info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گستاخی کرنے والے کا حکم

سوال

ایک شخص کا صحابی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے غلطی نہیں بلکہ بڑی غلطی کی ہے ،اس کا کیا حکم ہے؟حوالہ ضرور چاہیئے۔

جواب

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین دین حق کے معیار ہیں،حضور ﷺ سے دین سیکھ کر اور اس پر عمل کرکے امت تک اس دین متین کو پہچانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ہیں ،اگر  صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر اعتماد نہ رہا تو پھر نہ قرآن پاک پر اعتماد باقی رہے گا ،نہ احادیث مبارکہ پر ،اور نہ دین پر، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے بغیر دین نامکمل ہے ۔ اہل باطل  جب براہ راست دین متین کی تردید اور اس کے بطلان کر قدرت نہیں پاتے تو ان کی ابتداء سے یہی کوشش رہی ہے کہ صحابہ کرام  کو مجروح کیا جائے ،اور ان پر بے بنیاد  اس قدر تنقید باطل کی جائے کہ لوگ  اس کو حق سمجھنا شروع کریں اور اس طریق سے دین مبین خود بخود مشکوک  ہوجائے گا ،لیکن علماء کرام نے اس باطل فتنہ کا مقابلہ کیا اور صحابہ کرام کی عظمت ،اہمیت اور مقام کو واضح کیا ہے جس سے ان کے باطل منصوبہ ناکام ہوئے۔

  صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی عدالت،صداقت ،امانت اوردیانت قرآن پاک  کی متعدد آیات اوربہت سی صحیح  احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ،اس لئے تمام علماء کا متفقہ فیصلہ  اور اصول ہے کہ" الصحابۃ کلہم عدول"یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سب کے سب عادل ہیں ،سب وشتم اور تنقید سے بالا تر  ہیں ،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعدیل کے بعد مزید کسی کے تعدیل کی ان صحابہ کو ضرورت نہیں لہذا کسی تاریخی روایت یا مرجوح اور ضعیف روایات کو بنیاد بنا کر کسی صحابی پر طعن نہیں کیا جاسکتا ۔

اگر کوئی شخص کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ "صحابی نے غلطی نہیں بلکہ بڑی غلطی کی ہے"تو دائرہ اہل سنت والجماعت سے خارج ، انتہائی قسم کا فاسق،فاجر ،گستاخ ،بے ادب،ملعون ،مردود الشہادۃ ،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان اور عذاب خداوندی کا مستحق  ہے۔اس پر لازم ہے کہ اپنے اس قول سے رجوع کرے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے معافی مانگے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ١٠٠ 

(سورہ التوبہ 100)

ترجمہ: جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ 

(سورہ ال عمران 110)

ترجمہ: (مومنو ! ) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو۔

لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا ١٨ 

(سورہ الفتح 18)

ترجمہ:(اے پیغمبر) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔

وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِي قُلُوبِكُمۡ وَكَرَّهَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكُفۡرَ وَٱلۡفُسُوقَ وَٱلۡعِصۡيَانَۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلرَّٰشِدُونَ ٧ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَنِعۡمَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٨ 

(سورہ الحجرات 7،8)

ترجمہ: لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

 (یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

احادیث مبارکہ میں ہے:

عَن أبي سعيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نصيفه» . مُتَّفق عَلَيْهِ

(مشکوۃ المصابیح ،کتاب المناقب ،باب مناقب الصحابہ الفصل الاول 3/1694 رقم :6007 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا " تم میرے صحابہ کو برا نہ کہو ، حقیقت یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد کے پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے صحابہ کے ایک مد یا آ دھے مد کے ثو کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ۔" (بخاری ومسلم )

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذُرُونَ وَلَا يفون وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَيَحْلِفُونَ وَلَا يستحلفون» . مُتَّفق عَلَيْهِ

(مشکوۃ المصابیح ،کتاب المناقب ،باب مناقب الصحابہ الفصل الاول 3/1695 رقم :6010 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ: اور حضرت عمران ابن حصین  ؓ  کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا " میری امت کے بہترین لوگ میرے قرن کے لوگ (یعنی صحابہ ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں (یعنی تابعی ) اور پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں ۔ اور پھر ان قرنوں کے بعد جن لوگوں کا زمانہ آئے گا ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو نذر مانیں گے اور اپنی نذر کو پورا نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا فربہی پیدا ہوگی اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو (بلاضروت وبلاوجہ ) قسمیں کھائیں گے حالانکہ ان کو قسم نہیں دلائی جائے گی، (بخاری ومسلم ) اور مسلم کی ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ  ؓ  سے منقول ہے یہ الفاظ ہیں کہ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو موٹاپے کو یعنی فربہی کو پسند کریں گے ۔"

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «اللَّهُ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

(مشکوۃ المصابیح ،کتاب المناقب ،باب مناقب الصحابہ الفصل الثانی 3/1696 رقم :6014 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن مغفل کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ( پوری امت کو خطاب کر کے) فرمایا : اللہ سے ڈرو، پھر اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے حق میں ، میرے بعد تم ان (صحابہ ) کو نشانہ ملامت نہ بنانا (یاد رکھو) جو شخص ان کو دوست رکھتا ہے ، تو میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو شخص ان سے دشمنی رکھتا ہے ، تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے ۔ اور جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے گویا مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس شخص نے مجھ کو اذیت پہنچائی اس نے گویا اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس شخص نے اللہ کو اذیت پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب اللہ اس کو پکڑے گا ،

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: " إِذا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شركم ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

(مشکوۃ المصابیح ،کتاب المناقب ،باب مناقب الصحابہ الفصل الاول 3/1696 رقم :6017 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت ابن عمر  ؓ  کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو تم کہو اللہ کی لعنت ہو تمہاری بری حرکت پر ۔" (ترمذی )

 

فتاوی شامی میں ہے:

وَقَالَ ابْنُ مُلْكٍ فِي شَرْحِ الْمَجْمَعِ: وَتُرَدُّ شَهَادَةُ مَنْ يُظْهِرُ سَبَّ السَّلَفِ لِأَنَّهُ يَكُونُ ظَاهِرَ الْفِسْقِ، وَتُقْبَلُ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ الْجَبْرُ وَالْقَدَرُ وَالرَّفْضُ وَالْخَوَارِجُ وَالتَّشْبِيهُ وَالتَّعْطِيلُ. اهـ.

وَقَالَ الزَّيْلَعِيُّ أَوْ يُظْهِرُ سَبَّ السَّلَفِ يَعْنِي الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ وَهُمْ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ؛ لِأَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ تَدُلُّ عَلَى قُصُورِ عَقْلِهِ وَقِلَّةِ مُرُوءَتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَمْتَنِعْ عَنْ مِثْلِهَا لَا يَمْتَنِعْ عَنْ الْكَذِبِ عَادَةً، بِخِلَافِ مَا لَوْ كَانَ يُخْفِي السَّبَّ

(کتاب الجہاد ،باب المرتد مطلب مہم فی حکم ساب الشیخین 13/57 مقولہ 20346 ط رشیدیہ ت فرفور)

الموسوعۃ الفقھیۃ الکوتیۃ میں ہے:

اتَّفَقَ أَهْل السُّنَّةِ: عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الصَّحَابَةِ عُدُولٌ، وَلَمْ يُخَالِفْ فِي ذَلِكَ إِلَاّ شُذُوذٌ مِنَ الْمُبْتَدِعَةِ.

وَهَذِهِ الْخِصِّيصَةُ لِلصَّحَابَةِ بِأَسْرِهِمْ، وَلَا يُسْأَل عَنْ عَدَالَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ، بَل ذَلِكَ أَمْرٌ مَفْرُوغٌ مِنْهُ، لِكَوْنِهِمْ عَلَى الإِْطْلَاقِ مُعَدَّلِينَ بِتَعْدِيل اللَّهِ لَهُمْ وَإِخْبَارِهِ عَنْ طَهَارَتِهِمْ، وَاخْتِيَارِهِ لَهُمْ  بِنُصُوصِ الْقُرْآنِ، قَال تَعَالَى: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} الآْيَةَ.

قِيل: اتَّفَقَ الْمُفَسِّرُونَ عَلَى أَنَّ الآْيَةَ وَارِدَةٌ فِي أَصْحَابِ رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.

وَقَال عَزَّ مِنْ قَائِلٍ: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ}  وَقَال تَعَالَى: {مُحَمَّدٌ رَسُول اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ}  الآْيَةَ وَفِي نُصُوصِ السُّنَّةِ الشَّاهِدَةِ بِذَلِكَ كَثْرَةٌ، مِنْهَا حَدِيثُ: أَبِي سَعِيدٍ الْمُتَّفَقِ عَلَى صِحَّتِهِ: أَنَّ رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَال: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْل أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ

وَقَال صلى الله عليه وسلم: اللَّهَ، اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ أَذَانِي، وَمَنْ أَذَانِي فَقَدْ أَذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ

قَال ابْنُ الصَّلَاحِ: ثُمَّ إِنَّ الأُْمَّةَ مُجْمِعَةٌ عَلَى تَعْدِيل جَمِيعِ الصَّحَابَةِ، وَمَنْ لَابَسَ الْفِتَنَ مِنْهُمْ فَكَذَلِكَ، بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاءِ الَّذِينَ يُعْتَدُّ بِهِمْ فِي الإِْجْمَاعِ، إِحْسَانًا لِلظَّنِّ بِهِمْ، وَنَظَرًا إِلَى مَا تَمَهَّدَ لَهُمْ مِنَ الْمَآثِرِ، وَكَأَنَّ اللَّهَ سبحانه وتعالى أَتَاحَ الإِْجْمَاعَ عَلَى ذَلِكَ لِكَوْنِهِمْ نَقَلَةَ الشَّرِيعَةِ.

وَجَمِيعُ مَا ذَكَرْنَا يَقْتَضِي الْقَطْعَ بِتَعْدِيلِهِمْ، وَلَا يَحْتَاجُونَ مَعَ تَعْدِيل اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَهُمْ إِلَى تَعْدِيل أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَنَقَل ابْنُ حَجَرٍ عَنِالْخَطِيبِ فِي " الْكِفَايَةِ " أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَرِدْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فِيهِمْ شَيْءٌ مِمَّا ذَكَرْنَاهُ لأََوْجَبَتِ الْحَال الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا مِنَ الْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ، وَنُصْرَةِ الإِْسْلَامِ، وَبَذْل الْمُهَجِ وَالأَْمْوَال، وَقَتْل الآْبَاءِ، وَالأَْبْنَاءِ، وَالْمُنَاصَحَةِ فِي الدِّينِ، وَقُوَّةِ الإِْيمَانِ وَالْيَقِينِ: الْقَطْعَ بِتَعْدِيلِهِمْ، وَالاِعْتِقَادَ بِنَزَاهَتِهِمْ، وَأَنَّهُمْ كَافَّةً أَفْضَل مِنْ جَمِيعِ الْخَالِفِينَ بَعْدَهُمْ وَالْمُعَدَّلِينَ الَّذِينَ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ قَال: هَذَا مَذْهَبُ كَافَّةِ الْعُلَمَاءِ، وَمَنْ يُعْتَمَدُ قَوْلُهُ، وَرَوَى بِسَنَدِهِ إِلَى أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِيَّ قَال: " إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُل يَنْتَقِصُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيقٌ "، ذَلِكَ أَنَّ الرَّسُول صلى الله عليه وسلم حَقٌّ، وَالْقُرْآنَ حَقٌّ، وَمَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ، وَإِنَّمَا أَدَّى إِلَيْنَا ذَلِكَ كُلَّهُ الصَّحَابَةُ، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ يُجَرِّحُوا شُهُودَنَا، لِيُبْطِلُوا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ، وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَى، وَهُمْ زَنَادِقَةٌ

‌‌إِنْكَارُ صُحْبَةِ مَنْ ثَبَتَتْ صُحْبَتُهُ بِنَصِّ الْقُرْآنِ:

- اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى تَكْفِيرِ مَنْ أَنْكَرَ صُحْبَةَ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنه لِرَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا فِيهِ مِنْ تَكْذِيبِ قَوْله تَعَالَى: {إِذْ يَقُول لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا}  وَاخْتَلَفُوا فِي تَكْفِيرِ مَنْ أَنْكَرَ صُحْبَةَ غَيْرِهِ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، كَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ رضي الله عنهم فَنَصَّ الشَّافِعِيَّةُ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَنْكَرَ صُحْبَةَ سَائِرِ الصَّحَابَةِ غَيْرِ أَبِي بَكْرٍ لَا يَكْفُرُ بِهَذَا الإِْنْكَارِ. وَهُوَ مَفْهُومُ مَذْهَبِ الْمَالِكِيَّةِ، وَهُوَ مُقْتَضَى قَوْل الْحَنَفِيَّةِ. وَقَال الْحَنَابِلَةُ: يَكْفُرُ لِتَكْذِيبِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم؛ وَلأَِنَّهُ يَعْرِفُهَا الْعَامُّ، وَالْخَاصُّ، وَانْعَقَدَ الإِْجْمَاعُ عَلَى ذَلِكَ، فَنَافِي صُحْبَةِ أَحَدِهِمْ، أَوْ كُلِّهِمْ مُكَذِّبٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ۔

‌‌سَبُّ الصَّحَابَةِ:

مَنْ سَبَّ الصَّحَابَةَ، أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمْ، فَإِنْ نَسَبَ إِلَيْهِمْ مَا لَا يَقْدَحُ فِي عَدَالَتِهِمْ، أَوْ فِي دِينِهِمْ بِأَنْ يَصِفَ بَعْضَهُمْ بِبُخْلٍ، أَوْ جُبْنٍ، أَوْ قِلَّةِ عِلْمٍ، أَوْ عَدَمِ الزُّهْدِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ، فَلَا يَكْفُرُ بِاتِّفَاقِ الْفُقَهَاءِ، وَلَكِنَّهُ يَسْتَحِقُّ التَّأْدِيبَ.

أَمَّا إِنْ رَمَاهُمْ بِمَا يَقْدَحُ فِي دِينِهِمْ أَوْ عَدَالَتِهِمْ كَقَذْفِهِمْ: فَقَدِ اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى تَكْفِيرِ مَنْ قَذَفَ الصِّدِّيقَةَ بِنْتَ الصِّدِّيقِ: عَائِشَةَ رضي الله عنهما زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَا بَرَّأَهَا اللَّهُ مِنْهُ، لأَِنَّهُ مُكَذِّبٌ لِنَصِّ الْقُرْآنِ.

أَمَّا بَقِيَّةُ الصَّحَابَةِ فَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي تَكْفِيرِ مَنْ سَبَّهُمْ، فَقَال الْجُمْهُورُ: لَا يَكْفُرُ بِسَبِّ أَحَدِ الصَّحَابَةِ، وَلَوْ عَائِشَةَ بِغَيْرِ مَا بَرَّأَهَا اللَّهُ مِنْهُ  وَيَكْفُرُ بِتَكْفِيرِ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ أَوِ الْقَوْل بِأَنَّ الصَّحَابَةَ ارْتَدُّوا جَمِيعًا بَعْدَ رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَنَّهُمْ فَسَقَوْا؛ لأَِنَّ ذَلِكَ تَكْذِيبٌ لِمَا نَصَّ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنَ الرِّضَا عَنْهُمْ، وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِمْ، وَأَنَّ مَضْمُونَ هَذِهِ الْمَقَالَةِ: أَنَّ نَقَلَةَ الْكِتَابِ، وَالسُّنَّةِ كُفَّارٌ، أَوْ فَسَقَةٌ، وَأَنَّ هَذِهِ الأُْمَّةَ الَّتِي هِيَ خَيْرُ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ، وَخَيْرُهَا الْقَرْنُ الأَْوَّل كَانَ عَامَّتُهُمْ كُفَّارًا، أَوْ فُسَّاقًا، وَمَضْمُونُ هَذَا: أَنَّ هَذِهِ الأُْمَّةَ شَرُّ الأُْمَمِ، وَأَنَّ سَابِقِيهَا هُمْ أَشْرَارُهَا، وَكُفْرُ مَنْ يَقُول هَذَا مِمَّا عُلِمَ مِنَ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ  .

وَجَاءَ فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ: يَجِبُ إِكْفَارُ مَنْ كَفَّرَ عُثْمَانَ، أَوْ عَلِيًّا، أَوْ طَلْحَةَ، أَوْ عَائِشَةَ، وَكَذَا مَنْ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ أَوْ يَلْعَنُهُمَا

(باب الصاد ،صحبۃ 26/314،315،316 ط الکویتیۃ)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:

واضح رہے کہ جہالت کی بناء پر صحابہ کرام میں سے کسی کی بھی توہین کرنےوالا شخص انتہائی درجے کا فاسق،گمراہ،اہلِ سنت والجماعت سے خارج،ملعون، مردود الشہادۃ  اور عذابِ خداوندی کا مستحق  ہے،اور اُس پر اِس فعلِ بد سے توبہ کرنا لازمی ہے، جب کہ حضراتِ شیخین(خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ)   کی خلافت کا انکار کرنایاکسی بھی صحابی کو ،چاہے وہ شیخین ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور صحابی (العیاذ باللہ)کافر کہنایا صحابیت کی وجہ سے  کسی بھی صحابی سے بغض رکھنے کی وجہ سےان پرطعن و تشنیع کرنا،  یا کسی صحابی کی توہین کےحلال ہونے کا عقیدہ رکھنا بالاتفاق کفر ہے،البتہ  شیخین کی توہین کو حلال اور مباح سمجھے بغیر صرف کم علمی اور نادانی کی بناء پر  اگر کوئی ان کی گستاخی کا مرتکب ہو،تو  اگرچہ یہ علماۓ محققین کے نزدیک حرام اور بدترین  فسق ضرور ہے، لیکن کفر نہیں ہے،اور یہی حکم شیخین کے علاوہ بقیہ صحابہ پر سب و شتم کرنے والے کا بھی ہے،لہٰذا مذکورہ بالا سوال قابلِ اصلاح ہے،کیوں کہ جس طرح دیگر صحابہ پر سب وشتم کرنا کفر نہیں ہے بالکل اسی طرح شیخین پر   مطلق سب وشتم کرنا بھی کفر نہیں ہے۔

(شیخین کی گستاخی کا حکم،فتوی نمبر : 144410100624)

مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی ؒ  اپنی کتاب "مقام صحابہ "میں رقم طراز ہیں:

سابقہ تحریریہ بات واضح ہوچکی ہے کہ "صحابہ کرام رضی اللہ عنہم "جس مقدس گروہ کانام ہے وہ امت کے عام افراد ورجال کی طرح نہیں وہ رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام اور  امت سے امتیاز رکھتے ہیں ۔یہ مقام وامتیاز ان کو قرآن وسنت کی نصوص و تصریحات کا عطا کیا ہوا ہے اور اسی لئے اس پر امت کا اجماع ہے ،اس کو تاریخ کی صحیح وسقیم روایات کے انبار میں گم نہیں کیا جاسکتا ،اگر کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں بھی ان کے اس مقام اور شان کو مجروح کرتی ہوتو وہ بھی قرآن وسنت کی نصوص صریحہ اور اجماع امت کے مقابلہ میں متروک ہوگی،تاریخی روایات کا تو کیا کہنا ہے۔

(مقام صحابہ صفحہ 31 ط مکتبہ معار ف القرآن )

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                           6ذی الحجہ 1445ھ/13 جون 2024 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:412