فتوے
منبر مسجد میں شامل ہے یا نہیں؟مسجد میں آذان دینے کا حکم
سوال
ہماری مسجد سرکاری مسجد ہے،اس کا محراب مسجد میں داخل نہیں اور بھی کچھ جگہ ہے جو باہر برآمدے کے ساتھ ہے اور مینارہ کے ساتھ ہے وہ بھی مسجد میں داخل نہیں ہے ،محراب وغیرہ میں نماز پڑھنا
کافی مشکل ہوتا ہے ،اس وجہ سے ہم اس کو مسجد میں داخل کرنا چاہتے ہیں اور برآمدے اور مینار کے ساتھ جو حصہ بچا ہوا ہے اس کو بھی مسجد میں داخل کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے کیا اقدام کرنا پڑے گا ؟
اور یہ مسجد کے حصہ میں کیسے آئی گی؟اسی طرح اگر مستقبل میں مسجد کی توسیع کرنا پڑے تو اضافی جگہ کو مسجد شرعی بنانے کے لئے کیا اقدام ضروری ہوگا؟آذان محراب سے باہر دیں اس کا کوئی مسئلہ تو
نہیں ہے؟
نوٹ:ہمارا ادارہ (سوئی سدرن گیس کمپنی)وفاق سے منسلک ہے،ہمارے ادارہ میں جو بھی S.G.Mیعنی سینئر جرنل منیجر ہوگا وہ مسجد کا صدر ہوگا۔
جواب
محراب عموماً مسجد کا حصہ ہوتا ہے،امام کا محراب سے پاؤں باہر رکھ کر نماز پڑھانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ محراب خارجِ مسجد ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ امام اگر مکمل محراب میں کھڑا ہوجائے تو اس
صورت میں مقتدی اور امام کا مکان الگ ہونے کا شبہ ہوتا ہے،اور یہ مکروہ ہے۔ اس لئے فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ محراب مسجد کے حصہ میں داخل ہونے کے باوجود امام نماز پڑھاتے وقت اس طرح
کھڑا ہو کہ اس کے پاؤں محراب باہر ہوں ۔
بہر حال صورت مسؤلہ میں اگر واقعی محراب کا حصہ مسجد سے خارج ہے اسی طرح مسجد کے باہر برآمدے کے ساتھ اور مینارہ کے ساتھ جگہ مسجد سے ابھی تک خارج ہے اور اب نمازیوں کی کثرت کی وجہ
سے ان جگہوں کو یا آئندہ مستقبل میں توسیع مسجد کے وقت اضافی جگہ کو مسجد بنانے کی ضرورت پیش آئے تو ایسی صورت میں مسجد کی کمیٹی یا صدر مسجد(متولی مسجد)یا SMG کی اجازت سے ان جگہوں کو
مسجد میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
آذان مسجد کے اندر اور محراب میں بھی دی جاسکتی ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ہے،فقہاء کرام نے خارج مسجد صرف اس لئے آذان دینے کا فرمایا تاکہ آذان کی آواز دور دور تک جاسکے موجودہ زمانہ میں
آذان چونکہ لاؤڈ اسپیکر پر دی جاتی ہے اس لئے اگر مسجد کے اندر بھی لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ آذان دی جائے تو یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
إذَا ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِمَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ عَلَى الْقَوْمِ لَا بَأْسَ بِأَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فِي الطَّاقِ لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ الْأَمْرُ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَضِقْ الْمَسْجِدُ بِمَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ لَا يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ أَنْ يَقُومَ فِي
الطَّاقِ لِأَنَّهُ يُشْبِهُ تَبَايُنَ الْمَكَانَيْنِ اهـ.
يَعْنِي: وَحَقِيقَةُ اخْتِلَافِ الْمَكَانِ تَمْنَعُ الْجَوَازَ فَشُبْهَةُ الِاخْتِلَافِ تُوجِبُ الْكَرَاهَةَ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ الْمِحْرَابُ مِنْ الْمَسْجِدِ كَمَا هِيَ الْعَادَةُ الْمُسْتَمِرَّةُ
(کتاب الصلوۃ،باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا،وقیام الامام لاسجودہ فی الطاق 2/27 ط دار الکتاب الاسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
أَرْضُ وَقْفٍ عَلَى مَسْجِدٍ وَالْأَرْضُ بِجَنْبِ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ وَأَرَادُوا أَنْ يَزِيدُوا فِي الْمَسْجِدِ شَيْئًا مِنْ الْأَرْضِ جَازَ لَكِنْ يَرْفَعُوا الْأَمْرَ إلَى الْقَاضِي لِيَأْذَنَ لَهُمْ، وَمُسْتَغَلُّ الْوَقْفِ كَالدَّارِ،
وَالْحَانُوتُ عَلَى هَذَا، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ.
فِي الْكُبْرَى مَسْجِدًا أَرَادَ أَهْلُهُ أَنْ يَجْعَلُوا الرَّحْبَةَ مَسْجِدًا وَالْمَسْجِدَ رَحْبَةً وَأَرَادُوا أَنْ يُحْدِثُوا لَهُ بَابًا وَأَرَادُوا أَنْ يُحَوِّلُوا الْبَابَ عَنْ مَوْضِعِهِ فَلَهُمْ ذَلِكَ فَإِنْ اخْتَلَفُوا نُظِرَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ
فَلَهُمْ ذَلِكَ، كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ.
(کتاب الوقف ،البا ب الحادی عشر فی المسجد ومایتعلق بہ ،الفصل الاول 2/456 ط رشیدیہ)
وَيَنْبَغِي أَنْ يُؤَذِّنَ عَلَى الْمِئْذَنَةِ أَوْ خَارِجَ الْمَسْجِدِ وَلَا يُؤَذِّنَ فِي الْمَسْجِدِ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ.
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَالسُّنَّةُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي مَوْضِعٍ عَالٍ يَكُونُ أَسْمَعَ لِجِيرَانِهِ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ وَلَا يُجْهِدُ نَفْسَهُ. كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.
(کتاب الصلوۃ الباب الثانی فی الاذان ،الفصل الثانی 1/55 ط رشیدیہ)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
محراب تو داخل مسجد ہے ،مگر اس کے باوجود امام کو اس طرح کھڑا ہونا چاہیے کہ اس کے پیر پورے خارج محراب ہوں یا کچھ حصہ خارج محراب ہو،اگر چہ داخل محراب کھڑے ہوکر نماز پڑھانے سے بھی
نماز ادا ہوجائے گی ۔
(کتاب الوقف ،باب احکام المساجد ،الفصل الثالث فی المحراب والمنبر 14 /450 ط فاروقیہ)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمازی زیادہ ہیں ،اور مسجد میں نہیں سماسکتے تو مسجد کو بڑھا لیا جائے ،جس طرف سے بھی جگہ ملے ،جگہ لیکر مسجد کو توسیع کرلیا جائے ۔
(کتاب الوقف ،باب احکام المساجد ،الفصل السادس فی التوسیع فی المسجد14/502 ط فاروقیہ)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
مسجد کے اندر آذان مکروہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں سے آواز دور تک نہیں پہنچتی جس سے آذان کا مقصد پوری طرح حاصل نہیں ہوتا ،اس لئے بلند جگہ پر آذان دینا مستحب ہے تاکہ دور تک آواز پہنچے
،فی نفسہ آذان کوئی ایسی چیز نہیں جو کہ احترام مسجد کے خلاف ہو۔
(کتاب الصلوۃ ،باب الاذان ،الفصل الاول فی الاذان 5/385 ط فاروقیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
19 ربیع الثانی 1447ھ/13 اکتوبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:488
