فتوے
آپ ﷺ پر سحر اور جادو کی کیفیت
سوال
معززمفتیان کرام گزارش ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرجوجادوہواوہ کس نے کیا؟ جادوکی کیاکیفیت تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پراس کاکتنااثرتھا؟ کیاجادوکی وجہ سےہوش وحواس میں کوئی فرق پڑاتھایانہیں؟ نیز اس کی تفصیلات بتادیں جلدی ضرورت ہے۔
جواب
مدینہ کا ایک منافق یہودی جس کا نام لبید بن اصم تھا اس نے آپ ﷺپر جادو کیا تھا،اور اس کا اثر صرف اتنا ہوا تھا کہ آپ ﷺ ایک کام سرانجام دے چکے ہوتے لیکن پھر یہ خیال گذرتا ،کہ شاید وہ کام نہیں کیا یعنی معمولی نسیان کی کیفیت طاری ہوئی تھی باقی آپ ﷺ کے ہو ش وحواس بالکل درست تھے ،فریضہ تبلیغ اور دینی احکامات کی تعلیم وتدریس میں کچھ کوتائی واقع نہ ہوئی تھی۔
حضرت عائشہ صدیقہ ،حضرت ابن عباس ،حضرت انس اور حضرت یزید بن ارقم رضی اللہ عنہم کی احادیث میں اس واقعہ کی تفصیل ذکر کی گئ ہیں :
اخرج البيهقي فى دلائل النبوة من طريق الكلبي عن ابى صالح عن ابن عباس قال مرض رسول الله صلى الله تعالى عليه واله وسلم مرضا شديدا فاتاه ملكان فقعد أحدهما عند راسه والاخر عند رجليه فقال الذي عند رجليه للذى عند راسه ما ترى قال طب قال ما طب قال سحر قال من سحره قال لبيد بن الأعصم اليهودي قال اين هو قال فى شراك فلان تحت صخرة فى ركية فاتو الركية فانزحوا وارفعوا الصخرة ثم خذوا الكدية وأحرقها فلما أصبح رسول الله صلى الله تعالى عليه واله وسلم بعث عمار بن ياسر فى نفر فاتوا الركية فاذا ماءها مثل ماء الحناء ثم رفعوا الصخرة واخرجوا الكدية واحرقوها فاذا فيها وتد فيه أحد عشر عقدة وأنزلت عليه هاتان السورتان فجعل كلما قرأ اية انحلت عقدة قل أعوذ برب الفلق قل أعوذ برب الناس واخرج ابو نعيم فى الدلائل من طريق ابى جعفر الرازي عن انس قال صنعت اليهود لرسول الله صلى الله عليه واله وسلم شيئا فاصابه من ذلك وجع شديد فدخل عليه أصحابه فظنوا انه المايه فاتاه جبرئيل بالمعوذتين فعوذبهما فخرج الى الصحابة صحيحا وله شاهد فى الصحيحين بدون نزول السورة وذكر البغوي قول ابن عباس وعائشة كان غلام من اليهود يخدم رسول الله صلى الله عليه واله وسلم فدبت اليه اليهود فلم يزالوا به حتى أخذوا مشاطة راس النبي صلى الله عليه واله وسلم وعدة أسنان مشطة فاعطاها اليهود فسحروا فيها وتولى ذلك لبيد بن الأعصم رجل من اليهود فنزلت السورتان وروى البغوي بسنده عن عائشة ان النبي صلى الله عليه واله وسلم طب حتى انه ليخيل انه قد صنع شيئا وما صنعه وانه دعا ربه ثم قال ان الله أفتاني فيما استفتيته فيه فقالت عائشة وما ذاك يا رسول الله قال جاءنى رجلان فجلس أحدهما عند راسى والاخر عند رجلىفقال أحدهما لصاحبه ما وجع الرجل قال الاخر مطبوب قال من طبه قال لبيد بن الأعصم قال فيما ذا قال فى مشط ومشاطة وجف طلعة ذكر قال فاين هو قال فى ذروان بير بنى زريق قالت عائشة فاتاها رسول الله صلى الله عليه واله وسلم ثم رجع الى عائشة فقال والله لكان ماءها نقاعة الحناء ولكان نخلها رؤس الشياطين فقلت يا رسول الله فلا أخرجته قال اما انا قد شفانى الله كرهت ان اثير على الناس شرا قال البغوي وروى انه كان تحت صخرة فى البير فرفعوا الصخرة واخرجوا جف الطلعة فاذا فيه مشاطة راسه وأسنان مشطة وروى البغوي بسنده عن يزيد بن أرقم قال سحر النبي صلى الله عليه وسلم رجل من اليهود فاشتكى لذلك إياها قال فاتاه جبرئيل فقال ان رجلا من اليهود سحرك فعقد لك عقدا فارسل رسول الله صلى الله عليه واله وسلم عليا فاستخرجها كلما حل عقد وجد لذلك خفة فقام رسول الله صلى الله عليه واله وسلم كانما نشط عن عقال فما ذكر ذلك اليهودي ولا راه فى وجهه
(تفسیر مظہری ،سورۃ الفلق 10/375 ،376 ط رشیدیہ )
تفسیر معارف القرآن میں مفتی شفیع عثمانی صاحب ؒ لکھتے ہیں :
واقعہ مسند احمد میں اس طرح آیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک یہودی نے جادو کردیا تھا جس کے اثر سے آپ بیمار ہو گئے۔ جبرئیل امین نے آ کر آپ کو اطلاع کی کہ آپ پر ایک یہودی نے جادو کیا ہے اور جادو کا عمل جس چیز میں کیا گیا ہے وہ فلاں کنوئیں کے اندر ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں آدمی بھیجے وہ یہ جادو کی چیز کنوئیں سے نکال لائے اس میں گر ہیں لگی ہوئی تھیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان گرہوں کو کھول دیا اسی وقت آپ بالکل تندرست ہو کر کھڑے ہو گئے (اور اگرچہ جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کو اس یہودی کا نام بتلا دیا تھا اور آپ اس کو جانتے تھے مگر اپنے نفس کے معاملے میں کسی سے انتقام لینا آپ کی عادت نہ تھی اسلئے ) عمر بھر اس یہودی سے کچھ نہیں کہا اور نہ کبھی اس کی موجودگی میں آپ کے چہرہ مبارک سے کسی شکایت کے آثار پائے گئے (وہ منافق ہونے کی وجہ سے حاضر باش تھا) اور صحیح بخاری کی روایت حضرت عائشہ سے یہ ہے کہ آپ پر ایک یہودی نے سحر کیا تو اس کا اثر آپ پر یہ تھا کہ بعض اوقات آپ محسوس کرتے تھے کہ فلاں کام کرلیا ہے مگر وہ نہیں کیا ہوتا۔ پھر ایک روز آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا ہے کہ میری بیماری کیا ہے اور فرمایا کہ (خواب میں) دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا، ایک پاؤں کی طرف، سرہانے والے نے دوسرے سے کہا کہ ان کو کیا تکلیف ہے، دوسرے نے کہا کہ یہ محسور ہیں، اس نے پوچھا کہ سحر ان پر کس نے کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ لبیدین اعصم نے جو یہودیوں کا حلیف منافق ہے اس نے پوچھا کہ کس چیز میں جادو کیا ہے، اس نے بتلایا کہ ایک کنگھے اور اس کے دندانوں میں، پھر اس نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو اس نے بتلایا کہ کھجور کے اس غلاف میں جس میں کھجور کا پھل پیدا ہوتا ہے بئرذروان (ایک کنوئیں کا نام ہے) میں ایک پتھر کے نیچے مدفون ہے۔ آپ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کو نکال لیا، اور فرمایا کہ مجھے خواب میں یہی کنواں دکھلایا گیا تھا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ نے اس کا اعلان کیوں نہ کردیا (کہ فلاں شخص نے یہ حرکت کی ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفا دے دی اور مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی شخص کے لئے کسی تکلیف کا سبب بنوں (مطلب یہ تھا کہ اس کا اعلان ہوتا تو لوگ اس کو قتل کر دیتے یا تکلیف پہنچاتے) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کا یہ مرض چھ مہینے تک رہا اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ جن صحابہ کرام کو معلوم ہو گیا تھا کہ یہ کام لبیدین اعصمم نے کیا ہے انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ہم اس خبیث کو کیوں قتل نہ کر دیں، آپ نے وہی جواب دیا جو صدیقہ عائشہ کو دیا تھا اور امام ثعلبی کی روایت میں ہے کہ ا یک لڑکا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا، اس منافق یہودی نے اس کو بہلا پھسلا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کنگھا اور کچھ اس کے دندانے اس سے حاصل کر لئے اور ایک تانت کے تار میں گیارہ گرہیں لگائیں، ہر گرہ میں ایک سوئی لگائی، کنگھے کے ساتھ اس کو کھجور کے پھل کے غلاف میں رکھ کر ایک کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دو سورتیں نازل فرمائیں جن میں گیارہ آیتیں ہیں، آپ ہر گرہ پر ایک ایک آیت پڑھ کر ایک ایک کھولتے رہے یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ سے اچانک ایک بوجھ سا اتر گیا
(تفسیر معارف القرآن ،سورۃ الفلق 8/846،847 ط مکتبہ معارف القرآن )
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی
8اکتوبر 2020 ء/20صفر المظفر 1442 ھ
فتویٰ نمبر:114
