info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

ایام عادت سے پہلے خون نظر آنے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

مجھے 22 اگست کو ماہواری شروع ہوئی اور 31 اگست کو میں نے غسل کیا،پھر اب 19 ستمبر کو دوبارہ سے صرف ایک قطرہ ظاہر ہوا،اور مجھے عموما شروعات اسی طرح ہوتی ہےکہ پہلے دن ایک یا دو قطرے ظاہر ہوتے ہیں اور پھر دوسرے اور تیسرے دن بھی یہی ہوتا ہے اور تیسرے دن کی رات کو  صحیح سے شروع ہوتا ہے  پھر دس  دن تک چلتا ہے ۔پھر میں نے 19 ستمبر کے بعد 21 ستمبر کی رات تک چیک کیا بالکل بھی نہیں ہوا ،ان تین دنوں میں اس ایک قطرہ کے بعد پھر میں نے 21 ستمبر کو ہی غسل  کرلیا ،اب مجھے دو دن کے بعد 24 ستمبر  کو تھوڑی سے ماہواری ہوئی  اور اس کے بعد سے لیکر 26ستمبر تک کچھ بھی نہیں ہوا،تو پھر میں آج 27 ستمبر کو غسل کرکے نماز شروع کردی۔تواب میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمادیں ۔

تنقیح:ماہواری کے ایام عادت دس دن ہیں ،اور اس ماہ 3 دن پہلے خون شروع ہوا ہے۔؟

جواب

اگر کسی خاتون کو طہر صحیح کے بعد ایام عادت سے  چند دن پہلے ماہواری شروع ہوجائےتو اس کی ممکنہ تین  صورتیں بنتی ہیں:

1۔اگر ایام عادت کے دن اور ان دنوں( جن میں ماہواری شروع ہوئی ہے )کا مجموعہ دس دن سے  نہ بڑھے  تو خون نظر آتے ہی فورا نماز اور روزہ چھوڑ دے۔

2۔اگر ایام عادت سے اتنے دن پہلے خون نظر آیا کہ ان دنوں اور ایام عادت کے دنوں کو ملایا جائے تو مجموعہ دس دن سے اتنا بڑھ جائے کہ اس خون اور ایام عادت کے خون کو مستقل حیض بنانا ممکن ہو یعنی کم از کم اٹھارہ دن پہلے خون شروع ہوجائے تو اس صورت کا حکم یہ ہے کہ خون نظر آتے ہی نماز روزہ چھوڑدیا جائے۔

3۔اگر ایام عادت سے چند دن پہلے خون آیا اگر ان دنوں اور ایام عادت کے دنوں کو ملایا جائے تو مجموعہ دن دن سے تو بڑھ جاتا ہے لیکن اس خون کو مستقل خون بنانا درست نہ ہو تو اس صورت کا حکم یہ ہے کہ ایام عادت سے پہلے نظر آنے والا خون استحاضہ کے حکم میں ہوگا ،لہذا یام عادت تک نماز وغیرہ پڑھی جائے گی۔

صورت مسؤلہ میں مذکورہ خاتون کو طہر کے بعد  ایام عادت سے تین دن قبل خون شروع ہوایعنی 19ستمبر ایک قطرہ ظاہر ہوا۔پھر 24 ستمبر کو دوبارہ تھوڑی سے ماہواری ہوئی ،تو 19 ستمبر سے لیکر 24 ستمبر تک حکما خون جاری سمجھا جائے گا  ۔نیز مذکورہ خاتون کی ایام عادت دس دن ہیں تو ایام عادت سے جتنے دن پہلے خون ظاہر ہوا ہے وہ استحاضہ کے حکم میں ہے،ان دنوں کی نمازیں اگر خاتون نے ادا نہ کی ہوں تو ان کی قضا کرنا ضروری ہے،اور ایام عادت کے بعد سے حیض کے احکام شروع ہوں گے۔

منهل الواردين من بحار الفيض على ذخر المتأهلين في مسائل الحيض میں ہے:

فصل الانقطاع وكما) الكاف للمفاجأة أى أول ما (رأت الدم تترك الصلاة مبتدأة كانت أو معتادة) هذا ظاهر الرواية وعليه أكثر المشايخ وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى في غير رواية الأصول لا تترك المبتدأة ما لم يستمر الدم ثلاثة أيام قال في البحر والصحيح الأول كالمعتادة (وكذا) تترك الصلاة (إذا جاوز عادتها في عشرة) قال في المحيط وهو الأصح وهو قول الميداني وقال مشايخ بلخ تؤمر بالاغتسال والصلاة إذا حاوز عادتها وإما إذا زاد على العشرة فلا تترك بل تقضى مازاد على العادة كما يأتي (أو ابتدأ) الدم (قبلها) أي قبل العادة فإنها تترك الصلاة كما رأته لاحتمال انتقال العادة (إلا إذا كان الباقى من أيام طهرها ما لو صم إلى حيضها جاوز العشرة مثلًا امرأة عادتها فى الحيض سبعة وفى الطهر عشرون رأت بعد خمسة عشر من طهرها دما تؤمر بالصلاة إلى عشرين) لأن الظاهر انها ترى أيضًا فى السبعة أيام عادتها فإذا رأت قبل عادتها خمسة يزيد الدم على العشرة وإذا زاد عليها ترد إلى عادتها فلا يجوز لها ترك الصلاة قبل أيام عادتها هذا ما ظهر لى وقال المص هكذا اطلقوا لكن ينبغي أن يقيد بما إذا لم يسع الباقي من الطهر أقل الحيض والطهر وإلا فلا شك فى أن من عادتها ثلاثة في الحيض واربعون في الطهر إذا رأت بعد العشرين تؤمر بترك الصلاة انتهى

(رسائل ابن عابدین، منهل الواردين من بحار الفيض على ذخر المتأهلين في مسائل الحيض صفحہ 110 ط سھیل اکیڈمی)

حضرت مفتی احمد ممتاز صاحب احکام حیض،نفاس واستحاضہ میں لکھتے ہیں:

طہر صحیح کے بعد اگر ایام عادت میں خون نظر آئے تو فوراً نماز ،روزہ چھوڑدینا ضروری ہے ،اگر ایام عادت سے پہلے نظر آئے تو ایام قبلیہ اور ایام عادت کا مجموعہ دس دن سے بڑھے گا یا نہیں ،اگر نہ نہ بڑھے تو نماز ،روزہ چھوڑدے ،اگر بڑھ گیا تو ایام قبلیہ کے خون کو مستقل حیض بنانا ممکن ہوگا یا نہیں ،اگر مستقل حیض بنانا ممکن ہو تو نماز ،روزہ چھوڑدے ،اگر مستقل حیض بنانا ممکن نہیں تو نماز ،روزہ نہ چھوڑے۔

(احکام حیض ،نفاس واستحاضہ،سبق نمبر 4 ایام عادت سے قبل خون آنے کی مختلف صورتوں میں نماز کا حکم صفحہ 43 ط تعمیر معاشرہ  جامعہ خلفائےراشدین)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     5 ربیع الثانی 1447ھ/29ستمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:485