فتوے
مسلمان لڑکے کا شیعہ لڑکی سے نکاح کرنا اور ایسی تقریب میں شرکت کا حکم
سوال
سؤال1:اگر کوئی مسلم سنی سید لڑکا شیعہ لڑکی سے نکاح کرے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟اور اس نکاح کی تقریب میں بہن ،بھائی اور قریبی عزیز ورشتہ داروں کو شریک ہونا چاہئے یا اجتناب برتنا چاہئے؟
سؤال2:سنی لڑکے اور شیعہ لڑکی کے نکاح کے کچھ عرصہ بعد شادی یعنی رخصتی اور ولیمہ کی تقریب میں بہن،بھائی اور قریبی عزیز رشتہ داروں کو شرکت کرنا چاہئے یا اجتناب برتنا چاہئے؟
جواب
اگر شیعہ لڑکی کا عقیدہ یہ ہوکہ قرآن کریم میں تحریف ہوچکی ہے،بارہ اماموں کی امامت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھے اور ان کو انبیاء کی طرح معصوم سمجھتی ہو،اور ان کو حلال وحرام کا اختیار حاصل ہونے کا عقیدہ رکھتی ہویا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگاتی ہو،یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کی منکر ہو یا اس بات کا عقیدہ رکھتی ہو کہ جبرئیل امین علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی تو ایسی لڑکی سے مسلمان لڑکا کا نکاح جائز نہیں ہے ۔اور ایسا نکاح شرعا منعقد بھی نہ ہوگا ،اور ایسی تقریب چاہے وہ نکاح کی ہو یا رخصتی یا ولیمہ کی شرکت کرنا ناجائز اور حرام ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡكَٰفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا
(سورۃ النساء 140)
ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس یہ فرمان بھیج چکا ہے کہ جب احکام الہیہ کے ساتھ استہزاء اور کفر ہوتا ہوا سنو تو ان لوگوں کے پاس مت بیٹھو جب تک وہ کوئی اور بات شروع نہ کردیں کہ اس حالت میں تم بھی ان ہی جیسے ہوجاؤگے یقیناً اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو دوزخ میں جمع کردیں گے۔(بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
وَبِهَذَا ظَهَرَ أَنَّ الرَّافِضِيَّ إنْ كَانَ مِمَّنْ يَعْتَقِدُ الْأُلُوهِيَّةَ فِي عَلِيٍّ، أَوْ أَنَّ جِبْرِيلَ غَلِطَ فِي الْوَحْيِ، أَوْ كَانَ يُنْكِرُ صُحْبَةَ الصِّدِّيقِ، أَوْ يَقْذِفُ السَّيِّدَةَ الصِّدِّيقَةَ فَهُوَ كَافِرٌ لِمُخَالَفَتِهِ الْقَوَاطِعَ الْمَعْلُومَةَ مِنْ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ، بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ يُفَضِّلُ عَلِيًّا أَوْ يَسُبُّ الصَّحَابَةَ فَإِنَّهُ مُبْتَدِعٌ لَا كَافِرٌ كَمَا أَوْضَحْته فِي كِتَابِي تَنْبِيهُ الْوُلَاةِ وَالْحُكَّامِ عَامَّةَ أَحْكَامِ شَاتِمِ خَيْرِ الْأَنَامِ أَوْ أَحَدِ الصَّحَابَةِ الْكِرَامِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ.
(کتاب النکاح ،فصل فی المحرمات 3/46 ط سعید)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
اگر کوئی شیعہ قرآنِ مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدا ہونے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتاہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتاہو یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتاہو، یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو ایسا شیعہ اسلام کے بنیادی عقائد کی مخالفت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، اور ایسے شیعہ کے ساتھ مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا، خواہ وہ شیعہ لڑکی ہو اور مسلمان لڑکا اس سے نکاح کرے۔
(شیعہ لڑکی سے نکاح کا حکم فتویٰ نمبر : 144109202121)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
25 جمادی الاولیٰ 1447ھ/17 نومبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:497
