info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

سال کے درمیان میں جو اضافہ ہوا اس پر زکوٰۃ کا حکم

سوال

عرض خدمت ہے کہ 2019 میں میرے گھر میں مبلغ چار لاکھ روپے جمع پو چکے تھے بذریعہ ماہانہ ادائیگی گھریلو سطح کمیٹی (بیس ) اسی ماہ رمضان  میں رقم پر عرصہ ایک سال گزر چکا تھا۔ اسی سال ماہ رمضان سے ایک ماہ پہلے  فلیٹ کے فروخت کرنے پر مبلغ  25 لاکھ ہمارے پاس ہوگئے ( یہ فلیٹ ہم نے کرایہ پر دیا ہوا تھا وصول شدہ کرائے کی رقم ہم اپنے کرائے کے مکان میں شامل کر کے مالک مکان کو دیتے تھے جس میں ہم کرایہ دار کی حیثیت میں مقیم تھے )کیا کل رقم 25 لاکھ + 4 لاکھ کی رقم پرزکوٰۃ ادا کرنا  تھی یا صرف 4 لاکھ پر زکوٰۃ دینا تھی2019 میں صرف 4 لاکھ پر زکوٰۃ ادا کی تھی کیونکہ گھر کے تمام افراد کی رائے تھی کہ فلیٹ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر ایک سال پوری نہیں ہوئی ہے۔

2020 کے رمضان میں تمام مذکورہ  رقم  اور کچھ استعمال کے ریور اور دیگر اثاثہ جات کی زکوٰۃ کی رقم مبلغ 78 ہزر روپے کا تعین کر کے 35 ہزار روپے ادا کردئے گئے زکوٰۃ کی مد میں بقایا رقم ادا نہیں کی گئی کیونکہ بینک سے قرض لیکر پلاٹ (زمین) خریدی اور پھر مکان کی تعمیر  کے سلسلہ میں رقم  تیزی سے خرچ ہوتی رہی۔ رقم کم ہونے کی وجہ سے تعمیر کا کام جاری ممکن  نہیں رہا تو رشتہ داروں نے قرض حسنہ مکان کی تعمیر کو مکمل کرنے کے لئے دیا جو کہ کل18 لاکھ 50 ہزار کی رقم کے ہم مقروض ہوگئے اسی وجہ سے زکوٰۃکی بقایا رقم 2020 کی خرچ ہوگئی۔

قرض کی ادایئگی رقم  کمیٹی ڈال کر ہم نے قرض خواہوں کو وقفے وقفے سے ادا کردی لیکن جن لوگوں کے پاس ہم کمیٹی ڈال کر رقم وصول کر کے ادائیگی کرتے رہے ان کو ہر ماہ کمیٹی کی مد میں رقم ادا کرتے رہے قرض باقی تھا   ادا ہوتا رہا  صرف قرض کی نوعیت بدل گئی اب نومبر 2025تک ہم نے کمیٹی والوں کی رقم ادا کر کے قرض سے آزاد ہو جائیں گے۔

آپ سے آگاہی اس تحریر کے ذریعہ حاصل کر نا ہے کہ  کیا ہم  نے بقایا زکوٰۃ کی رقم قرض حسنہ حاصل کرنے سے پہلے کے وقت کی ادا کرنی ہے یا  اس کے بعد بھی زکوٰۃ  کی تاخیر کی وجہ سے کچھ ادائیگی کرنا ہوگی (بینک سے حاصل کئے گئے قرضہ کی ادائیگی ہوچکی ہے)میری اور بیٹیوں کی ذریعہ آمدنی کی رقم سب اہلیہ کے پاس گھر کے نظام کو چلانے کے لئے جمع کرتے تھے۔ تاکہ گھر  کے اور باہروالوں کی تقریبات کی رقم اور گھر کی تمام ماہانہ اخراجات مکمل کئے جائیں اور ہر ماہ کمیٹی کی رقم کی ادائیگی  بھی ہوتی رہے۔ اُمید ہے کہ تحریر سے متعلق ضروری شرعی مسئلہ کی آگاہی عنایت فرمائیں گے۔ فقط وسلام

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ہررقم پر علیحدہ سال گذرنا ضروری نہیں ہے،بلکہ اگر کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر رقم موجود ہو ،پھر سال گذرنے سے چند دن قبل اس کے پاس مزید رقم آگی توسال گذرنے پر  مجموعی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی(یعنی جو رقم  اضافی ملی ہے اس پر بھی زکوٰۃ دینا ہوگی اگر چہ اس پر مکمل سال نہیں گذرا )۔

صورت مسؤلہ میں سائل کے پاس 2019 میں چار لاکھ روپے تھے اور سال گذرنے سے کچھ عرصہ قبل اس نے اپنا فلیٹ فروخت کیا تو اس کی قیمت 25 لاکھ روپے پر بھی 4لاکھ کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنا ضروری تھا ،لہذااب  سائل پر 2019 کی مکمل زکوۃ اور 2020 کی بقایا زکوٰۃ کی رقم قرضہ ہے جو سائل کو ادا کرنا ضروری ہے۔2020 کے بعد سائل مکان کی تعمیر کے سلسلے میں مقروض ہوگیا تھا ،اس لئے اس قرضہ کی مکمل ادائیگی کے بعد جب سائل دوبارہ صاحب نصاب ہوجائے تو اس سال سے دوبارہ زکوٰۃ دینا بھی ضروری ہوگا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

وَمَنْ كَانَ لَهُ نِصَابٌ فَاسْتَفَادَ فِي أَثْنَاءِ الْحَوْلِ مَالًا مِنْ جِنْسِهِ ضَمَّهُ إلَى مَالِهِ وَزَكَّاهُ الْمُسْتَفَادُ مِنْ نَمَائِهِ أَوَّلًا وَبِأَيِّ وَجْهٍ اسْتَفَادَ ضَمَّهُ سَوَاءٌ كَانَ بِمِيرَاثٍ أَوْ هِبَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، وَلَوْ كَانَ مِنْ غَيْرِ جِنْسِهِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ كَالْغَنَمِ مَعَ الْإِبِلِ فَإِنَّهُ لَا يَضُمُّ هَكَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ. فَإِنْ اسْتَفَادَ بَعْدَ حَوَلَانِ الْحَوْلِ فَإِنَّهُ لَا يَضُمُّ وَيَسْتَأْنِفُ لَهُ حَوْلٌ آخَرُ بِالِاتِّفَاقِ هَكَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ. ثُمَّ إنَّمَا يُضَمُّ الْمُسْتَفَادُ عِنْدَنَا إلَى أَصْلِ الْمَالِ إذَا كَانَ الْأَصْلُ نِصَابًا فَأَمَّا إذَا كَانَ أَقَلَّ فَإِنَّهُ لَا يُضَمُّ إلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ يَتَكَامَلُ بِهِ النِّصَابُ وَيَنْعَقِدُ الْحَوْلُ عَلَيْهِمَا حَالَ وُجُودِ النِّصَابِ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ.

(کتاب الزکوٰۃ ،الباب الاول 1/175 ط رشیدیہ)

زکوٰۃ کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں ہے:

اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے اور اس کا سال یکم رمضان سے یکم رمضان تک پورا ہوتا ہے،اور درمیان سال میں کچھ رقم اور مل گی یا سونا یا چاندی مل گی تو بعد میں ملنے والی چیزوں کے سال کا حساب الگ نہیں ہوگا بلکہ جب یکم رمضان آئیگا تو ان چیزوں کی زکوۃ دینا بھی لازم ہوگا ،کیونکہ جب اصل نصاب پر سال گذر گیا تو گویا کہ سال مکمل ہونے سے پہلے ملنے والی چیزوں پر بھی سال گذر گیا۔

(سال کے درمیان میں جو اضافہ ہوا صفحہ 252 ط بیت العمار)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     10جمادی الثانیہ 1447ھ/2 دسمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:502