info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

نبوت ملنے سے پہلے کے اعمال سنت ہیں یا نہیں؟

سوال

آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا مطلوب ہے لیکن یہ بتایا جائے کہ سنت کی تعریف کیا ہے ؟اور سنت سے مراد کون سا افعال ہیں ؟نبوت ملنے سے پہلے کے اعمال بھی سنت میں داخل ہیں یا صرف وہ اعمال جو نبوت ملنے کے بعد آپ ﷺ سے صادر ہوئے وہ سنت ہیں  ؟ایک شخص یہ کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے 25 سال کی عمر میں 40 سال کی بیوہ  یعنی حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے شادی کی پھر پہلی بیوی جب تک  زندہ رہیں دوسری سے شادی نہیں کی ،پہلی بیوی کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے تقریبا 50 سال کی عمر میں دوسری ،تیسری شادیاں کیں اب اس شخص کا کہنا یہ ہے کہ سنت یہ ہے کہ 25 سال کی عمر میں بڑی عمر کی عورت سے شادی کی جائے پھر اس کی موجودگی میں دوسری شادی نہ کی جائے اس شخص کی بات کہاں تک درست ہے ؟کون سی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے ؟

جواب

آپ ﷺ کی ذات اقدس ساری انسانیت کے لئے بہترین نمونہ ہے ،آپﷺ کی سنتوں کی پیروی کرنے میں دارین کی کامیابی مضمر ہے ،قرآن کریم کی بیشتر آیات میں  آپ ﷺ کی اتباع کی ترغیب دی گئی ہے ،چناچہ ارشاد خداوندی ہے :

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ

(ال عمران آیت 31)

ترجمہ: (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (مولانا فتح محمد جالندھریؒ)

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا

(سورۃ الأحزاب آیت 21)

ترجمہ : تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو  (مولانا فتح محمد جالندھریؒ)

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ

(سورۃ الأحزاب آیت 6)

ترجمہ : پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں(مولانا فتح محمد جالندھریؒ)

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا

(سورۃ النساء آیت 80 )

ترجمہ: جو شخص رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بیشک اس نے خدا کی فرماں برداری کی اور جو نافرمانی کرے تو (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے (مولانا فتح محمد جالندھریؒ)

مذکورہ بالاآیات سے آپ ﷺ کی اتباع،اطاعت اور سنتوں پر عمل کرنے کی تاکید کی گئ ہے،اور سنت سے مراد آپ ﷺ کے وہ أفعال اور اعمال ہیں  جن کو آپ ﷺ نے غالب عادت کے طور پر کئے ہوں اور وہ آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے نہ ہوں اور نہ ہی آپ ﷺ سے سہوا صادر ہوئے  ہوں ،اور نہ ہی کسی عذر اور مجبوری کی بنا پر ان کو انجام دیا گیا ہو لہذا چار سے زیادہ شادی کرنا  یہ آپﷺ کی خصوصیت ہے ،کھڑے ہو کر آپ ﷺ سے پیشاب کرنا ثابت ہے لیکن یہ چونکہ عذر کی بنا پر ہوا تھا اس لئے ان أمور کو سنت نہیں کہا جائے گا ، خلاصہ یہ ہے ہروہ فعل یا عمل جو آپ ﷺسے  کرنا حدیث میں ثابت ہو اس کو "سنت " اسی وقت کہا جائے گا جب کہ وہ غالب عادت کے طور پر آپ ﷺ سے ثابت ہو ں ، پھر وہ اعمال چاہے نبوت ملنے سے پہلے کہ ہوں یا نبوت ملنے کے بعد  ہوں شرعا دونوں پر "سنت "کا اطلاق ہوتا ہے،البتہ یہ واضح رہے کہ سنت کی دو قسمیں ہیں :ایک کو "سنت ہدیٰ"اور دوسری قسم کو "سنت زوائد" کہتے ہیں ،جو أمور آپﷺ نے بطور عبادت سرانجام دئیے ان کو "سنن ہدیٰ" کہا جاتا ہے جیسے نماز ،روزہ ،اذان واقامت اور حج وغیرہ کو جس طریقہ سے ادا کیا ان کو سنت ہدی کہا جاتا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ  کہ کرنے والے کو ثواب ملتا ہے اور ان سنن کو ترک کرنے پر ملامت کی جاتی ہے اور جو أمور آپﷺ نے بطور عادت سرانجام دئیے جیسے آپﷺ کا کھانا کھانے کا طریقہ ،لباس پہننا اور سونے اور جاگنے کے متعلق عادات وامور کو "سنن زوائد " کہا جاتا ہے ،سنن زوائد پر عمل کرنا نیک بختی ، سعادت مندی اور فلاح دارین کی علامت ہے لیکن سنن زوائد کے تارک کو ملامت نہیں کی جاتی ہے ۔

سنن ہدی پر  اہتمام کے ساتھ عمل کیا جائے اورکسی سنت کو  ترک نہ کیا جائے  البتہ سنن زوائد پر اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق جہاں تک ممکن ہوسکے عمل کیا جائے اور اگر بشری تقاضہ کی وجہ سے کوئی سنت رہ جائے تو  وہ قابل ملامت نہیں جیسے حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ ﷺ "جو " کی روٹی کھایا کرتے تھے اور آٹے کو چھانا نہیں جاتا تھا تو ایک  مرتبہ حضرت خواجہ سید بہاوالدین نقشبند ؒ نے اپنے مریدین سے فرمایا کہ ہماری خانقاہ میں بھی اسی طرح بغیر چھاننے ہوئے "جو " کی روٹی پکائی جائی گی  لیکن جب اس طرح کیا گیا تو سب کے پیٹ میں درد ہو گیا جب حضرت خواجہ صاحب ؒ کو بتا یا گیا تو آپ نے اس سلسلہ کو فورا موقوف کردیا  اور فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کی مطابقت  اور برابری نہیں کرسکتے۔

الشیخ محمد عجاج الخطیب اپنی کتاب "السنۃ قبل التدوین " میں رقم طراز ہیں :

”کل ما اثر من النبی صلى الله عليه وسلم من قول، أو فعل، أو تقریر، أو صفة خلیقة أو خلقیة، سواء کان ذلک قبل البعثة، کتحنثہ فی غار حرا، أوبعدھا

(السنۃ قبل التدوین ،تعریف السنۃ فی الشرع صفحہ 16 ط مکتبہ وھبہ )

ترجمہ: سنت ہر وہ قول، فعل اور تقریر جو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہو ، چاہے وہ فطری ہو یا اخلاقی، قبل البعثت ہو جیسے غار حرا میں جاکر آپ کا عبادت کرنا  یا بعد البعثت ۔

فتاوی شامی میں ہے :

، وَالسُّنَّةُ نَوْعَانِ: سُنَّةُ الْهَدْيِ، وَتَرْكُهَا يُوجِبُ إسَاءَةً وَكَرَاهِيَةً كَالْجَمَاعَةِ وَالْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَنَحْوِهَا. وَسُنَّةُ الزَّوَائِدِ، وَتَرْكُهَا لَا يُوجِبُ ذَلِكَ كَسَيْرِ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فِي لِبَاسِهِ وَقِيَامِهِ وَقُعُودِهِ. وَالنَّفَلُ وَمِنْهُ الْمَنْدُوبُ يُثَابُ فَاعِلُهُ وَلَا يُسِيءُ تَارِكُهُ، قِيلَ: وَهُوَ دُونَ سُنَنِ الزَّوَائِدِ.

وَيُرَدُّ عَلَيْهِ أَنَّ النَّفَلَ مِنْ الْعِبَادَاتِ وَسُنَنُ الزَّوَائِدِ مِنْ الْعَادَاتِ، وَهَلْ يَقُولُ أَحَدٌ إنَّ نَافِلَةَ الْحَجِّ دُونَ التَّيَامُنِ فِي التَّنَعُّلِ وَالتَّرَجُّلِ، كَذَا حَقَّقَهُ الْعَلَّامَةُ ابْنُ الْكَمَالِ فِي تَغْيِيرِ التَّنْقِيحِ وَشَرْحِهِ. أَقُولُ: فَلَا فَرْقَ بَيْنَ النَّفْلِ وَسُنَنِ الزَّوَائِدِ مِنْ حَيْثُ الْحُكْمُ؛ لِأَنَّهُ لَا يُكْرَهُ تَرْكُ كُلٍّ مِنْهُمَا، وَإِنَّمَا الْفَرْقُ كَوْنُ الْأَوَّلِ مِنْ الْعِبَادَاتِ وَالثَّانِي مِنْ الْعَادَاتِ، لَكِنْ أَوْرَدَ عَلَيْهِ أَنَّ الْفَرْقَ بَيْنَ الْعِبَادَةِ وَالْعَادَةِ هُوَ النِّيَّةُ الْمُتَضَمِّنَةُ لِلْإِخْلَاصِ، كَمَا فِي الْكَافِي وَغَيْرِهِ، وَجَمِيعُ أَفْعَالِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُشْتَمِلَةٌ عَلَيْهَا كَمَا بُيِّنَ فِي مَحَلِّهِ.

وَأَقُولُ: قَدْ مَثَّلُوا لِسُنَّةِ الزَّوَائِدِ أَيْضًا «بِتَطْوِيلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ» ، وَلَا شَكَّ فِي كَوْنِ ذَلِكَ عِبَادَةً، وَحِينَئِذٍ فَمَعْنَى كَوْنِ سُنَّةِ الزَّوَائِدِ عَادَةً أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاظَبَ عَلَيْهَا حَتَّى صَارَتْ عَادَةً لَهُ وَلَمْ يَتْرُكْهَا إلَّا أَحْيَانًا؛ لِأَنَّ السُّنَّةَ هِيَ الطَّرِيقَةُ الْمَسْلُوكَةُ فِي الدِّينِ، فَهِيَ فِي نَفْسِهَا عِبَادَةٌ وَسُمِّيَتْ عَادَةً لِمَا ذَكَرْنَا. وَلَمَّا لَمْ تَكُنْ مِنْ مُكَمِّلَاتِ الدِّينِ وَشَعَائِرِهِ سُمِّيَتْ سُنَّةَ الزَّوَائِدِ، بِخِلَافِ سُنَّةِ الْهَدْيِ، وَهِيَ السُّنَنُ الْمُؤَكَّدَةُ الْقَرِيبَةُ مِنْ الْوَاجِبِ الَّتِي يُضَلَّلُ تَارِكُهَا؛ لِأَنَّ تَرْكَهَا اسْتِخْفَافٌ بِالدِّينِ، وَبِخِلَافِ النَّفْلِ فَإِنَّهُ كَمَا قَالُوا مَا شُرِعَ لَنَا زِيَادَةً عَلَى الْفَرْضِ وَالْوَاجِبِ وَالسُّنَّةِ بِنَوْعَيْهَا؛ وَلِذَا جَعَلُوا قِسْمًا رَابِعًا، وَجَعَلُوا مِنْهُ الْمَنْدُوبَ وَالْمُسْتَحَبَّ، وَهُوَ مَا وَرَدَ بِهِ دَلِيلُ نَدْبٍ يَخُصُّهُ، كَمَا فِي التَّحْرِيرِ؛ فَالنَّفَلُ مَا وَرَدَ بِهِ دَلِيلُ نَدْبٍ عُمُومًا أَوْ خُصُوصًا وَلَمْ يُوَاظِبْ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ وَلِذَا كَانَ دُونَ سُنَّةِ الزَّوَائِدِ، كَمَا صَرَّحَ بِهِ فِي التَّنْقِيحِ. وَقَدْ يُطْلَقُ النَّفَلُ عَلَى مَا يَشْمَلُ السُّنَنَ الرَّوَاتِبَ، وَمِنْهُ قَوْلُهُ: بَابُ الْوَتْرِ وَالنَّوَافِلِ، وَمِنْهُ تَسْمِيَةُ الْحَجِّ نَافِلَةً لِأَنَّ النَّفَلَ الزِّيَادَةُ، وَهُوَ زَائِدٌ عَلَى الْفَرْضِ مَعَ أَنَّهُ مِنْ شَعَائِرِ الدِّينِ الْعَامَّةِ، وَلَا شَكَّ أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْ تَثْلِيثِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ فِي الْوُضُوءِ وَمِنْ رَفْعِهِمَا لِلتَّحْرِيمَةِ مَعَ أَنَّهُمَا مِنْ السُّنَنِ الْمُؤَكَّدَةِ، فَتَعَيَّنَ مَا قُلْنَا

، وَبِهِ انْدَفَعَ مَا أَوْرَدَهُ ابْنُ الْكَمَالِ، فَاغْتَنِمْ تَحْقِيقَ هَذَا الْمَحَلِّ فَإِنَّك لَا تَجِدْهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْكِتَابِ، وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

(کتاب الطہارۃ ،سنن الوضو 1/103 ط سعید )

مفتی ارشاد قاسمی صاحب شمائل کبری میں تحریر فرماتے ہیں :

سنت کی دو قسمیں ہیں 1:سنن ہدیٰ،2:سنن زوائد   ۔سنن ہدی وہ سنت ہے جسے نبی پاک ﷺ نے کیا ہو من حیث العبادۃ جیسے جماعت اذان اور اقامت ،اسی طرح سنن صلوۃ ،صیام ،حج وغیرہ اور اس کا ترک باعث کراہت و ملامت ہو ۔سنن زوائد وہ سنن ہیں جو آپ ﷺ کے اخلاق و عادات سے متعلق ہوں جیسے لباس ونون وغیرہ کے سنن ،اس کا بجا لانا باعث ثواب ہے لیکن اس کا ترک باعث کراہت نہیں ۔

(شمائل کبریٰ 1/22،23 ط زمزم )

حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ارشاد فرماتے ہیں :

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے دو درجے ہیں ایک یہ کہ علماء کے فتویٰ پر عمل کرتا رہے، جس کو وہ جائز کہیں اس کو کرے اور جس کو ناجائز حرام کہیں ، اس سےبچے، یہ بھی ایک درجہ اتباع کا ہے کہ مباحات شرعیہ پر عمل کرلے، گو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مباحات کو نہ کیا ہو اور یہ بھی نجات کے لیے کافی ہے، میں غلو نہیں چاہتا گویہ مضمون میری نظر میں بہت اہم ہے جس کو میں بیان کرنا چاہتا ہوں ، مگر میں حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہتا کہ مباحات پر عمل کرنے کو ناکافی کہہ دوں ، ہرگز نہیں ! بلکہ میں صاف کہتا ہوں کہ مباحات پر عمل کرنا بھی اتباع میں داخل اور نجات کے لیے کافی ہے۔دوسرا درجہ اتباع کا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات و افعال کا اتباع کیا جائے،یہ کامل اتباع ہے اور اس کے لیے ضرورت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات و افعال و طریق عمل کے معلوم کرنے کی، پھر اس میں بھی تین درجے ہیں ایک عبادات میں اتباع، دوسرے معاملات میں اتباع، ان میں توجہاں تک ہوسکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا اتباع کرے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ عمل کی تلاش کرے کیونکہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور مخلوق سے ہے اور ایک یہ کہ ماکولات و مشروبات میں اتباع کیا جائے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا وہی کھائے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا وہی پئے، جو آپ نے پہنا وہی پہنے، اس میں جس قدر سہولت ہوسکے اتباع کیا جائے مبالغہ نہ کیا جائے، کیونکہ اس میں مبالغہ کرنا بعض اوقات ہم جیسے ضعفاء کے تحمل سے ہوتا ہے اور یہ اقویاء کا کام ہے۔جیسے حضرت خواجہ بہاء الدین کی یہی تحقیق ہے جس کا قصہ یہ ہے کہ آپ کی مجلس میں حدیث پڑھی گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھاتے تھے بلکہ آٹے کو پیس کر پھونک سے بھوسا اڑادیا جاتا تھا، جواڑ گیاوہ اڑ گیا باقی کو گوندھ کر پکالیا جاتا تھا، خواجہ صاحب نے فرمایا کہ آج سے ہمارے واسطے بھی اسی طرح آٹا گوندھا جائے اور چھلنی میں نہ چھانا جائے ،شام کو جو روٹی اس طرح کھائی گئی سب کے پیٹ میں درد ہوگیا، حضرت شیخ نے فرمایا کہ ہم نے بڑی گستاخی کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مساوات کا قصد کیا اور اپنے کو اس سنت پر عمل کرنے کا اہل سمجھا، ہم اس کے اہل نہ تھے، اس لیے تکلیف ہوئی، آئندہ سے ہمارے واسطے چھنا ہوا آٹا ہی بدستور پکایا جائے۔سبحان اللہ !کیسا ادب تھا کوئی بے ادب ہوتا تو سنت پر اعتراض کرتا کہ اچھا سنت پر عمل کیا تھا عمل بالسنت سے یہ ضرر ہوا، مگر حضرت شیخ نے ہم جیسوں کی تعلیم فرمادی کہ ہم اس سنت کے اہل نہ تھے کیونکہ ہمارے قویٰ ضعیف ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قویٰ ہم سے زیادہ قوی تھے اس لیے یہ طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے واسطے مناسب تھا۔غرض ماکولات و مشروبات وملبوسات میں اگر ہوسکے تو جتنا بھی ہوسکے اتباع کرے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدّ ورغبت سے کھایا ہے، اسی طرح آپ کو دست کا گوشت مرغوب تھا اور ٹھنڈا اور میٹھا پانی مرغوب تھا وغیرہ وغیرہ، لیکن اس میں اپنی ہمت سے آگے غلو نہ کیا جائے، زیادہ اہتمام اور کاوش کی ضرورت اُن امور میں ہے جن کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے یا مخلوق سے یعنی عبادات و معاملات ، اور ماکول و مشروب کا تعلق تو اپنی ذات سے ہے اس میں بہت کاوش کی ضرورت نہیں ، ہاں سہولت سے جتنا ہوجائے یہ بھی دولت عظیمہ ہے، مگر آج کل برعکس معاملہ ہے کہ ماکول و مشروبات و ملبوس میں تو اتباع نبوی کاوش کے ساتھ کیا جاتا ہے، عبادات اور معاملات میں اتباع کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔

(فقہ حنفی کے أصول وضوابط مع احکام السنۃ والبدعۃ الباب السادس صفحہ 257 ط ادارہ افادات اشرفیہ ، دوبگا ّہردوئی روڈ لکھنؤ)

حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ارشاد فرماتے ہیں :

سنت اس کو نہیں کہتے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محض ثابت ہو بلکہ سنت اس کو کہتے ہیں جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت غالبہ ہو، پھر وہ غلبہ خواہ حکمی ہو یا حسی ہو جیسے تراویح کو سنت مؤکدہ کہا جاتا ہے اور تاکد دوام پر موقوف ہے اور ظاہرہے کہ اس پر دوام حسی نہیں ہوا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص عارض یعنی خوف فرضیت کا عذر فرمادینے سے دوام کا مطلوب ہونا معلوم ہوا اور یہ دوام حکمی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی امر کا منقول ہونا سنت ہونے کے لیے کافی نہیں بلکہ جو عادت غالب ہو وہ سنت ہے، اور جو کسی عارض کی وجہ سے صادر ہوگیا ہو وہ سنت نہیں۔

(فقہ حنفی کے أصول وضوابط مع احکام السنۃ والبدعۃ الباب السادس صفحہ 251،252 ط ادارہ افادات اشرفیہ ، دوبگا ّہردوئی روڈ لکھنؤ)

حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ارشاد فرماتے ہیں :

میں کہتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (بجائے گیہوں کے) جَوعادۃً کھایا ہے یا عبادۃً؟ ظاہر ہے کہ عبادۃً نہیں کھایا، پھر عادۃ نبویہ کا اتباع شریعت میں واجب نہیں نہ ان کے ترک میں کوئی گناہ ہے، عادات میں مزاج وغیرہ کے لحاظ کرنے کا اختیار ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض عادات ایسی ہیں جن کی ہم برداشت نہیں کرسکتے، اس لئے شریعت نے عادت نبویہ کا اتباع واجب نہیں کیا، ہاں اگر کسی کو ہمت ہو، اور عادات پر عمل کرنا بھی نصیب ہوجائے تو اس کی فضیلت میں کوئی شک نہیں مگر اس کو دوسروں پر طعن کرنے کا بھی حق نہیں سنن عادیہ (مثلاً) سادے کپڑے اور جو کی روٹی یا اس کی مثل جو سنن عادیہ میں سے ہیں اگرکہیں ان کی وجہ سے مقصود فوت ہونے لگتا ہے تو ان کو چھڑا دیا جاتا ہے کیونکہ سنن عادیہ کوئی مقصود نہیں ہیں ۔بلکہ بعض موقعہ پر سنن عبادت تک چھڑا دی جاتی ہیں اگر ان سے ضرر ہوتا ہو مثلاً یہ سنت ہے کہ تہجد کی آٹھ رکعت پڑھے اب اگر کسی کو نیند زیادہ آتی ہے اور وہ تہجد کے واسطے زیادہ دیرتک جاگا اور پھر ایسا سویا کہ صبح کی جماعت فوت ہوگئی تو اس سے کہا جائے گا کہ تم دو رکعت پڑھ کر جلد سو رہو تاکہ صبح کی جماعت نہ جائے اگر چہ آٹھ رکعت سنن عبادت میں سے ہیں ، مگر جب اس سے بڑھ کر مقصود فوت ہوتا ہو تو اس کو چھڑا دیں گے۔

(فقہ حنفی کے أصول وضوابط مع احکام السنۃ والبدعۃ الباب السادس صفحہ 288،289 ط ادارہ افادات اشرفیہ ، دوبگا ّہردوئی روڈ لکھنؤ)

آپ ﷺ  کو باوجود طاقت  اور قدرت کے  عورتوں سے  انتہائی درجہ کی بے رغبتی حاصل تھی ،آپ ﷺ کو 40 جنتی مردوں کی طاقت عطا کی گئ  اور ایک جنتی مرد کو  دنیا کے سو مردوں کے برابر طاقت  ہوتی ہے ، اس لحاظ سے آپ ﷺ کو دنیا کے 4000 مردوں کے برابر طاقت حاصل تھی، دنیا کا ایک مرد میں  عام طور پر چار عورتوں سے  نکاح کی طاقت ہوتی ہے ،اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حضور ﷺ  کو 16000 عورتوں سے نکاح کی طاقت اور قدرت حاصل  تھی ،اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لئے نکاح کے عدد میں کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ آپ ﷺ کے لئے جتنا چاہیں نکاح فرمالیں  آپ ﷺ کے لئے اجازت تھی،لیکن آپ ﷺ کا کمال عفت اور بے رغبتی دیکھئے کہ 25 سال کی عین جوانی اور شباب کی عمر میں 40 سال کی بیوہ خاتون سے شادی کی وہ بھی ان خاتون کی خواہش پر ،پھر جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حیات تھیں دوسرا نکاح نہیں فرمایا،اور 53 سال کی عمر کے بعد مزید نکاح  فرمائے وہ بھی ایک خاص حکمتوں اور مصالح کی بنا پر ،پھر ساری زندگی ایک ساتھ آپ ﷺ کے حرم میں 9 سے زیادہ بیبیاں جمع نہیں ہوئیں، اورحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی زوجہ محترمہ ایسی نہ تھیں جو پہلے سے شادی شدہ نہ ہو ،اس وجہ سے کوئی  امتی من کل الوجوہ نکاح کے باب میں حضور ﷺ کی مشابہت اختیار نہیں کرسکتا ،آپ ﷺ نے عین جوانی کے وقت  باوجود کمال قدرت کے اپنے لئےاپنی سے بڑی عمر کی بیوہ خاتون کو پسند کیا لیکن اپنے امتیوں کو کنورای، کم عمر لڑکی سے نکاح کی ترغیب دی  ۔

اس تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہوگئ کہ نکاح کے باب میں آپ ﷺ نے جو طرزو انداز اختیار کیا   وہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی خاص ہے کوئی امتی اس میں آپ ﷺ کی ہمسری نہیں کرسکتا اس لئے اگر کوئی شخص 25 سال سے قبل یابعد میں اپنی سے کم عمر ،کنواری لڑکی سے نکاح کرے ،پھر  وہ شخص اپنی ضرورت کی بنا پردوسرا یا تیسرا نکاح فورا کر لے یا کچھ سالوں کر بعد  53 سال کی عمر  تک پہنچنے سے  پہلے  پہلےکرلے تو اس کو سنت پر عمل کرنے والا کہا جائے گا ،سنت کی مخالفت کرنے والا نہیں کہا جائے گا ۔

مصنف عبد الرزاق میں ہے :

عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أُعْطِيَ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ فِي الْجِمَاعِ» - أَنَا أَشُكُّ

(باب قوۃ النبی ﷺ 7 /506 ،رقم الحدیث 14049  ط المجلس العلمي- الهند،الطبعۃ الثانیۃ )

مسند ابی یعلی موصلی میں ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ»، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: فَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِي قُوَّةَ أَرْبَعِينَ

(قتادہ عن انس 5/456 رقم الحدیث 3176 ط  دار المامون للتراث دمشق)

محدث العصر حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ "معارف السنن " میں تحریر فرماتے ہیں :

فکان رسول اللّٰہ ﷺاعطی قوۃ اربعین رجلامن رجال اہل الجنۃ ورجل من اہل الجنۃ یعطی لہ قوۃ مأئۃ رجل فاذاضربنا اربعین فی مائۃ صارت اربعۃ آلاف الی قولہ ثم مع ہذہ القوۃ الخارقۃ للعادۃ لم یتزوج فی شبابہ وریعانہ الی ان بلغ من عمرہ ثلاثۃ وخمسین الاخدیجۃ باستدعاء خدیجۃ نفسہا وکانت ہی ثیبۃ وبلغت من عمرہا اربعین عاماً فلم یتزوج فی حیاتہا ولم یتزوج بکراً الا عائشۃ الیٰ قولہ ولم یعلم انہ اجتمع عندہ من الازواج اکثرمن تسع نسوۃ بالتزویج فقس ہذہ القوۃالخارقۃ الیٰ ہذا التعفف الخارق والی ہذاالصبر الفائق الیٰ قولہ فہل یتصور فی البشر اکمل منہ عفۃ واشد منہ عصمۃ واقوی منہ صبراً ثم لاحظ الحکمۃ فی ہذالتعدد من نقل الشریعۃ التی تختص بالنساء وقد نقل من عائشۃ وحدہا الکثیر الطیب واحتاج الصحابۃ ومثل الفاروق الیٰ کشف المسائل عنہن والیٰ علومہن ولاحظ من شدۃ حیاۂ حتی کان اشدحیاء من العذراء فی خدرہا وحتی کان لایثبت نظرہ علی وجہ احدفکان من اللازم ہذاالتعدد لتفتح ابواب الشرائع للنساء ولاسیما فی مایتعلق بمحاسنہ الباطنۃ وشؤن حیاتہ الخفیۃ ونظام معیشتہ فی داخل البیت حتی تتواتر ذٰلک فلایبقی ادنی مجال للمرتاب

( أبواب الطہارۃ ،باب ما جاء فی الرجل یطوف علی نسائہ بغسل واحد 1/528،529 ط مجلس الدعوۃ والتحقیق الاسلامی جامعہ بنوری ٹاون)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

اگر دوسرے مردوں پرقیاس کرکے شادی کااعتبار کیاجائے، توسمجھنا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوچالیس مردوں کی قوت عطاہوئی تھی،ایک مرد کے لئے چارکی اجازت ہے،اس اعتبار سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگرشادی کرتے تو آپ اکے لئے ایک سوساٹھ کی گنجائش تھی،نیز چالیس مردوں کی جوقوت عطاہوئی تھی،وہ اس دنیا کے چالیس مرد نہیں بلکہ جنت کے چالیس مردوں کی قوت تھی، اورجنت کے ایک مرد کی قوت دنیا کے ایک سو مردوں کے برابر ہے ،اس لحاظ سے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاکس قدر کمال ظاہر ہوتا ہے، کہ اتنی قوت کے باوجودآپ ااپنے نفس پرکس قد ر قابو یافتہ تھے، کہ اتنی کثیرقوت اور گنجائش کے باوجود کس قد ر قلیل پرکفایت فرمائی یہ تحقیقی جواب منصف مزاج کے لئے ہے

(کتاب النکاح 10 /484 ط فاروقیہ )

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

                                                                                                                   دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی

3اکتوبر 2020 ء/15صفر المظفر 1442 ھ

                                                                                                                                 فتویٰ نمبر:109