتی ہے وہ یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ان زمینوں میں مجھ جیسا ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی ہے اور ہر زمین میں اور ہر آسمان میں ایک خانہ کعبہ موجود ہے اس طرح زمین و آسمان میں ایک خانہ کعبہ موجود ہے ،اس طرح زمین وآسمان میں چودہ خانہ کعبہ موجود ہیں ،حضرات اہل کشف کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے اور عالم مثال یعنی رویت مثالیہ پر محمول ہے اور فتوحات مکیہ میں اس قسم کی چیزیں بکثرت موجود ہیں۔
(معارف القرآن ،سورۃ الطلاق آیت 12 جلد 8/160،161 ط مکتبہ المعارف )
احسن الفتاوی میں حضرت مفتی رشید احمد صاحبؒ لکھتےہیں:
غرضیکہ اولاً تو یہ حدیث نہیں بلکہ اثر ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے پھر اس کا ثبوت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مختلف فیہ ہے ،پھر اسرائیلیات میں سے ہونے کا شبہ ہے ،پھر صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو اس کا محمل واضح ہے مگر ہوس نبوت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ایسی کمزور بنیاد پر کتنی بڑی عمارت کھڑی کررہے ہیں کہ جب زمین کے دوسرے طبقات میں بھی انبیاء ہیں تو حضور اکرم ﷺ خاتم النبیین نہ ہوئے ان کی مثال بس وہی ہے من اسس بنیانہ علیٰ شفا جرف ھار فانھار بہ فی نار جھنم نص قرآنی اور قطعی و اجماعی عقیدہ کے ناقابل تسخیر قلعہ کو مچھر کے پر سے اڑانا چاہتے ہیں ،اللھم خذہم اخذ عزیز مقتدر۔اگر دوسرے طبقات میں انبیاء علیم السلام کا وجود تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے بعد ہوئے ہیں یا ان میں سے کوئی آپ کا ہم رتبہ ہے تشبیہ کے لئے مساوات ضروری نہیں ،آپ کی نبوت کا عموم اور ختم نبوت نصوص قطعیہ سے ثابت ہونے کی وجہ سے لازماً یہی کہنا پڑے گا کہ دوسرے طبقات میں اگر انبیاء گذرے ہیں تو حضور اکرم ﷺ سے قبل گزرے ہیں ،آپ کی نبوت جمیع طبقات کے لئے عام ہے اس پر یہ اشکال نہیں ہوسکتا کہ آپ سے دوسرے طبقات کے استفادہ کی کیا صورت ہے ؟اس لئے کہ وہاں بستے ہی جنات ہیں اور انہیں استفادہ کے لئے ہماری زمین پر آنے میں کوئی دقت نہیں نیز یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں حضور اکرم ﷺ کی صورت مثالیہ کام کررہی ہو بلکہ یہ احتمال سب انبیاء علیہم السلام میں ہے اس طرح تشبیہ اشتراک فی الاسم کو بھی شامل ہوگی یہ علی سبیل التسلیم تحریر کردیا ہے ورنہ حقیقت وہی ہے جو ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ دوسرے طبقات میں حضرات انبیاء علیہم السلام کا وجود ثابت نہیں ۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
(کتاب التفسیر والحدیث ،تحقیق حدیث فی کل ارض آدم 1/508،509 ط سعید )
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
20 ربیع الثانی 1447ھ/14 اکتوبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:491
