فتوے
اسلام کو ماں کی گالی دینا
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب میں اپنے خاوند کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور میری بیٹی کے رشتے کی بات ہو رہی تھی اور میں نے اپنے خاوند کو کہا کہ شریعت یہ کہتی ہے اور اسلام بھی یہ کہتا ہے کہ رشتہ کرتے ہوئے بیٹی اور بیٹے کی مرضی کو پوچھیں شریعت اس چیز کی اجازت دیتی ہے تو اگے سے میرے خاوند نے کہا کہ اپ کا اسلام وڑ گیا ماں کی................ میں
نوٹ
خالی جگہ پر انہوں نے عورت کے مخصوص حصے کا نام لیا تھا کیا یہ بات کرنے کے بعد میرا خاوند دائرہ اسلام میں رہا ہے اور میرا نکاح اس کے ساتھ موجود ہے پلیز قران و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب دیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا انکار ،استہزاء یا استخفاف کرنا ،یا کسی بھی کی نبی علیہ السلام کی توھین کرنا ،یا دین و شریعت کا مذاق اڑانا ،یا دین کی توھین کرنا ،گالی دینا یا دین اسلام کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ نے جب اپنے شوہر کے سامنے دین اسلام کے حکم کی بات کی تو اس کے جواب میں سائلہ کے شوہر نے بہت ہی گستاخانہ اور نازیبا جملہ کہا کہ "آپ کا اسلام وڑ گیا ماں کی ۔۔۔۔۔۔میں "(خالی جگہ میں عورت کے عضو مخصوص کا نام لیا تھا )تو یہ جملہ کہتے ہی سائلہ کا شوہر دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے ،اس پر ضروری ہے کہ توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ ایمان اور نکاح کی تجدید بھی کرے۔تجدید ایمان کے لئے کلمہ شہادت صدق دل کے ساتھ پڑھے،اور تجدید نکاح کے لئے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ ایجاب وقبول کیا جائے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
رَجُلٌ قَالَ لِخَصْمِهِ: اذْهَبْ مَعِي إلَى الشَّرْعِ، أَوْ قَالَ بِالْفَارِسِيَّةِ: بامن بشرع رو وَقَالَ خَصْمُهُ: بياده ببارتا بِرُومِ بِي جبر نروم يَكْفُرُ؛ لِأَنَّهُ عَانَدَ الشَّرْعَ، وَلَوْ قَالَ بامن بِقَاضِي رو، وَبَاقِي الْمَسْأَلَةِ بِحَالِهَا لَا يَكْفُرُ، وَلَوْ قَالَ: بامن شريعت واين حِيَلهَا سُود ندارد، أَوْ قَالَ: بيش نرود، أَوْ قَالَ: مُرَاد بوس هست شريعت جكنم، فَهَذَا كُلُّهُ كُفْرٌ وَلَوْ قَالَ: آن وَقْت كه سيم ستدى شريعت وَقَاضِي كجابود، يَكْفُرُ أَيْضًا، وَمِنْ الْمُتَأَخِّرِينَ مَنْ قَالَ: إنْ عَنَى بِهِ قَاضِيَ الْبَلْدَةِ لَا يَكْفُرُ وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِغَيْرِهِ: حُكْمُ الشَّرْعِ فِي هَذِهِ الْحَادِثَةِ كَذَا فَقَالَ ذَلِكَ الْغَيْرُ: مِنْ برسم كَارِ ميكنم نُهْ بشرع يَكْفُرُ عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى وَفِي مَجْمُوعِ النَّوَازِلِ قَالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ: مَا تَقُولِينَ أيش حُكْم الشِّرْع فَتَجَشَّأَتْ جُشَاءً عَالِيًا فَقَالَتْ: اينك شرع را فَقَدْ كَفَرَتْ وَبَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا كَذَا فِي الْمُحِيطِ
(کتاب السیر الباب التاسع مطلب فی موجبات الکفر ،منہا مایتعلق بالعلم والعلماء 2/271 ط رشیدیہ)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
اصولی طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ جن الفاظ میں ضروریاتِ دین میں سے کسی بات کا انکار یا اعتراض ہو یا صریح حکمِ الٰہی کو تبدیل کرکے بیان کیا جائے یا دین کے کسی بھی حکم یا بات کا استہزا و مذاق اڑایا جائے، اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات و صفات میں سے کسی کا انکار، اعتراض، استہزا یا استخفاف ہو، یا کسی نبی علیہ السلام کی توہین و گستاخی یا استخفاف ہو، وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ کہنے سے (العیاذ باللہ) کفر ثابت ہوجاتاہے۔
(کفریہ الفاظ کیا ہیں؟فتوی نمبر : 144103200729)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
16رجب المرجب 1445ھ/28جنوری 2024 ء
فتویٰ نمبر:366
