فتوے
اس مسئلہ کا وحدہ لاشریک لہ حل کہنے کا حکم
سوال
اگر کوئی استاد طلبہ کو پڑھاتے ہوئے کسی شئے کے توحد(اکیلا ہونے)کو بیان کرتے ہوئے یہ جملہ بولے کہ "اس مسئلے کا وحدہ لاشریک حل یہ ہے"تو کیا وہ اس جملے سے کافر ہوجائے گا یا نہیں ؟اسی طرح کسی خراب دیوار پر پردہ لگاتے ہوئے خوش طبعی کے طور پر کہا کہ "یہ ستار العیوب ہے"تو کیا اس سے وہ کافر ہوجائے گا یا نہیں؟
واضح رہے کہ دونوں صورتوں میں کوئی استخفاف مقصود نہیں تھا بلکہ خوش طبعی کے طور پر کہا۔۔۔۔
جواب
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ یا اس کی صفت کا استھزاء یا مذاق اڑانا یا اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرنا جو اس کی شان عالی کے لائق نہ ہواس سے انسان کافر ہوجاتا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں کسی مسئلہ کی تشریح کرتے ہوئے یہ کہنا کہ "اس مسئلہ کا وحدہ لاشریک حل یہ ہے"اور اسی طرح خوش طبعی کے طور پرپردہ کو یہ کہنا کہ "ستار العیوب" انتہائی نامناسب الفاظ ہیں ،"وحدہ لاشریک لہ" اور" ستار العیوب"ہمارے عرف میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں جب بھی یہ الفاظ بولے جاتے ہیں ،ان سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے ،ازراہ تفنن یا خوش طبعی کے طور پر مذکورہ بالا صفات کا استعمال غیر اللہ پر کرنا بہت نازیبا حرکت ہے۔مذکورہ الفاظ کہنے والا توبہ واستغفار کرے اور احتیاطا تجدید ایمان ونکاح بھی کرلے اور آئندہ کے لئے ان جیسے الفاظ کے استعمال سے احتیاط کرے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
(وَمِنْهَا مَا يَتَعَلَّقُ بِذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَصِفَاتِهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ) يَكْفُرُ إذَا وَصَفَ اللَّهَ تَعَالَى بِمَا لَا يَلِيقُ بِهِ، أَوْ سَخِرَ بِاسْمٍ مِنْ أَسْمَائِهِ، أَوْ بِأَمْرٍ مِنْ أَوَامِرِهِ، أَوْ نُكِرَ وَعْدَهُ وَوَعِيدَهُ، أَوْ جَعَلَ لَهُ شَرِيكًا، أَوْ وَلَدًا، أَوْ زَوْجَةً، أَوْ نَسَبَهُ إلَى الْجَهْلِ، أَوْ الْعَجْزِ، أَوْ النَّقْصِ وَيَكْفُرُ بِقَوْلِهِ يَجُوزُ أَنْ يَفْعَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِعْلًا لَا حِكْمَةَ فِيهِ وَيَكْفُرُ إنْ اعْتَقَدَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْضَى بِالْكُفْرِ كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ.
(کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین ،مطلب فی موجبات الکفر 2/258 ط رشیدیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
از
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
23محرم الحرام 1447ھ/19 جولائی 2025 ء
فتویٰ نمبر:465
