info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

نفخہ ثانیہ کے بعد کیا شیطان کو دوبارہ موقع دیا جائیگا؟

سوال

مفتیانِ کرام السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے؟ دلائل کی روشنی میں ایک مسئلہ کی وضاحت طلب ہے، سنا گیا ہے کہ صورِ ثانیہ کے بعد شیطان کو پھر 1 موقع دیا جائے گا کہ آدم کو سجدہ کر لو تو تمہاری بخشش ہو سکتی ہے؟ اس میں کہاں تک حقیقت ہے؟

جواب

ابلیس لعین کو جب سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے مردود کیا گیا تو اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ سے حشر کے دن تک کی مہلت مانگی ،یعنی نفخہ ثانیہ تک زندہ رہنے کی مہلت مانگی  اور یہ درخواست کی کہ مجھے نفخہ اولیٰ کے وقت موت نہ آئے۔حالانکہ حضرت اسرافیل علیہ السلام جب پہلی مرتبہ صور پھونکیں گے تو سب کچھ فنا ہوجائے گا ،آسمان ،زمین پہاڑ وغیرہ سب ختم ہوجائیں گیں  حتیٰ کہ صور پھونکنے والےفرشتہ پر بھی موت طاری ہوجائی گی اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی باقی نہ رہے گا ،پھر اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل علیہ السلام کو دوبارہ زندہ کریں گیں تو اس کے دوبارہ صور پھونکنے سے سب لوگ زندہ ہوجائیں گیں اور میدان حشر قائم ہوجائے گا ۔شیطان لعین نے اللہ تعالیٰ سے  درخواست کی تھی کہ مجھے نفخہ ثانیہ تک مہلت دی جائے اور مجھے نفخہ اولیٰ کے وقت موت نہ آئے لیکن اس کی یہ درخواست منظور نہ ہوئی ،اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نفخہ اولیٰ  تک مہلت دی ،نفخہ اولیٰ کے بعد شیطان پر بھی موت آجائے گی۔

ارشاد ربانی ہے:

﴿قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيم 77 وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ 78 قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ 79 قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ 80 إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ ﴾ [ص: 77-81]

ترجمہ: ارشاد ہوا کہ تو آسمان سے نکل کیونکہ بے شک تو مردود ہوگیا  اور بے شک تجھ پر میری لعنت رہی گی قیامت کے دن  تک ،کہنے لگا تو پھر مجھ کو مہلت دے دیجئے قیامت کے دن تک، ارشاد ہواتجھ کو معین وقت کی تاریخ تک مہلت دی گی۔(بیان القرآن)

معارف القرآن میں ہے:

اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ شیطان نے تو اپنی دعا میں اس وقت تک کی مہلت مانگی تھی جبکہ دوسرا صور پھونکنے تک تمام مردوں کو زندہ کیا جائے گا  اسی کا نام یوم البعث ہے اگر یہ دعا بعینہ قبول ہوتی تو جس وقت ایک ذات حی وقیوم کے سوا کوئی زندہ نہ رہے گا  اور کل من علیہا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام کا ظہور ہوگا اس دعا کی بنا پر ابلیس اس وقت بھی زندہ رہتا ،اس لئے اس کی ایک دعا کو یوم بعث تک کی مہلت  کے بجائے یوم ینفخ فی الصور تک کی مہلت سے تبدیل کرکے قبول کیا گیا ،جس کا اثر یہ ہوگا کہ جس وقت سارے عالم پر موت طاری ہوگی اس وقت ابلیس کو بھی موت آئے گی پھر جب دوبارہ زندہ ہوں گے تو وہ بھی زندہ ہوجائے گا ۔

(سورہ الاعراف آیت 14،15 صفحہ 527،528 جلد 3 ط ادارہ المعارف کراچی)

حدیث مبارکہ میں قیامت کی علامات  کبریٰ میں سے ایک علامت یہ بتائی گی ہے کہ قرب قیامت سورج مغرب سے طلوع ہوگا ،مغرب سے سورج طلوع ہونے کے بعد کسی کا بھی ایمان معتبر نہ ہوگا ،اور نہ ہی کسی کی توبہ قبول ہوگی،البتہ جو لوگ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے بعد پیدا ہوئے ہونگے ان کا ایمان اور توبہ قبول ہوگی ۔سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے ایک سو بیس سال بعد قیامت قائم ہوجائی گی۔

اس روایت کے عموم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو نفخہ ثانیہ کے بعد دوبارہ مہلت نہیں دی جائی گی ،اور ہمارے علم میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ شیطان کو نفخہ ثانیہ کے بعد دوبارہ ایک موقع دیا جائیگا،البتہ اگر سائل کے پاس کوئی واضح اور صحیح حدیث موجود ہو تو وہ  بھیج دیں ،اس کے بعد  جواب بھیج دیا جائے گا۔

حدیث شریف میں ہے:

وَعَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى ‌تَطْلُعَ ‌الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

(کتاب الدعوات،باب التوبۃ والاستغفار ،الفصل الاول 2/721 رقم الحدیث2329 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ:حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ دراز فرماتے ہیں(ہاتھ دراز فرمانا کنایہ ہے رحمت برسانے اور توبہ قبول کرنے سے) تاکہ دن کے وقت گناہ کرنے والا رات کو توبہ کرلے اور دن کے وقت ہاتھ دراز فرماتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا دن کو توبہ کرلے یہاں تک کہ سورج مغرب کو طلوع ہوجائے۔

ملا علی قاری ؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

(حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا) : فَحِينَئِذٍ يُغْلَقُ بَابُهَا. قَالَ تَعَالَى: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا} [الأنعام: 158] الْآيَةَ. قَالَ ابْنُ الْمَلَكِ: مَفْهُومُ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَشْبَاهِهِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ التَّوْبَةَ لَا تُقْبَلُ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنَ الْمَغْرِبِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَقِيلَ: هَذَا مَخْصُوصٌ لِمَنْ شَاهَدَ طُلُوعَهَا، فَمَنْ وُلِدَ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ بَلَغَ وَكَانَ كَافِرًا وَآمَنَ، أَوْ مُذْنِبًا فَتَابَ يُقْبَلُ إِيمَانُهُ وَتَوْبَتُهُ لِعَدَمِ الْمُشَاهَدَةِ.

(کتاب الدعوات،باب التوبۃ والاستغفار ،الفصل الاول ، رقم الحدیث2329)

ترجمہ:جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا} [الأنعام: 158] یعنی جس دن اللہ رب العزت کی بعض آیات آجائیں گیں تو اس وقت کسی نفس کا ایمان قبول نہ ہوگا(سورۃ الانعام 158)علامہ ابن ملکؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے بعد قیامت تک کسی کی توبہ قبول نہ ہوگی  اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکم  اس کے لئے ہے جس نے سورج کو مغرب سے طلوع ہونے کا مشاہدہ کیا ہو لہذا جس کی پیدائش اس کے بعد ہوئی یا اس کے بعد وہ بالغ ہوا  اور وہ پہلے کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا تو اس کا ایمان قبول ہوگا اور توبہ بھی قبول کی جائے گی اس لئے کہ اس نے سورج کا مشاہدہ نہیں کیا۔

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     9 جمادی الاولیٰ 1447ھ/یکم نومبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:493