info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

بینک میں ملازمت کرنے والے لڑکے سے رشتہ کرنا

سوال

سؤال1:موجودہ حالات میں جبکہ بچیوں کی شادی کے لئے مناسب رشتہ ملنا انتہائی دشوار ہے،کنوینشنل بینک میں ملازم لڑکے سے رشتہ طے کرنا کیسا ہے؟اور اگر لڑکا اسلامی (شریعہ) بینک میں ملازم ہو تو اس سے رشتہ کرنا کیسا ہے؟

سؤال2:اگر شادی کے کچھ عرصہ بعد شوہر اسلامی(شریعہ)بینک سے دوسرے بینک یعنی کنوینشنل بینک میں ملازمت اختیار کرلے تو پھر کیا صورت ہوگی؟

جواب

بینک چاہے کنوینشنل ہو یامروجہ اسلامی بینک ہو دونوں  میں ملازمت اختیار کرنا جمہور علماء کرام اور مفتیان عظام  کے نزدیک ناجائز اور اس کی آمدنی حرام ہے۔سود کھانے والے پر،سودی لین دین کرنے والے پر،اور اس کی معاونت کرنے والے سب پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے ،اور قرآن کریم میں سود کو نہ چھوڑنے والوں کے لئے جنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔اس لئے لڑکا چاہے مروجہ اسلامی بینک میں ملازمت کرتا ہو یا کنوینشنل بینک میں اس سے رشتہ کرنے کی صورت میں تحفہ تحائف ،دعوت اور لڑکی کا نان ونفقہ سب اسی حرام کمائی سے ہوگا تو حرام کمائی کی نحوست  اور وبال گھر میں ضرور  آئے گا ،آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے جس بدن کی پرورش حرام کمائی سے ہو وہ جھنم جانے کا زیادہ مستحق ہے ۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ حلال آمدنی والے نیک صالح ،متبع شریعت لڑکا کا رشتہ تلاش کیا جائے اگرچہ اس کی آمدنی کم ہو،اس میں ان شاءاللہ سکون،اطمینان اور برکت ہوگی۔

مناسب اور اچھا رشتہ کے لئے ایک وظیفہ بھی شروع کرلیا جائے۔اول وآخر 100 مرتبہ کوئی سا بھی مختصر دورد شریف پڑھ لیا جائے اور درمیان میں 500 مرتبہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے دعا کریں  ۔یہ عمل41  دن تک بلا ناغہ کریں ،اگر کسی دن ناغہ ہوجائے تو اگلے دن تعداد دگنا کرلی جائے ،ایک مجلس میں پڑھنا ضروری نہیں ہے،گھر کے سب افراد اس کو پڑھیں ،جن دنوں میں خواتین نماز نہیں پڑھتی اس وظیفہ کو پڑھ سکتی ہیں۔

قرآن کریم میں ہے:

"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(278)فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(279).

(سورۃ البقرۃ)

  

حدیث شریف میں ہے:

"عن ‌جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء »."

(باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج:3، ص:1219، ط:دار إحياء التراث العربي)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:

واضح رہے کہ بینک کا  مدار سودی نظام پر ہے، اور سود کا لینا دینا ، لکھنا ، یا  اس میں گواہ بننا سب  ناجائز وحرام ہے، اور بینک میں ملازمت کرنے والا اسی سودی لین دین یا اس کے معاونت میں مصروفِ عمل ہوتا  ہے ؛ اس لیے اس کی کمائی حرام ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بینک ملازم  اپنی بیٹی کا نکاح کروانے کی صورت میں جب وہ نان ونفقہ اور تحفے تحائف اور دعوتوں کا انتظام اپنی اسی کمائی سے کرے گاتو ایسی صورت میں اس حرام آمدنی کی نحوست کا اثر لازماً پڑے گا، لہذا عافیت اسی میں ہے کہ حلال روزگار والے خدا ترس مسلمان کے ساتھ رشتہ کو ترجیح دی جائے۔

(بینک میں ملازمت کرنے والے کے ساتھ بیٹی کا رشتہ کرانے کا حکم،فتویٰ نمبر : 144410101307)

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     25 جمادی الاولیٰ 1447ھ/17 نومبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:496