info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

دو بیوہ،5 بیٹے،6 بیٹیاں تقسیم وراثت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ،مرحوم نے ترکہ میں 72 لاکھ 35 ہزار روپے چھوڑے ہیں ،اس کے علاوہ ایک مکان ہے جس سے ماہانہ 24000 روپے کرایہ آتا ہے ،مرحومین کے وارثین میں دو بیویاں 5 بیٹے  6 بیٹیاں ہیں ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک بیوی سے 3 بیٹے اور ایک بیٹی جبکہ دوسری بیوی سے 2 لڑکے اور 5 بیٹیاں ہیں تفصیل طلب امور یہ ہیں :

1۔مذکورہ ترکہ میں ہر وارث کا کتنا حصہ ہوگا ؟

2۔ماہانہ کرایہ میں ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا ؟

3۔چونکہ بچے اپنی اپنی والدہ کے ساتھ علیحدہ رہتے ہیں تو ہر زوجہ کو اس کے بچوں سمیت کتنے پیسے حوالہ کرنے ہوں گے؟

 

جواب

صورت مسؤلہ میں میت کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر میت پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے ،اور اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی سے نافذ کرکے ،بقیہ کل جائیداد منقولہ (نقدی،سونا،چاندی)وغیر منقولہ (زمین ،مکان،پلاٹ) کو 128 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،مرحوم کی دو بیواؤں میں سے ہر ایک بیوہ کو 8 حصے ،مرحوم کے 5 بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 14 حصے اور مرحوم کی 6 بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہوگی :

یعنی 7235000 روپے میں سے مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو 452187.5 روپے،مرحوم کے 5 بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 791328.12 روپے اور مرحوم کی6 بیٹیوں میں سے  ہرایک بیٹی   کو395664.04 روپے ملیں گے۔

واضح رہے کہ ترکہ کے گھر کو بھی فروخت کرکے مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق  جلد تقسیم کردینا شرعا ً بہتر ہےتاکہ بعد میں کسی قسم کا باہمی نزاع نہ ہو تاہم جب تک گھر فروخت نہیں ہوتا یا ورثاء فی الحال اس گھر کو فروخت نہیں کرنا چاہتے تو اس کے کرایہ کو بھی 128 حصوں میں تقسیم کیا جائے،یعنی 24000 روپے کرایہ کی رقم میں سے مرحوم کی ہرایک بیوہ کو 1500 روپے  ،مرحوم کے ہرایک بیٹے کو 2625 روپے اور ہرا یک بیٹی کو 1312.5 روپے ملیں گے۔

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                 12جمادی الثانیہ 1447ھ/4 دسمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:505