info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

بوہری فرقہ کے ساتھ میل جول کا حکم

سوال

عرض خدمت ہے کہ میرے بیٹی کی ساس صاحبہ کے رشتہ دار بوہری  مسلک سے تعلق رکھتے ہیں میرے بیٹے کے سسر صاحب مرحوم نے بوہری گھرانے میں شادی کی تھی ان کے گھر میں بوہری مسلک کے عقائد پر عمل کرتے  نہیں دیکھا گیا ہے ۔ میرے بیٹے کی ساس کی بہن کا بیٹا جو کہ بوہری مسلک پر عمل پیرا ہے  اور اس کا پورا گھرانہ بوہری مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔

آج کل یہ بوہری نوجوان  یوگانڈا  سے پاکستان  مذکورہ بالا فقہ حنفی مسلک کے گھر انے میں  آکر مقیم ہے تقریبا 2 ماقیام کا ارادہ سے یوگانڈا سے پاکستان آیا ہے۔ اس نوجوان سے اس کی مذکورہ خالہ کی شادی شدہ بہن اور اس  کے خالہ زاد بھائی  کی اہلیہ نا محرم رشتہ سے پردہ اور حجاب جس طرح کرنا بتایا گیا ہےیہ کچھ نہیں عمل کر رہا ہے۔ بلکہ مخلوط محفل کی صورت میں سب اکھٹے بیٹھے ہیں۔

2020 میں میرے بیٹے کی ساس صاحبہ کی بوہری مسلک کی بہن ، بہنوئی اور انکا بیٹا پاکستان تشریف لائے تھے ۔ مذکورہ گھرانے کے سب لوگوں کو میرے بیٹے کے گھر قیام کرایا گیا تھا۔ میرے بیٹے کو اور مجھے اس وقت تک بوہری مسلک کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ بوہری مسلک کے گھرانے میں دعوت ولیمہ میں شرکت کے بارے سوال کسی نے معلوم کیا تھا جواب میں مفتی صاحب نے ولیمہ کی تقریب میں شراکت سے منع کر دیا تھا ۔

میری آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ میری اس تحریر کے بارے میں آگاہی عطا فرمائیں تاکہ  آپ  کی جانب سے مذہبی اور شرعی آگاہی کو حاصل کر کے کسی بھی قسم کی خرابی سے بچا جا سکے۔ امید کرتا ہوں کہ اپنے قیمتی لمحات سے کچھ لمحات میری تحریر پر نظر کرم فرما کر  مشکور فرمائیں گے ۔ بوہری مسلک کے خاندان سے تعلقات اور بوہری فرد کا کسی بھی مسلک کے مسلمان کے گھر میں قیام کرنا کا کیا حکم ہے؟

جواب

بوہری فرقہ اپنے باطل نظریات اور عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں ،ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا،رشتہ داریاں قائم کرنا ،میل جول رکھنا ،ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات ،ہمدردی اور محبت رکھنا شرعا ناجائز ہے۔مسلمان عورت کا نامحرم مسلمان مردوں کے ساتھ اختلاط اور بے حجابہ گفتگو بھی جائز نہیں چہ جائیکہ ایک غیر مسلم اجنبی اور نامحرم مرد کے ساتھ اختلاط کرنا بطریق اولیٰ ناجائز اور غلط ہے ،ان تمام امور سے اجتناب ضروری ہے۔

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:

واضح رہے کہ بوہری   بہت سارے بنیادی عقائد میں  مسلمانوں سے الگ اپنے منفرد نظریات رکھتے ہیں ، ذیل میں بطورِ مثال  ان کےچند عقائد درج کیے جاتے ہیں:

1۔توحید:

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے،اس کے بہت سارے صفات ہیں، مگر اس کی ذات کی طرح صفات میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے،اور بوہری فرقے کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے،مگر وہ کسی صفت  یا نعت سے موصوف ومنعوت نہیں ہے، اسے کسی صفت کے ساتھ  موصوف کرنا گویا ان کی ذات میں کثرت پیدا کرنا ہے،مثلاً اگر ہم اسے قادر کہیں  تو لفظ  قادر  یہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ  قدرت اور مقدور علیہ کا بھی تصور ہو، یہی حالت تمام صفات کی  ہے، ایک چیز ثابت کرنے سے دوسری دو چیزیں بھی اس کے ساتھ شریک ہوجاتی ہیں،لہٰذاتمام صفات حقیقت میں اس مبدع اول پر واقع ہوتی  ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا کیا،اور اس کا دوسرا نام عقلِ اول ہے،جب کہ عالمِ جسمانی میں یہ صفات  امام پر صادق آتی ہیں، کیوں کہ وہ عقلِ اول کے مقابل قائم ہے۔

2۔3۔رسالت و ختم نبوت:

بوہری انبیاء  کو نطقاء کہتے ہیں، ان کے ہاں ہر ناطق ایک مستقر امام کا نائب اور قائم  مقام ہوتا ہے جسے صامت کہا جاتا ہے،اور نطقاء کے کل سات ادوار  ہیں،  نبی کے ناطق ہونے کا مطلب یہ ہےکہ اس کا فرض صرف اللہ تعالیٰ کی شریعت کا اظہار ہوتا ہے،جب کہ باطن کی ذمہ داری صامت کی ہوتی ہے،اور ہر صامت کو سابقہ شریعت منسوخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، چنانچہ ساتویں صامت محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق ہیں، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی  ظاہری شریعت کو معطل کیا اور باطن کو کشف کیا، یہی ساتویں وصی اور رسول ہیں،اور یوم آخر میں قائم القیامہ ہیں،یوں یہ قرقہ عقیدہ ختم نبوت کا بھی منکر ٹھہرا۔

4۔کلمہ:

مسلمانوں کا کلمہ "لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ " ہے جب کہ بوہریوں کا کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مولانا علی ولی اللہ وصی رسول اللہ" ہے۔

5۔عقیدہ امامت:

امام معصوم ہوتا ہے،اس سے خطا سرزد نہیں ہوسکتی،امام علمِ خدا کا خازن اور علم نبوت کا وارث ہوتا ہے، ائمہ کو شریعت میں ترمیم وتنسیخ کا اختیار ہوتا ہے، قرآن میں  باری تعالیٰ کی  جو صفات وارد  ہوئی ہیں ان سے حقیقت میں ائمہ موصوف مراد ہیں۔

(ملخص از تاریخ فاطمیین مصر،ص538تا568،ط: دار الطبع حیدرآباد دکن)

ان بنیادی عقائد کے علاوہ یہ لوگ اعلانیہ سود لیتے ہیں، دیوالی کے موقع پر روشنی کرتے ہیں، مسجد ،قبرستان جماعت خانہ وغیرہ سب ان کے مسلمانوں سے  علیحدہ ہیں،  اذان میں "اشہد ان محمدا  رسول اللہ "  کے بعد (اشہد ان مولا علیا ولی اللہ)   کے اضافے کو ضروری سمجھتے ہیں۔

(اسماعیلیہ،ص123،ط:الرحیم اکیڈمی)

مذکورہ  باطل ،شرکیہ اور کفریہ عقائد  کی وجہ سے بوہری فرقہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

 اس وجہ سے کسی سنی لڑکے/لڑکی کا بوہری لڑکے/لڑکی سے  نکاح کرنا شرعًا درست نہیں ہے، لہٰذا سائل کی بیٹی کا نکاح مذکورہ  بوہری لڑکے سے  منعقد ہی نہیں ہوا، مسلمان لڑکی پر ضروری ہے کہ فورًا الگ ہوجائے اور اب تک جو گناہ ہوا ہے  اس سے توبہ و استغفار کرے،اور اس عقد سے جو اولاد ہوگی اس کا نسب بوہری لڑکے سے ثابت نہیں ہوگا،البتہ ماں کے تابع ہوکر مسلمان شمار ہوگا،اب اگر لڑکی كسی اور جگہ نكاح كرنا چاہے تو شرعاً كرسكتی ہے،البتہ قانونی تحفظ حاصل کرنے کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنے سے پہلے  عدالت سے خلع حاصل کرلے،تاکہ پولیس تنگ نہ کرے،اس میں بوہری لڑکے  کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے،یکطرفہ خلع بھی کافی ہے۔

(بوہری فرقے کے عقائد اور بوہری لڑکے سے سنی لڑکی کے نکاح اور اولاد کےنسب کا حکم فتویٰ نمبر : 144305100477)

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے فتاوی میں ہے:

بوہرہ فرقہ اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر کافر ومرتد اور دائرہٴ اسلام سے خارج ہے؛ اس سلسلے میں بعض لوگوں کی بات درست ہے، مسلمان ہونے کے لیے صرف نماز پڑھ لینا یا حج کرلینا کافی نہیں بلکہ اسلام لانے کے بعد ضروریاتِ دین کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے اور عقائد کفریہ وشرکیہ سے براء ت ضروری ہے، ان کے بنیادی عقائد درج ذیل ہیں: (۱) اس جماعت کے بانی محمد برہان الدین طیب کی نسل میں برابر امامت کا سلسلہ چل رہا ہے، اگرچہ امام طیب خود غائب ہیں مگر وہ داعی کو برابر ہدایات دیتے رہتے ہیں اور اماموں کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ ائمہ کرام اللہ تعالیٰ کا نور، مفترض الطاعة اور معصوم ہوتے ہیں، دنیا وآخرت ان کی ملکیت میں ہے جس کو چاہیں دیدیں اور جس چیز کو چاہیں حلال کردیں اور جس چیز کو چاہیں حرام کردیں۔ ظاہر ہے کہ دنیا وآخرت کے خزائن کا مالک ہونا حلال وحرام کرنا یہ اللہ رب العزت کی صفت ہے، غیر اللہ کے لیے اس کو ثابت کرنا شرک ہے۔ (۲) سود لینا جائز ہے۔ (۳) دیوالی (مندر سوار) پر بھی وہ روشنی کرتے ہیں۔ (۴) مسجد، جماعت خانہ، قبرستان سب ان کا جدا ہے۔ (۵) کلمہ میں اضافہ اس طرح کرتے ہیں لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ مولا علي ولي اللہ وصي رسول اللہ۔ (۶ اذان میں ”اشہد ان محمدا رسول اللہ“ کے بعد ”اشہد أن مولا علیا ولی اللہ“ اور حی علی الفلاح“ کے بعد ”حی علی خیر العمل محمد وعلی خیر البشر وعشرتہا علی خیر العمل“ کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ان عقائد کی بنا پر جن میں بعض کفریہ وشرکیہ ہیں، یہ فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے۔

(بوہرہ فرقہ کے لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟ ان کے بنیادی عقائد کیا ہیں؟ جواب نمبر: 64076)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     10جمادی الثانیہ 1447ھ/2 دسمبر 2025 ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:501