info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

متعدد امور پر قسم کھانے کی صورت میں متعدد کفارہ کا وجوب ہوگا

سوال

میں نے خدا کی قسم کھائی کہ میں سگریٹ نہیں پیوں گا،جھوٹ نہیں بولوں گا،اور دھوکہ نہیں دوں گا،پھر میں نے یہ تینوں کام کرلئے تو کیا مجھے ایک ہی کفارہ ادا کرنا ہوگایا تینوں قسموں کے تین الگ الگ کفارے ادا کرنے ہوں گے؟

جواب

مختلف اور متعدد امور پر قسمیں کھانے کےبعد ان کو توڑدینے کی صورت میں ہر قسم کا الگ الگ کفارہ ادا کرنا ضروری ہے ۔

صورت مسؤلہ میں سائل نے جب یہ قسمیں کھائیں کہ "میں سگریٹ نہیں پیوں گا،جھوٹ نہیں بولوں گا،اور دھوکہ نہیں دوں گا"پھر اس نے یہ تینوں کام کرلئے تو ہر ایک فعل کا الگ الگ کفارہ دینا ہوگا۔

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )اور اگر جو، کھجور یا کشمش دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے،  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔

اور اگر  کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے، اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے  تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡۚ وَٱحۡفَظُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ (سورہ المائدہ 89)

فتاوی شامی میں ہے:

وَتَتَعَدَّدُ الْكَفَّارَةُ لِتَعَدُّدِ الْيَمِينِ، وَالْمَجْلِسِ وَالْمَجَالِسِ سَوَاءٌ؛ وَلَوْ قَالَ: عَنَيْت بِالثَّانِي الْأَوَّلَ فَفِي حَلِفِهِ بِاَللَّهِ لَا يُقْبَلُ، وَبِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ يُقْبَلُ. وَفِيهِ مَعْزِيًّا لِلْأَصْلِ: هُوَ يَهُودِيٌّ هُوَ نَصْرَانِيٌّ يَمِينَانِ، وَكَذَا وَاَللَّهِ وَاَللَّهِ أَوْ وَاَللَّهِ وَالرَّحْمَنِ فِي الْأَصَحِّ.

(قَوْلُهُ وَتَتَعَدَّدُ الْكَفَّارَةُ لِتَعَدُّدِ الْيَمِينِ) وَفِي الْبُغْيَةِ: كَفَّارَاتُ الْأَيْمَانِ إذَا كَثُرَتْ تَدَاخَلَتْ، وَيَخْرُجُ بِالْكَفَّارَةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ عُهْدَةِ الْجَمِيعِ. وَقَالَ شِهَابُ الْأَئِمَّةِ: هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ. قَالَ صَاحِبُ الْأَصْلِ: هُوَ الْمُخْتَارُ عِنْدِي. اهـ. مَقْدِسِيٌّ، وَمِثْلُهُ فِي الْقُهُسْتَانِيُّ عَنْ الْمُنْيَةِ (قَوْلُهُ وَبِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ يُقْبَلُ) لَعَلَّ وَجْهَهُ أَنَّ قَوْلَهُ إنَّ فَعَلْت كَذَا فَعَلَيَّ حَجَّةٌ ثُمَّ حَلَفَ ثَانِيًا كَذَلِكَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الثَّانِي إخْبَارًا عَنْ الْأَوَّلِ، بِخِلَافِ قَوْلِهِ وَاَللَّهِ لَا أَفْعَلُهُ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ الثَّانِيَ لَا يَحْتَمِلُ الْإِخْبَارَ فَلَا تَصِحُّ بِهِ نِيَّةُ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَأَيْته كَذَلِكَ فِي الذَّخِيرَةِ. وَفِي ط عَنْ الْهِنْدِيَّةِ عَنْ الْمَبْسُوطِ: وَإِنْ كَانَ إحْدَى الْيَمِينَيْنِ بِحَجَّةٍ وَالْأُخْرَى بِاَللَّهِ تَعَالَى فَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَحَجَّةٌ (قَوْلُهُ وَفِيهِ مَعْزِيًّا لِلْأَصْلِ إلَخْ) أَيْ وَفِي الْبَحْرِ: وَالظَّاهِرُ أَنَّ فِي الْعِبَارَةِ سَقْطًا، فَإِنَّ الَّذِي فِي الْبَحْرِ عَنْ الْأَصْلِ: لَوْ قَالَ هُوَ يَهُودِيٌّ هُوَ نَصْرَانِيٌّ إنْ فَعَلَ كَذَا يَمِينٌ وَاحِدَةٌ، وَلَوْ قَالَ هُوَ يَهُودِيٌّ إنْ فَعَلَ كَذَا هُوَ نَصْرَانِيٌّ إنْ فَعَلَ كَذَا فَهُمَا يَمِينَانِ

(کتاب الایمان 7/714 ط سعید)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                      29ربیع الاول 1447ھ/23 ستمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:480