فتوے
حالت جنابت یا حیض ونفاس کی حالت میں میت کو غسل دینے کا حکم
سوال
کیا حائضہ غسالہ میت کو غسل دے سکتی ہے
جواب
جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں میت کو تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر غسل دینا مکروہ ہے،اس لئے بہتر یہ ہے کہ اگر کوئی خاتون پاکی کی حالت میں ہو اور وہ میت کو غسل دے سکتی ہے تو حائضہ خاتون میت کو غسل نہ دے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ غَاسِلُ الْمَيِّتِ عَلَى الطَّهَارَةِ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ، وَلَوْ كَانَ الْغَاسِلُ جُنُبًا أَوْ حَائِضًا أَوْ كَافِرًا جَازَ وَيُكْرَهُ، كَذَا فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ.
(کتاب الصلوۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ،الفصل الثانی فی غسل المیت 1/159 ط رشیدیہ)
احکام میت میں ہے:
جو شخص حالت جنابت میں ہو یا عورت حیض یا نفاس میں ہو وہ میت کو غسل نہ دے ،کیونکہ اس کا غسل دینا مکروہ ہے۔
(باب سوم :غسل وکفن کے مسائل صفحہ 42 ط ادارۃ المعارف کراچی)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
یکم ربیع الثانی 1447ھ/25 ستمبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:483
