info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

دوسرے کے گھر میں بلا کسی معاہدہ رقم خرچ کرنے کا حکم

سوال

 عرض خدمت ہے کہ میرے والد صاحب نے 80 گز کا مکان 1968 میں (ملیر میں ) اس معاہدے کے تحت  فروخت مبلغ سات ہزار روپے میں فروخت کر دیا تھا کہ مالی حالت بہتر ہونے پر ہم اس مکان کو خرید لیں گے اور اس  دوران ماہانہ کرایہ ادا کرکے اسی مکان میں مقیم رہیں گے 1975 والد صاحب کا بس سے حادثہ ہونے کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔

1979 میں مذکورہ معاہدہ کے بزرگ خاندان کے گواہان کی معاونت سے مبلع پندرہ ہزار (15000/) روپے میں خرید لیا ۔ (کرایہ ہر ماہ پندرہ ہزار روپے کی ادائیگی تک دیتے رہے) خریداری کی رقم کا مندرجہ ذیل ذریعہ تھا ۔

میرا ایک چھوٹا سا  کاروبار تھا ۔ 2 چھوٹے بھائی کاروبار میں معاونت کرتے تھے اور اس کی طے شدہ اُجرت  وصول کرتے تھے۔ میں اس کام کے سلسلہ میں انتظامی ذمہ داری اور مارکیٹ سے آڈر لینا اور فراہم کرنا  اور رقم  کی وصولی کا کام کرتا تھا۔ بھائیوں کی اُجرت کی ادائیگی اوردیگر مصارف  ان کا لباس اور دیگر ضروریات زندگی اپنی آمدنی سے پورا    کرتا تھا۔2 بھائیوں کی  اُجرت اور کاروبار سے متعلق دیگر مصارف کے  بعد بچنے والی رقم اپنے پاس رکھتا تھا ۔ اور مذکورہ اہل خانہ اور گھر کے مصارف کے بعد کچھ رقم بچاتےہوئے مکان کی خریداری کے لئے رقم جمع کرلی تھی(ہم 4 بھائی اور دو ہمشیرہ  صاحبہ ہیں) ایک بہن اور ایک بھائی  کی شادی کے اخراجات بھی میری بچائی گئی رقم سے مکمل ہوئے تھے۔مجھ سے چھوٹے دو بھائی اپنی اُجرت کی رقم والدہ کو گھر کے مصارف کے لئے دیتے تھے۔ مکان کو بہتر کرنے کے سلسلہ میں تعمیر کے اخراجات پہلے میں پھر چھوٹی بہن نے (ملازمت کی اُجرت) سے اور پھر چھوٹے بھائی نے رقم خرچ کی تھی ایک بہن اور دو بھائیوں نے مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کچھ خرچ نہیں کیا ۔ میں نےاپنا حصہ مکان کا کرایہ  پر دے رکھا ہے اور 2021اکتوبر میں مکان تعمیر کر کے اس میں مقیم ہوں  دونون بہنوں کی شادی ہوچکی ہے اور 3 بھائی مذکورہ مکان میں رہائش پذیر ہیں ۔ وقفہ وقفہ سے  تعمیر کی رقم خرچ کرنے کے لئے کسی قسم کا باہمی  معاہدہ نہیں ہوا ہے 2013سے 2021 تک اپنی فیملی کے ہمراہ کرایہ کے مکان میں رہتا تھا۔

آپ سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ تحریر کی روشنی میں مکان والد صاحب کی وراثت ہوگا یا میری ملکیت کہلائے گا۔ سب بہن بھائیوں  نے تحریری معاہدہ کیا ہے کہ تینوں بھائیوں کے پاس جب تک اتنے مالی وسائل نہیں ہوگے جتنی رقم مکان کی فروخت سے ملنے والی رقم(وراثت حصہ اگر والد صاحب کا  ترکہ ہے) میں تینوں کے ذاتی مکان خریدنے پر درکار ہوگی۔ اگر مکان میری ملکیت ہے تو پھر بھی تاحیات اس میں مقیم رہیں گے ۔ اُمید ہے کہ احکام شرعی کی روشنی میں آگاہی عنایت فرما کر مشکور فرمائیں گے تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہوسکے۔

تنقیح:کاروبار سائل کا ذاتی تھا والد صاحب کا کاروبار نہیں تھا،سائل نے مذکورہ  کاروباراپنے والد کی زندگی میں شروع کیا تھا،بھائیوں کی اس کاروبار میں کوئی شراکت داری نہیں تھی وہ کام کرتے تھے اور ان کو اس کی متعینہ اجرت دی جاتی تھی۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل کے والد نے 80 گز کا مکان1968 میں  فروخت کردیا تھا ،اور اسی مکان میں کرائے دار کی حیثیت سے رہتے رہے اور  ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ دوبارہ اس مکان کو خریدیں گیں لیکن وہ اپنی زندگی  میں دوبارہ اس مکان کو  نہ خرید سکے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا  ۔ان کے انتقال کے بعد سائل نے اپنی ذاتی رقم سے مذکورہ مکان کو خریدا ،مکان کی خریداری کے لئے سائل نے جو رقم خرچ کی وہ سائل کے ذاتی کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع تھا ،اور اس کاروبار میں سائل کے کسی بھائی کی کوئی شراکت داری بھی نہیں تھی بلکہ وہ ملازم کی حیثیت سےسائل کے ساتھ  کام کرتے تھے تو مذکورہ مکان اب سائل کی ملکیت ہے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی ۔اور سائل جب چاہے اپنے اس مکان میں سے بھائیوں کی رہائش ختم کراسکتا ہے۔

مکان کی تعمیر اور مرمت سازی پرسائل کے علاوہ  جس بہن بھائیوں نے   جو رقم خرچ کی وہ چونکہ بلا کسی معاہدہ کے تھی لہذا یہ رقم ان کی طرف سے تبرع واحسان تھا اور وہ اب اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔

العقود الدرایۃ فی تنقیح الحامدیۃ میں ہے :

الْمُتَبَرِّعُ لَا يَرْجِعُ بِمَا تَبَرَّعَ بِهِ عَلَى غَيْرِهِ كَمَا لَوْ قَضَى دَيْنَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ.

(کتاب المداینات 2/226 ط دارالمعرفۃ)

دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ میں ہے :

سوال : ایک گھر جو کہ باپ کی ملکیت ہے اس کی تعمیر میں سب بھائیوں نے رقم لگائی ہے کسی نے کم کسی نے زیادہ، اب باپ کے انتقال کے بعد جب گھر تقسیم ہوگا تو بھائی تعمیر میں لگائی رقم کا مطالبہ کر سکتا

 ہے جب کہ سب مشترکہ رہتے ہیں اور کھانا پینا بھی مشترکہ ہے؟

جواب : اگر بھائیوں کی طرف سے یہ رقم والد کی زندگی میں بغیر کسی صراحت کے لگا ئی گئی تھی تو اب انہیں کسی قسم کے مطالبہ کا حق نہیں ہے  اور اگر رقم لگاتے ہوئے کسی قسم کی صراحت ہوئی تھی کہ یہ

قرض ہے یا بطور شراکت ہے تو اسی کے مطابق عمل کیا جائےگا ۔فقط واللہ اعلم

(فتوی نمبر : 143908200097 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                  11جمادی الثانیہ 1447ھ/3 دسمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:504