فتوے
چھوٹا بچہ اگر درمیان صف کھڑا ہوجائے تو کیا اتصال نہیں رہتا؟
سوال
مفتیانِ کرام السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے؟ دلائل کی روشنی میں دوسرا مسئلہ کی وضاحت طلب ہے، سنا گیا ہے کہ دورانِ جماعت 1 چھوٹا بچہ مردوں میں کھڑا ہو جائے تو اتصال نہیں رہتا؟ اس میں کہاں تک حقیقت ہے؟
جواب
فقہاء کرام نے نماز کے دوران صفوں کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے کہ سب سے پہلے بالغ مردوں کی صفیں بنائی جائیں پھر اس کے بعد بچوں کی صف ہو ،تاہم اگر کوئی بچہ مردوں کی صف کے درمیان میں نماز پڑھتا ہے تو اس سے اتصال صفوف میں کوئی فرق نہیں آتا ،اس طرح نماز پڑھنا بھی درست ہے،بلکہ علماء کرام تو یہ فرماتے ہیں کہ اگر بچہ سات سال کی عمر کا ہے اور مسجد میں بچوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں ہے تو ان کو بڑوں کے ساتھ نماز میں کھڑا کرنا چاہیے تاکہ یہ بچہ نماز بھی سیکھ لے اور دوسروں بچوں کے ساتھ مل کر شرارت بھی نہ کرے کیونکہ سب بچوں کو علیحدہ ایک صف کھڑا کرنے کی صورت میں بچے عموماً شرارتیں زیادہ کرتے ہیں البتہ اگر بچہ بہت زیادہ چھوٹا ہےیعنی سات سال سے بھی کم عمر ہے تو اس کو مسجد میں نہیں لانا چاہیے،ایسے بچے عموماً مسجد کے آداب اور اہمیت نماز سے ناآشنا ہونے کی بنا پر دوسرے نمازیوں کی نماز میں خلل کا باعث بنتے ہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وَلَوْ اجْتَمَعَ الرِّجَالُ وَالصِّبْيَانُ وَالْخَنَاثَى وَالْإِنَاثُ وَالصَّبِيَّاتُ الْمُرَاهِقَاتُ يَقُومُ الرِّجَالُ أَقْصَى مَا يَلِي الْإِمَامَ ثُمَّ الصِّبْيَانُ ثُمَّ الْخَنَاثَى ثُمَّ الْإِنَاثُ ثُمَّ الصَّبِيَّاتُ الْمُرَاهِقَاتُ. كَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ
(کتاب الصلوۃ ،الباب الخامس فی الامامۃ،الفصل الخامس فی بیان مقام الامام والماموم 1/89 ط رشیدیہ)
احسن الفتاویٰ میں ہے:
"بچوں کو پیچھے کھڑا کرنا مستحب ہے، اگر ان سے کسی شرارت اور اپنی نمازیں خراب کرنے اور دوسروں کی نمازوں میں خلل ڈالنے کا اندیشہ نہ ہو تو اسی پر عمل کرنا چاہیے، مگر اس زمانہ میں مشاہدہ ہے کہ جب بچے اکھٹے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ ضرور شرارت کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، ہنستے ہیں، جس سے ان کی اپنی نماز تو خراب ہوتی ہی ہے، بالغین کی نمازوں میں بھی شدید خلل ہوتا ہے، اسی بناء پر بعض متاخرین فقہاء رحمھم اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی ہے کہ بچوں کو بالغین کی صف میں کھڑا کرنا ہی متعین ہے، چناں چہ علامہ رافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قال الرحمتي: ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال؛ لأن المعهود منهم إذا اجتمع صبيان فأكثر تبطل صلاۃ بعضهم ببعض وربما تعدی ضررهم إلي إفساد صلاة الرجال. انتهي. سندي.
خلاصہ یہ ہے کہ بچوں کو پیچھے کھڑا کرنا مستحب لعینہ ہے اور عوارضِ مذکورہ کی بنا پر بالغین کی صفوں میں متفرق کھڑا کرنا مستحب لغیرہ ہے، جو خاص حالات وضرورتِ شدیدہ کے وقت درجۂ واجب تک بھی پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ علامہ رافعی کی مذکورہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے"۔
(تتمہ احسن الفتاوی ،کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ والجماعۃ 10/301،302 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
13 جمادی الاولیٰ 1447ھ/5نومبر 2025 ء
فتویٰ نمبر:494
