فتوے
مچھلیوں کو مردہ مرغی کا گوشت کھلانے کا حکم
سوال
مفتی صاحب راہنمائی درکار ہے:
1. مرغی کی آلائشیں، انتڑیاں، پر وغیرہ مچھلی کو کھلانا جائز ہے؟
2. مردہ مرغیاں جو بیماری وغیرہ سے مر جاتی ہیں۔ ان کا مچھلیوں کو کھلانا جائز ہے کہ نہیں؟
3. جن مچھلیوں کو مردہ مرغی اور مرغی کی انتڑیاں کھلائی گئی ہوں اس کا کھانا جائز ہے کہ نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مچھلیوں کو پالتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ ان مچھلیوں کو بھی پاک اور طیب چیزیں کھلائے ،ناپاک اور گندگی کھلانے سے احتراز کرنا بہتر ہے،تاہم اگر کوئی شخص مچھلیوں کو مرغی کی آلائشیں ،انتڑیاں اور پر وغیرہ کھلاتا ہے تو اس کی گنجائش ہے ،یہ چیزیں کھلائی جاسکتی ہیں ،لیکن مردہ مرغی اور اسی طرح جو چیز نجس العین ہو (خون ،خنزیر کا گوشت وغیرہ)اس کا کھلانا جائز نہیں ہے،لیکن ناجائز ہونے کے باوجود اگر کسی نے مچھلیوں کو مردہ مرغی یا نجس العین چیز کھلادی تو ایسی مچھلی کا کھانا بہر حال جائز ہے ، البتہ اگر کوئی طبعی کراہت کی وجہ سے نہ کھائے تو الگ بات ہےلیکن اس کو ناپاک یا حرام نہیں کہے سکتے ۔
اور گندگی کھانی والی مچھلی کو فوراً پکڑ کر کھانا بھی جائز ہے چند دن تک روک کر پاک چیز کھلانا بھی ضروری نہیں ،جس طرح مرغی ،بکر ی اور گائے میں ضروری ہوتا ہے ،فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اگر مرغی گندگی کھاتی ہو تو اس کو تین دن ،اور اگر بکری گندگی کھاتی تو اسے چار دن اور گائے یا اونٹ گندگی کھاتا ہے تو اس کو ذبح سے پہلے دس دن تک روک کر پاک غذا کھلانا ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
وَلَا) يَحِلُّ (حَيَوَانٌ مَائِيٌّ إلَّا السَّمَكُ) الَّذِي مَاتَ بِآفَةٍ وَلَوْ مُتَوَلِّدًا فِي مَاءٍ نَجِسٍ
(قَوْلُهُ وَلَوْ مُتَوَلِّدًا فِي مَاءٍ نَجِسٍ) فَلَا بَأْسَ بِأَكْلِهَا لِلْحَالِ لِحِلِّهِ بِالنَّصِّ وَكَوْنِهِ يَتَغَذَّى بِالنَّجَاسَةِ لَا يَمْنَعُ حِلَّهُ، وَأَشَارَ بِهَذَا إلَى الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْجَلَّالَةِ وَالدَّجَاجَةِ، وَهِيَ مِنْ الْمَسَائِلِ الَّتِي تَوَقَّفَ فِيهَا الْإِمَامُ فَقَالَ لَا أَدْرِي مَتَى يَطِيبُ أَكْلُهَا. وَفِي التَّجْنِيسِ: إذَا كَانَ عَلَفُهَا نَجَاسَةً تُحْبَسُ الدَّجَاجَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَالشَّاةُ أَرْبَعَةً، وَالْإِبِلُ وَالْبَقَرُ عَشَرَةً، وَهُوَ الْمُخْتَارُ عَلَى الظَّاهِرِ. وَقَالَ السَّرَخْسِيُّ: الْأَصَحُّ عَدَمُ التَّقْدِيرِ وَتُحْبَسُ حَتَّى تَزُولَ الرَّائِحَةُ الْمُنْتِنَةُ.
(کتاب الذبائح 6/306 ط سعید )
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
واضح رہے کہ جو چیز ’’نجس العین‘‘ ہو یعنی نصوص سے جس کا نجاست ہونا ثابت ہو، اس سے فائدہ اٹھانا ممنوع ہے، مثلاً: شراب اور خنزیر غیرہ اور جو چیز نجس العین نہ ہو، بلکہ کسی اور وجہ سے اس کے کھانے یا پینے کی ممانعت ہو تو اس سے کھانے یا پینے کے علاوہ دیگر کاموں مثلاً جانوروں کو کھلانے پلانے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں ذبح شدہ مرغی یا کسی بھی جانور میں خون نجس العین ہے؛ لہذا مچھلیوں کی غذا میں اسے شامل کرنا ناجائز ہے، اور دیگر آلائشوں کو شامل کرنا جائز ہے، البتہ مرغی وغیرہ مردار ہوجائے تو اس کا پورا جسم مع گوشت و آلائش ناپاک ہے، اس صورت میں اسے فیڈ میں شامل کرنا جائز نہیں ہوگا۔
(کیا گوشت خور مچھلیوں کو ذبح شدہ مرغیاں و آلائش کھلا سکتے ہیں؟ فتویٰ نمبر : 144004200767)
دارالعلوم دیوبند الہندکے فتاوی میں ہے:
مچھلیوں کو بھی پاک و صاف غذا کھلانی چاہئے، بالقصد مردار مرغی کا گوشت مچھلی کو کھلانا مکروہ تحریمی ہے اس سے بچنا چاہئے۔ تاہم اس کی وجہ سے مچھلی کا کھانا حرام و ناجائز نہ ہوگا۔
(مری ہوئی مرغی مچھلی کو کھلانا، جواب نمبر: 169424)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
18جمادی الثانیہ 1447ھ/10 دسمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:508
