info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

خلع کے لفظ سے جاری ڈگری تنسیخ نکاح شمار ہوگی یا نہیں

سوال

جناب عالی تین سال قبل میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی شادی کے بعد حالات کچھ ایسے ہوگئے کہ سسرال والوں نے ظلم وستم شروع کردیا ،آنے جانے پر مکمل پابندی لگادی حتیٰ کہ ماں باپ سے ملنے پر بھی پابندی کردی ،ضروریات کی کوئی چیز مثلاً کپڑے ،چپل اور دیگر اخراجات کے لئے کوئی پیسے نہیں دیتے تھے ،کھانے کے لئے بھی ساس کی اجازت کی ضرورت تھی ،فون پر بھی گھر والوں سے بات نہیں کرنے دی جاتی اسی طرح اسے مکمل قید تنہائی میں ڈال دیا ،خرچہ دینے کے بجائے اس کے جو پیسے ہوتے تھے وہ بھی نکال لیا کرتے تھے ان حالات کی وجہ سے وہ دماغی مریضہ ہوگئ ،بات کچھ کرتے جواب کچھ دیتی تھی،بس ہر بات پر کہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ،اس طرح ڈرایا دھمکایا جاتا تھا کہ ایک دن تو یہ کہا کہ میرا پاس اسلحہ ہے اور میں تمہارے گھر والوں کو بھی دیکھ لوں گا ،ان تین سالوں میں بمشکل 6 ماہ وہاں رہی ۔ہم اس کو اپنے گھر لے کر آگئے دو تین ماہ رہی پھر آکر لے گئے اور یہ وعدہ کیا اب ایسا نہیں ہوگا کوئی پابندی نہیں لگائیں گیں اور خرچہ بھی دیں گے،لیکن لے جانے کے بعد پھر وہی معاملہ شروع ہوگیا ،اسی طرح اس کی ایک بچی پیدا ہوئی ہم ہسپتال گئے تو وہاں پر میرے داماد نے میرے بیٹوں پر حملہ کردیا ،اس کی رپورٹ میں نے متعلقہ تھانے میں جمع کرائی ہے اور اس کے بعد وہی سے ہم اپنی بیٹی کو لے کر اور اس کی بچی کو بھی لے کر اپنے گھر آگئے اور اس کا علاج کروایا دو سال ہوگئے نہ تو اس نے پلٹ کر دیکھا اور نہ ہی کوئی خرچہ دیا ،اس کا سارا خرچ اور بچی کا سارا خرچ ہم اٹھا رہے ہیں اور اس کے علاوہ فون پر لڑکی کو دھمکیاں دینے شروع کردیں ،جب ہم نے یہ دیکھا کہ لڑکی کی جان کو خطرہ ہے ،نان ونفقہ پہلے بھی نہیں دیتا تھا ،ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے کورٹ میں خلع کو مقدمہ دائر کردیا ،کئی مہینے کے بعد عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کردی ،وہ ہم نے گورنمنٹ کے یونین کونسل میں رجسٹرد کرادی اس کی کاپی منسلک کررہا ہوں۔

آپ سے التماس ہے کہ اس سارے معاملے ہماری شرعی راہنمائی فرمائیں  اور خلع کی ڈگری کی شرعی حیثیت کی تشریح کردیں اور تاکہ لڑکی کی آئندہ کی زندگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے ۔اور یہ بھی راہنمائی فرمائیں کہ خلع کی اس ڈگری کو تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنسیخ نکاح تصور کیا جاسکتا ہے ؟جزاک اللہ خیرا 

وضاحت:عدالت میں فیصلہ کے وقت شوہر موجود تھا لیکن اس نے خلع کے اس  فیصلہ پر دستخط نہیں کئے۔

جواب

خلع دیگر معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے جس میں جانبین (میاں ،بیوی)کی رضامندی ضروری ہوتی ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کا یک طرفہ خلع  دینا شرعاً غیر معتبر ہے۔البتہ بعض صورتوں میں عدالت کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہوتا ہے ،لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جن کا ملحوظ رکھنا  ضروری ہوتا ہے۔

صورت مسؤلہ میں سائل نے سوال میں درج وجوہات کی بنا پر اپنی بیٹی کی خلع حاصل کرنے لئے عدالت سے رجوع کیا  ،اور عدالت نے چند مہینوں کے بعد یک طرفہ طور شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ جاری کردیا تو شرعاً یہ فیصلہ غیر معتبر ہے ۔

لہذا سائل کی بیٹی کے لئے بہتر یہ ہے کہ اپنے شوہر سے کسی طرح بھی طلاق لے لے یا اس کو خلع پر راضی کرلے اور اگر اس کا شوہر طلاق یا خلع دینے پر راضی نہ ہو تو سائل کی بیٹی اپنے شوہر پر حقوق ، نان و نفقہ نہ دینے اور ظلم وستم کرنے  کی بنیاد پر  تنسیخِ نکاح کا  مقدمہ   عدالت میں دائر کرے،پھر اپنے نکاح کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،اس کے بعد شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،پھرقاضی شرعی شہادت کے ذریعہ پوری تحقیق کرے،اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ شوہر باوجود وسعت کے حقوق ادا نہیں کررہا تو  جج شوہرکوعدالت میں حاضر ہونے کاسمن جاری کرے  ، اگر شوہر عدالت میں حاضر ہوکر گھر بسانےاور نان و نفقہ کی ادائیگی  پر آمادہ  ہوجائے تو ٹھیک،لیکن  اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہو یا حاضر ہو لیکن حقوق کی ادائیگی پر راضی نہ ہو  تو عدالت نکاح فسخ کردے، جس کے بعد  عورت اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

حیلہ ناجزہ میں ہے:

"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق  ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه، قال محشیه : قوله وإلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم... إلي أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها،  وقال ابن عبدالرحمن:  لا مقال لها لأن سبب الفراق  هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضیه المدونة؛ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهی."

(صفحہ 133 ط دارالاشاعت)

”زوجۂ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے ،لیکن اگر با وجو د سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، کیوں کہ ان کے نزد یک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے، اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کا خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے، یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندو بست کرتا ہو ،اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو، اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگر چہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قومی اندیشہ ہو۔اور صورتِ تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوراُن کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرےاوراگر عورت کادعوٰی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتاتو اس کے خاوندسے کہاجائے کہ اپنی عورت کے حقوق اداکرویاطلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے۔اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے توقاضی یاشرعًاجواس کے قائم مقام ہوطلاق واقع کردے اس میں کسی مدت کے انتظارومہلت کی باتفاقِ مالکیہ ضرورت نہیں۔"

(صفحہ 73،74 ط دارالاشاعت)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:

اگر عدالتی کارروائی یعنی فیصلہ میں تنسیخ یا خلع بذریعہ تنسیخ کا کا لفظ استعمال ہوا تو شرعاً یہ تنسیخ نکاح ہی شمار ہوگا اور شرعاً اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی، عدت گزرنے کے بعد عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا، اور اگر اس مقدمہ میں تنسیخ نکاح کی شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا گیا یا عدالتی کارروائی میں صرف خلع کا لفظ ہو تو یہ تنسیخ نکاح شمار نہیں ہوگا، اور نہ شرعاً خلع واقع  ہوگا، دونوں کا نکاح بدستور قائم رہے گا۔

(تنسیخ نکاح اگر صرف خلع کے لفظ سے ہو تو اس کا حکم فتویٰ نمبر : 144702100246)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:548

تاریخ :13 ربیع الاول1448ھ/27اگست 2026ء