فتوے
شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع
سوال
میرا نکاح ایک لڑکے سے گھر والوں کی اجازت سے ہوا ،کچھ وقت کے بعد گھر والوں نے اس لڑکے سے عدالت کے ذریعہ خلع لے لیا ،میرے گھر والوں نے عدالت میں یہ جھوٹ بول کر خلع کیا کہ وہ شرابی اور غلط لڑکا ہے جبکہ وہ لڑکا حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور اس لڑکے نے نہ تو زبانی کلامی طلاق دی ہے اور نہ تحریری طور پر اور نہ وہ عدالت گیا ہے اور یہ خلع میری رخصتی سے پہلے ہوا تھا ۔۔،پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح عدالت کے ذریعہ جو خلع لیا ہے اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔
پھر اس کے بعد میرا نکاح ایک شیعہ لڑکے سے گھر والوں کی اجازت سے ہوا ،اس شرط پر کہ بعد میں وہ لڑکا سنی ہوجائے گا مگر پانچ سال گذرنے کے بعد بھی وہ اہل تشیع مذہب پر قائم ہے وہ تمام عبادات شیعہ مذہب پر کرتا ہے ،لیکن ان پانچ سالوں میں کبھی کسی صحابی کی گستاخی نہیں کی اور میں ایک سنی مسلمان لڑکی ہوں مذکورہ مسئلہ میں میرا نکاح اس شیعہ لڑکے سے ہوا یا نہیں ؟ابھی میرا نکاح باقی ہے یا نہیں ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے ۔اور میرے دو بچے بھی ہیں ،مجھے پہلے ان چیزوں کے بارے میں معلومات نہیں تھی جب گھر والوں نے کہا تو اس وقت میں نے شادی کر لیا۔اب اس کا حل بتادیں شرعی لحاظ سے مجھے کیا کرنا چاہئے ۔
جواب
واضح رہے کہ خلع ایک مالی معاملہ ہے جس میں دیگر معاملات کی طرح اس میں بھی جانبین (میاں ،بیوی)کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کا یک طرفہ خلع کا فیصلہ شرعا معتبر نہیں ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے واقعی سائلہ کوطلاق یاخلع نہیں دی اور نہ ہی خلع کے فیصلہ پر رضامندی ظاہر کی ، تو ایسی خلع شرعا معتبر نہیں ہے ا ورسائلہ چونکہ بدستور اپنے شوہر اول کے نکاح میں ہے اس لئے اس کا دوسری جگہ شادی کرنا جائز ہی نہیں تھا اور نہ ہی دوسرا نکاح منعقد ہوا ہے لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ وہ فوراً دوسرے شوہر سے جدائی اختیار کرلے ،اور اپنے اس فعل پر اللہ تعالیٰ سے معافی بھی مانگے۔
فتاوی شامی میں ہے :
وَأَمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ كَمَا فِي الْبَدَائِعِ: إذَا كَانَ بِعِوَضٍ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ، فَلَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ، وَلَا يُسْتَحَقُّ الْعِوَضُ بِدُونِ الْقَبُولِ
(کتاب الطلاق باب الخلع3/341 ط سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے :
خلع کے لئے شوہر کا رضامند ہونا ضروری ہے ،جب تک شوہر خلع کو منظور نہ کرے خلع نہیں ہوسکتا۔
(کتاب الطلاق ،باب الخلع واللعان 13/347 ط فاروقیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
20 ربیع الثانی 1447ھ/14 اکتوبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:490
