فتوے
مکان کے ایڈوانس کی شرعی حیثیت
سوال
اگر کسی نے اپنا مکان کرایہ پر دیا گیارہ مہینہ کے لئےاور ایڈوانس حاصل کیا،تو کیا ایڈوانس کی رقم اس کو فی الحال ہم اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں ،پھر جب وہ مکان خالی کریں گے تو ان کو واپس کردیں گیں ان شاءاللہ یا یہ رقم ان کی امانت ہے اس کو استعمال نہیں کرسکتے ۔راہنمائی فرمادیں۔
جواب
مکان/دوکان کرایہ پر دینے کی صورت میں مالک ،کرایہ دار سے ایڈوانس وصول کرتا ہے ،اس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ یہ ابتداءً امانت ہے،اور عرف میں چونکہ اس کوا ستعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے ،اس لئے انتہاءًاس کی حیثیت قرضہ کی ہے۔مالک اگر اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں خرچ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ،لیکن اس کی واپسی مالک کی ذمہ واجب ہوگی۔
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
کرایہ دار سے سیکورٹی کے طورپرکچھ رقم(ایڈوانس) وصول کرنادرست ہے، یہ رقم مالک کے پاس ابتداً امانت اور عرفاً کرایہ دار کی طرف سے استعمال کی اجازت ہونے کی وجہ سے قرض ہوتی ہے،لہذا اس پر قرض والے احکام لاگو ہوں گے ۔
اس کو کاروبار میں لگانا اور اس سے نفع کمانا درست ہوگا،نفع مالکِ مکان کا ہوگا نہ کہ کرایہ دار کا ،البتہ دکان چھوڑتے وقت یہ رقم کرایہ دارکوواپس لوٹانالازم ہے۔
(ایڈوانس رقم کی فقہی حیثیت/ اس سے کاروبار کرنے اور حاصل ہونے والے نفع کا حکم فتویٰ نمبر : 144502100860)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
14جمادی الثانیہ 1447ھ/6 دسمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:506
